وہ ماہ ِرجب، 60ہجری کا ایک سیاہ دن تھا کہ جب شام کے شہر دمشق میں تکبّر اور نخوت کا پیکر یزید بن معاویہ مسندِ خلافت پر براجمان ہوا اور خلافت کی بساط لپیٹ کر ملوکیت کی بنیاد رکھی۔ یوں اسلامی تعلیمات کے منافی فسق و فجور، ظلم و جبر، ناانصافی اور عہد شکنی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ یزید کی اس خودساختہ بادشاہت نما خلافت کو دمشق کے سوا پو ری امّتِ مسلمہ سے کہیں بھی حمایت حاصل نہ تھی۔
حجازِ مقدّس سمیت عالمِ اسلام کے تمام بڑے مراکز میں عام رائے تھی کہ یہ شخص امّت کی رضا و رغبت کے بغیر جبراً مسلّط ہوا ہے۔ غرور و تکبّر کے نشے میں چُور یزید کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت تھی، وہ مطلق العنان حکم رانی کا خواہاں تھا، لہٰذا اُس نے اپنے تمام کارندوں کے ذریعے عالمِ اسلام سے بزور جبر اپنے حق میں بیعت لینا شروع کردی۔ اُس وقت مدینے میں یزید کا چچازاد بھائی ولید بن عتبہ گورنر تھا۔
یزید نے اُسے ایک مختصر سا حُکم نامہ ارسال کیا، جس میں تحریر تھا کہ حسین ابنِ علیؓ، عبداللہ ابن زبیرؓ اور عبداللہ ابن عمرؓ کو ہماری بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے، اگر وہ نہ مانیں، تو اُنھیں گرفتار کرکے اس قدر سختی کی جائے کہ بیعت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ حضرت امام حسینؓ کو جب اس حکم نامے کی اطلاع ملی تو اُنھیں یقین ہوگیا کہ یہ لوگ اب بہ زورِ طاقت بیعت لینے کی کوشش کریں گے، اس طرح مدینے میں خون ریزی ہوسکتی ہے۔
امامِ عالی مقام،حضرت امام حسینؓ ، مدینہ جیسے پُرامن شہر میں کسی طرح کا بھی فساد یا خوں ریزی نہیں چاہتے تھے، چناں چہ آپؓ نے مدینہ منورہ سے ہجرت کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بھی اس خبر کے بعد مدینے سے مکّۂ مکرمہ روانہ ہوچُکے تھے۔ حضرت امام حسین ؓ نے مدینے سے روانگی سے قبل اپنے تمام احباب سے الوداعی ملاقاتیں کیں، جن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی تھے، جنہوں نے آپؓ کو مدینہ جانے سے منع فرمایا۔
امام عالی مقام ؓ نے فرمایا۔ ’’اے ابنِ عمر! مجھے یقین ہے کہ یزید کے حکم کے مطابق یہ لوگ مجھ سے بزورِ طاقت بیعت لینا چاہیں گے، یہاں میرے چاہنے والے بھی موجود ہیں اور مَیں نہیں چاہتا کہ میرے نانا ؐ کے پُرامن شہر میں خون بہے۔‘‘ اس ملاقات میں حضرت امام حسینؓ نے انہیں وہ خطوط بھی دکھائے، جو ہزاروں کی تعداد میں کوفہ اور گردونواح سے اُنھیں موصول ہورہے تھے، جن میں اُنہیں کوفہ آنے کی دعوت دی گئی تھی۔
خطوط کا یہ سلسلہ یزید کے جانشین نام زد ہونے کے بعد ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے فرمایا۔ ’’دیکھیے، آپ ان لوگوں کے پاس نہ جایئے گا، یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے آپ کے والد محترم سیّدنا علی مرتضیٰؓ کو شہید کیا تھا۔ یہ لوگ قابلِ بھروسا نہیں۔‘‘ وقتِ رخصت ابن عمرؓ اُنھیں گلے لگاکر خُوب روئے اور فرمایا۔ ’’اے شہید! تجھے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ (مجمع الزوائد، حدیث 15130)
حضرت امام حسینؓ کی مکۂ مکرّمہ ہجرت
اتوار 27یا 28رجب کو سیّدنا، امام عالی مقامؓ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکّہ روانہ ہوئے۔ گورنر مدینہ، ولید بن عتبہ میں اتنی ہمّت نہ تھی کہ آپ کو گرفتار کرپاتا۔ جمعہ 3یا4شعبان کو آپ مکّۂ مکرّمہ پہنچے۔ یہاں آپ 4 ماہ 5 دن، یعنی3 ذوالحجہ تک مقیم رہے اور حالات و واقعات پر غور و فکر کرتے رہے۔ اس تمام عرصے میں آپ کو کوفہ سمیت گردونواح کے شہروں، قصبوں سے تواتر کے ساتھ خطوط موصول ہوتے رہے۔
حاجیوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔ لوگ جُوق در جُوق آپ سے ملاقات کرکے کوفہ تشریف لے جانے کی درخواست کررہے تھے۔ امام حسین ؓ کے ذہن میں ایک خیال یہ بھی تھا کہ کیا نانا کی اُمّت کو فاسق و فاجر حاکم کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب ہے؟ اور کیا روزِ محشر مجھ سے اس کا جواب طلب نہیں کیا جائے گا؟
اِدھر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، امام حسین ؓ کو مکّے ہی میں قیام کا مشورہ دے رہے تھے، لیکن امام عالی مقام ؓ کو اس بات کا یقین تھا کہ حج کے اختتام پر مکّے سے حاجیوں کے چلے جانے کے فوری بعد یزید پوری قوّت سے مکّے پر حملہ آور ہوگا۔ چناں چہ فرمایا۔ ’’اے ابن زبیر! میں کہیں بھی قتل کردیا جائوں، یہ مجھے پسند ہے، مگر مجھے یہ گوارا نہیں کہ میری وجہ سے اللہ کے اس مقدّس شہر کی عظمت پامال ہو۔‘‘ (تاریخ اُمّتِ مسلمہ، 469/2)۔
اور ایسا ہی ہوا، حج کی ادائی کے بعد جوں ہی حجاج ِکرام مکّے سے اپنے علاقوں کو روانہ ہوئے، یزید کے نئے گورنر، عمرو بن سعد نے دو ہزار جنگجوئوں کے ساتھ مکّے پر حملہ کردیا۔ یہ الگ بات کہ عبداللہ بن زبیرؓ نے مکّے کے شہریوں کی مدد سے اُنہیں مار بھگایا۔ (تاریخ ِطبری، 345/5)۔
مسلم بن عقیل کی کوفہ آمد
جو لوگ امام عالی مقام ؓ کو کوفہ آنے کا مشورہ دے رہے تھے، اُن میں سے بعض بڑے مشہور و معروف نیک نام بھی تھے۔ اطلاعات یہ تھیں کہ پورا عراق یزید کے کنٹرول سے باہر ہے، صرف کوفہ میں ایک لاکھ مسلّح افراد حضرت امام حسینؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور ان پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ اگر اس وقت اُنھیں اُن کے حال پر چھوڑ دیا اور کوئی رہنمائی نہ کی گئی، تو شدید خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے اور اُمّتِ مسلمہ کا امن و امان تہ و بالا ہوجائے گا، لیکن کوفے کے باشندوں کے حوالے سے ایک عام تاثر یہ بھی تھا کہ وہ بنو ہاشم سے محبّت تو کرتے ہیں، لیکن کم زور ارادوں کے مالک ہیں اور اپنی بزدلی کی بِنا پر صاحبِ اقتدار لوگوں سے ٹکرانے کی ہمّت نہیں رکھتے۔
بہرحال، بالآخر اہلِ عراق کے بے حد اصرار اور اُس وقت کی صُورتِ حال کے پیشِ نظرحضرت امام حسینؓ نے اپنے چچازاد بھائی، مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا، تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہاں کی صُورت حال دیکھ کر مطلع کریں۔ مسلم بن عقیل کوفہ روانہ ہوگئے اور وہاں ہانی بن عروہ کے مہمان ہوئے۔ اُس وقت کوفہ کے گورنر ایک صحابی نعمان بن بشیر تھے۔
انہوں نے مسلم بن عقیل کی آمد اور اُن کے عزائم سے واقفیت کے باوجود اُن پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔ مسلم بن عقیل کی آمد کے پہلے ہی دن اہلِ کوفہ کی بڑی تعداد اُن کے گرد جمع ہوگئی۔ لوگ ٹولیوں کی شکل میں جُوق در جُوق آتے اور بیعت کرکے واپس چلے جاتے۔ اس صُورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ نے حضرت امام حسینؓ کو خط لکھا کہ’’ کوفے کے تمام لوگ آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی آمد کے منتظر ہیں، اب تک بارہ ہزار افراد بیعت کرچکے ہیں۔ جوں ہی آپ کو میرا خط ملے، کوفہ تشریف لے آئیں۔‘‘
مسلم بن عقیل کی شہادت
