شہرِ نبیﷺ، مدینہ منورہ کی رُوح پرور وادی میں داخل ہوتے ہی مسجدِ نبویؐ کے بلند و بالا اور پُرشکوہ میناروں کے درمیان سفید گنبدوں کے جھرمٹ میں سبز رنگ سے مزیّن ’’گنبدِ خضرا‘‘ پر جیسے ہی نظر پڑتی ہے، عاشقانِ مصطفیؐ کے لرزتے لبوں پر عقیدت سے مرعوب، اشکوں میں ڈوبی نگاہوں کے درمیان دُرود و سلام کے نذرانے فضا میں بکھر جاتے ہیں۔
یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عشق و عقیدت کا مرکز اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے۔ پُروقار سبز گنبد (گنبدِ خضرا) مسجدِ نبویؐ کی وہ عظیم الشّان اور مقدّس ترین جگہ ہے، جس کے نیچے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا روضۂ مبارک واقع ہے۔ یہ مقامِ مقدّس مسلمانوں کے دِلوں کی دھڑکن، حبِّ رسول ﷺ کی لازوال نشانی اور دنیا بھر کے زائرین کے لیے امن و سلامتی کا استعارہ ہے۔
لاکھوں کروڑوں مسلمان ہر سال یہاں حاضر ہوکر اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کرتے اور روحانی سکون پاتے ہیں۔ مسجدِ نبویؐ میں بائیں جانب ریاضُ الجَنَّۃ سے منسلک اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کے حجرئہ مبارکہ میں امام الانبیاء، رحمتِ دوجہاں، خاتم النبیّین، سیّد المرسلین، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ، حضور آقائے نام دار ﷺ اپنے دو اصحابِ خاص سیّدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیّدنا عمر فاروقؓ کے ساتھ آرام فرما ہیں اور ان مزاراتِ مقدّس کے عین اوپر امّاں حضرت عائشہؓ کے حجرے کی چھت پر گنبدِ خضرا بڑی آن و شان سے جلوہ افروز ہے۔
روضۂ اقدس پرگنبد کی تعمیر
حضور نبی کریم ﷺ نے 12ربیع الاول 11ہجری کو دارِفانی سے پردہ فرمایا۔ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد 667ء سال تک روضۂ اقدس پر کوئی گنبد نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ مملوکِ مصر، سلطان سیف الدین قلاوون نے 678ہجری بمطابق1279عیسوی میں لکڑی کا ایک خُوب صُورت گنبد بنوایا، جو ’’گنبدِ الصفرا‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
مگر 886 ہجری بمطابق 1481عیسوی میں یہ گنبد آتش زدگی کے باعث شہید ہوگیا، کیوں کہ یہ لکڑی سے تعمیر شدہ تھا۔ پھر 888ہجری میں مملوک سلطان قایتبائی نے سیاہ پتھروں سے ایک گنبد بنواکے اُس پر سفید رنگ کروادیا۔ اسے ’’گنبدِ بیضا‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
اس کے بعد1233ہجری بمطابق 1818 عیسوی میں عثمانی سلطان محمود بن عبدالحمید خان نے سلطان قایتبائی کے گنبد کی جگہ ایک نیا گنبد تعمیر کروا دیا۔ بعدازاں، 1253ہجری بمطابق 1837عیسوی میں اس پر سبز رنگ کروا دیاگیا اور یہ ’’گنبد ِخضرا‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہوا۔ اس کے بعد اس کے آس پاس مزید گنبد بھی تعمیر کیے گئے۔
سلطنتِ عثمانیہ کے حکم راں، سلطان عبدالمجید کی تعمیر کردہ مسجد کے اوپر تمام حصّوں میں گنبد ہی گنبد ہیں۔ البتہ ان کے سائز مختلف اور مجموعی تعداد 179ہے۔ سعودی حکم راں، شاہ فہد بن عبدالعزیز نے مسجدِ نبویؐ میں تاریخ کی سب سے بڑی توسیع کروائی، تو مسجد کی چھت پر 27متحرک گنبد بھی بنوائے، جو بجلی سے حرکت کرتے ہیں۔ یہ مسجد کے اندر روشنی اور ہوا کے کام آتے ہیں۔ یہ گنبد اپنی ساخت اور زیبائش و آرائش میں اپنی مثال آپ ہیں۔ (تاریخِ مدینہ منورہ،صفحہ 112)۔
مزارات کو منہدم کرنے کا فیصلہ
نجد کی ایک چھوٹی سی ریاست ’’درعیہ‘‘ کے حکم ران، سلطان ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل ِسعود نے 1902ء عیسوی میں ریاض فتح کرنے کے بعد 13 اکتوبر 1924ء کو مکہ مکرمہ اور23دسمبر 1925ء کو مدینہ منورہ کا اقتدار سنبھال لیااور پھر8جنوری 1926ء کو سلطان عبدالعزیز نے نجد و حجاز کے مکمل اختیارات سنبھالنے کا اعلان کردیا۔ 1936ء میں ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آلِ سعود نے سارا عرب فتح کرلیا اور حجازِ مقدّس کا نام تبدیل کرکے ’’المملکتہ العربیہ السعودیہ‘‘ رکھ دیا۔
1926ء میں مکّہ و مدینہ کی حکومتی باگ ڈور سنبھالنے کے فوری بعد سعودی علما نے فتویٰ جاری کردیا کہ جنّت المعلیٰ اور جنّت البقیع سمیت ملک میں موجود تمام مزارات منہدم کردیئے جائیں، کیوں کہ اُن کی تعمیر شرک و بدعت ہے، چناں چہ سلطان عبدالعزیز کی حکومت نے علماء کے اس فتوے پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا۔
8شوال 1344 ہجری بمطابق 1926عیسوی کو سعودی حکومت نے علماء کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام، آلِ رسول ﷺ، امّمات المومنینؓ، جلیل القدر صحابہ اکرامؓ، تابعین اور دیگر اصحابِ اجمعین کے مزاراتِ مقدّسہ پر تعمیر کیے گئے قبوں سمیت تمام اسلامی و تاریخی ورثہ مسمار کرکے قبروں کی اونچائی ختم کردی۔
گنبدِ خضرا کے فیصلے پر اُمّتِ مسلمہ کا شدید ردّعمل
مسلمانانِ عالم، مزاراتِ مقدّسہ مسمار کرنے کے سعودی حکومت کے اقدام پر سراپا احتجاج تھے کہ سعودی علماء نے روضہ ٔرسول اللہ ﷺ پر موجود گنبدِ خضرا کو مسمار کرنے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔ اس سے پہلے کہ سعودی حکومت اس پر عمل پیرا ہوتی، اُمّتِ مسلمہ پر سعودی علماء کا یہ مشورہ بم بن کر گرا۔قوم آلِ سعود کے پچھلے اقدام پر سخت ناراض و نالاں تھی کہ اس مزید مشورے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پورے عالمِ اسلام میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی۔
دنیا بھر میں سعودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوگیا۔ نوزائیدہ سعودی حکومت کو عالمِ اسلام کے اس قدر شدید ردِّعمل کا اندازہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ آلِ سعود کے اقتدار کے خاتمے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا۔ ویسے بھی بزرورِ طاقت و سازش، سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کا زخم ابھی اُمّتِ مسلمہ کے دلوں میں تازہ تھا کہ اچانک مدینے پر اپنے اقتدار کے پہلے سال ہی سعودی حکم رانوں نے شرک اور بدعت کے نام پر انتہائی نازک اور حسّاس نوعیت کا معاملہ چھیڑ دیا۔مگر جب بات گنبدِ خضرا کے تقدّس تک پہنچی، تو اُمّتِ مسلمہ کے بھڑکے ہوئے جذبات کی شدّت نے تختِ سعود کے ایوانوں پر لرزہ طاری کردیا، جس کے بعد بادشاہ کو اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرنی پڑی۔
عالمی اسلامی کانفرنس کا انعقاد
شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن ایک زیرک سیاست دان تھے۔ انہوں نے معاملے کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر دنیا بھر کے ممتاز علمائے کرام اور مفتیان سے مشورے کا فیصلہ کرکے اُسی سال یعنی ذوالحجہ1344ہجری ،بمطابق 1926عیسوی کو موتمر عالمِ اسلامی کی ایک کانفرنس طلب کرلی۔ بادشاہ نے دنیا بھر کے مستند علماء و مفتیانِ کرام کو کانفرنس میں شرکت کے دعوت نامے دینے کے لیے مختلف وفود روانہ کردیے۔
تاریخی کتب میں دی گئی تفصیل کے مطابق، دنیا بھر سے67علماء نے اس کانفرنس میں شرکت کی، جن میں ہندوستان سے 13، روس سے 9، مصر سے 4، یمن سے 2، لبنان سے 3، جاوا سے 4، فلسطین سے3، ترکی سے 2، شام سے 2، افغانستان سے 3، سوڈان سے 1، حجاز سے 16اور نجد سے 5علما ء شریک ہوئے۔
ہندوستان سے جن علماء نے شرکت کی، اُن میں جمعیت علمائے اسلام کے پانچ اکابرین شامل تھے۔ مفتیٔ اعظم ہندوستان، حضرت مولانا کفایت اللہ دہلوی، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا عبدالحلیم صدیقی اور مولانا محمد عرفان سمیت آل انڈیا اہلِ حدیث کانفرنس کے چار علما، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا سیّد اسماعیل غزنوی، حافظ حمید اللہ دہلوی اور مولانا عبدالواحد غزنوی کے علاوہ مرکزی مجلس خلافت کے بھی چار نمائندے ،حضرت مولانا سیّد سلیمان ندوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور محمد شعیب قریشی کانفرنس میں شریک تھے۔
اس موقعے پر ہندوستان کے تمام علماء نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ علمائے ہند کے ترجمان علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ ہوں گے۔ ان 67علما ء میں سے21علماء حجاز ونجد سے تھے، تاکہ بادشاہ کا دفاع کرتے ہوئے اپنے موقف کی تائید میں دلائل دے سکیں۔
گنبدِ خضرا کی حفاظت اور مولانا شبّیر احمد عثمانی کا کردار
کانفرنس کا آغاز بادشاہ، ملک عبدالعزیز آلِ سعود کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا۔ ’’ہم کانفرنس میں شریک تمام علمائے کرام کو سعودی سرزمین پر خوش آمدید کہتے ہیں، اور اُن کے انتہائی ممنون ہیں کہ انہوں نے اس اہم کانفرنس میں شرکت فرمائی۔ سعودی حکومت کا مقصد مملکتِ سعودیہ میں ایک مکمل اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ اپنی مملکت میں ہم چاروں اماموں کے فروعی اختلافات میں کوئی مداخلت نہیں کرتے، لیکن اصل توحید اور قرآن و سنّت کی اتباع سے کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کرسکتی۔
خواہ دنیا راضی ہو یا ناراض۔‘‘ بادشاہ نے تقریر کے دوران اپنے موقف کی حمایت میں تاریخی واقعات پر مشتمل کچھ دلائل بھی پیش کیے۔ ہندوستان کے علما ءکی جانب سے علامہ شبّیر احمد عثمانیؒ نے سلطان ابنِ سعود کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے سب سے پہلے کانفرنس کے انعقاد، علماء کی پزیرائی اور مہمان نوازی پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
ان کی پوری تقریر عربی زبان میں تھی، انھوں نے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’بادشاہِ محترم! ہندوستان کے علماء پوری بصیرت کے ساتھ تصریح کرکے کتاب اللہ اور سنّت رسول اللہﷺ کے اتباع پر پورا زور صرف کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے مکمل اتباع ہی میں کام یابی ہے، لیکن کتاب اللہ اور سنّت ِرسول اللہ ﷺ کے مواقع اور فہم و استنباط کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔
اس کے لیے صائب رائے افراد اور صحیح اجتہاد کی اشد ضرورت ہے۔‘‘ دورانِ تقریر آپ نے ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا، جس میں فرمایاگیا ہے کہ ’’اے عائشہؓ اگر تمہاری قوم (قریش) زمانۂ کفر سے نئی نئی نہ نکلی ہوتی، تو میں خانۂ کعبہ کو ابراہیمی ؑ بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرتا۔‘‘ یہاں رسول اللہﷺ دین میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے رک گئے، تاکہ دنیا والے یہ نہ کہیں کہ حضرت محمدﷺ نے خانہ کعبہ ڈھا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کفار و منافقین سے جہاد کرو اور اُن پر سختی کرو، دوسری طرف آپؐ نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھا دی۔
صحابہ نے منافقین کو قتل کرنے کی اجازت چاہی، تو آپؐ نے نہیں دی، اس لیے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ حضرت محمدﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ مسجد نبوی ؐ کی توسیع کے لیے اُمّہات المومنینؓ کے حُجروں کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے حُکم سے گرادیا گیا۔ اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ بھی گرادیا گیا، جس سے حضور نبی کریمﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عُمر فاروقؓ کے قبریں ظاہر ہوگئیں، تو اُس وقت حضرت عُمر بن عبدالعزیزؒ اتنا روئے کہ ایسے روتے پھر کبھی نہ دیکھے گئے۔
حالاں کہ حجرات گرانے کا حکم بھی انھوں نےخود ہی دیا تھا، پھر اپنی نگرانی میں سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ دوبارہ تعمیر کروایا۔‘‘ علّامہ شبّیر احمد عثمانیؒ نے مزید عقلی اور شرعی دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’دینی معاملات میں فیصلے کرتے وقت مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہُما و شُما کے بس کی بات نہیں، ایسے مواقع پر فیصلے کرنے کے لیے بڑے تفّقہ (دین کی گہری سمجھ) اور مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کہ نص (کسی چیز کا ظاہر ہونا، واضح ہونا، یا متعین ہونا)کے تقاضے پر کہاں عمل کیا جائے گا؟ اور کس طرح عمل کیا جائے گا؟
یہ تفّقہ اور اجتہاد کی بات ہے۔‘‘ آپ نے مزید فرمایا۔’’ گنبدِ خضرا، اُمّ المومنین، سیّدہ عائشہؓ کے گھر کے اوپر بنایا گیا ہے، وہ کون سا قانون ہے، جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی کے گھر کو بلاجواز مسمار کردیا جائے۔چناں چہ ہم سعودی حکم رانوں کو متنبہ کردینا چاہتے ہیں کہ وہ ہرگز کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائیں، جو اُمّتِ مسلمہ کو مشتعل کرنے کا باعث ہو۔‘‘
علّامہ کی تقریر گویا فصاحت و بلاغت کا وہ بہتا دریا تھا کہ جس کی روانی نے دِلوں میں موجودتمام شکوک و شبہات بہا دیئے۔ الفاظ کا تیز دھار نشتر، مستند دلائل سے بھرپور گفتگو نے بادشاہ سمیت حاضرینِ مجلس کو اس قدر متاثر کیا کہ ہر شخص ہمہ تن گوش ہوکر نہایت اطمینان و سکون سے علّامہ کی بات سن رہا تھا۔
گنبدِ خضرا کا تقدّس برقرار رہا
علّامہ شبّیر احمد عثمانی کے مفصّل و مدلّل جواب سے شاہی دربار پر سنّاٹا چھا گیا، آخر میں سلطان ابنِ سعود نے علّامہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔ ’’آپ کے دلائل میں بہت رِفعت اور علمی بندی ہے، مَیں ان باتوں کا جواب دینے سے قاصر ہوں، ہمارے علماء ان تفاصیل کا بہتر جواب دے سکیں گے۔‘‘ اس موقعے پر وہاں موجود سعودی علماء سے مشورہ مانگا گیا، تو سب کی متفقہ رائے تھی کہ اس مفصّل گفتگو کے بعد اب مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
علّامہ عثمانی کی عملیت سے بھرپور، پُراثر عربی زبان میں فی البدہیہ دو گھنٹے کی تقریر نے ملّتِ اسلامیہ کو ایک بڑے فتنے سے بچالیا اور اُن کا یہ عظیم کارنامہ تاریخِ اسلام میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ بعدازاں،14اگست 1947ء کو جب اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا، تو اس موقعے پر بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کراچی میں علّامہ عثمانی کے ہاتھوں پرچم کشائی کی رسم منعقد کروائی۔
نیز، قائدِاعظم کی نمازِ جنازہ بھی علامہ شبّیر احمد عثمانیؒ نے پڑھائی، اُمّتِ مسلمہ کے یہ عظیم فرزند 13 دسمبر 1949ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے اور کراچی کے اسلامیہ کالج کے احاطے میں آسودئہ خاک ہوئے۔؎ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے.....سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہہ بانی کرے۔