طویل فاصلہ ہونے کی بِنا پر مسلم بن عقیل کا خط ملنے میں تین چار ہفتوں کی تاخیر ہوگئی۔ اسی دوران کوفے کے حالات تبدیل ہوگئے۔ یزید کو اطلاع ملی کہ نعمان بن بشیر کی نرم دلی کی وجہ سے بغاوت کا خطرہ ہے۔ چناں چہ یزید نے اُنھیں معزول کرکے بصرہ کے سفّاک گورنر، عبیداللہ ابن زیاد کو کوفے کا گورنر مقرر کرکے مسلم بن عقیل اور اس کے حامیوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کردیا۔
عبید اللہ بن زیاد ایک ظالم و جابر شخص تھا۔ وہ فوری طور پر بصرہ سے کوفہ پہنچا، مخبروں نے بتایا کہ مسلم بن عقیل اس وقت ہانی بن عروہ کے مکان میں مقیم ہیں۔ اس نے دونوں کو گرفتار کیا اور انہیں شہید کرکے ان کی لاشوں کو اپنے محل کی چھت سے لٹکادیا، تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ اور ایسا ہی ہوا، اہلِ کوفہ بزدلی، خوف اور بے بسی کی تصویر بنے شہادت اور لاشوں کی بے حُرمتی کا رُوح فرسا منظر دیکھتے رہے۔
امام حسینؓ کی کوفہ روانگی
حضرت امام حسین ؓ کی کوفہ روانگی کی تاریخ کچھ مفسرین نے 3ذوالحجہ بروز دوشنبہ اور کچھ نے 8ذوالحجہ 60ہجری لکھی۔ امام خلیفہ بن خیاط ؒ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کا قافلہ مکّہ مکرّمہ سے دو منازل آگے مشہور مقام، ’’ذاتِ عرق‘‘ پہنچا۔ (وادی العقیق کے کنارے عرق نامی پہاڑ کے دامن میں واقع اس مقام کو رسول ِاکرمﷺ نے حج و عُمرہ کے لیے ’’میقات‘‘ قرار دیا تھا)۔
یہاں حضرت امام حسین ؓکی ملاقات مشہور عرب شاعر، فرزدق سے ہوئی جو عراق سے حج کے لیے مکّہ جارہا تھا۔ حضرت حسین ؓ نے اس سے اہلِ کوفہ کے حالات دریافت کیے تو وہ بولا۔’’امام محترم! لوگوں کے دل آپ کے ساتھ اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ۔‘‘ (تاریخ خلیفہ بن خیاط، صفحہ 231)۔حضرت امام حسینؓ کو ابھی تک نہ حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم تھا اور نہ ہی گورنر کی تبدیلی کا۔
قافلہ، کوفے کے راستے قادسیہ سے تین میل کے فاصلے پر ’’مقام ِشرف‘‘ پر پہنچا تو آپ کا سامنا حر بن یزید تمیمی سے ہوا، جو ابنِ زیاد کے حکم پر ایک ہزار افواج کے ساتھ آپ ہی کی تلاش میں تھا۔ یہ بھی ان لوگوں میں شامل تھا، جنہوں نے آپ سے کوفہ آنے پر اصرار کیا تھا، لیکن اب یہ یزید کے ساتھ تھا۔ وہ آپؓ سے ملا اور گورنر کی تبدیلی سمیت حضرت مسلم کی شہادت اور کوفے میں حالات کی تبدیلی کی پوری رُوداگوش گزار کی اور کوفہ جانے سے سختی سے منع کیا۔
اس کا کہنا تھا کہ’’ آپ واپس چلے جائیں، کوفے میں آپ کے لیے خیر کی کوئی امید نہیں۔‘‘ حضرت امام حسینؓ نے واپس مکّہ مکرمہ جانے کا ارادہ فرمایا، لیکن حضرت مسلم کی شہادت کی خبر سُن کر اُن کے بھائیوں نے واپس جانے سے انکار کردیا۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر آپؓ نے یزید کے پاس دمشق جانے کا فیصلہ کیا اور لشکر کا رُخ شام کی جانب کرلیا اور پھر45میل کا سفر طے کرکے کربلا پہنچے۔
کربلا میں قیام
2محرم 61ہجری کی ایک اداس صبح آپ کا قافلہ کربلا پہنچا۔ دریائے فرات کے کنارے خیمے نصب کردیے گئے۔ آپ کا خیال تھا کہ کچھ دیر یہاں قیام کرکے دمشق روانہ ہوجائیں گے اور یزید کو اپنے موقف سے آگاہ کریں گے۔ ابھی خیمے نصب ہوئے، کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ عبید اللہ ابن زیاد کے فوجی وہاں پہنچ گئے اور وہاں سے خیمے ہٹاکر پورے قافلے کو دریائے فرات سے تین میل دُور لق ودق صحرا میں دھکیل دیا۔
حضرت امام حسین ؓ نے یہاں سے کُوچ کرنے کا ارادہ کیا، لیکن معلوم ہوا کہ ہزاروں کی تعداد میں کوفی فوجیوں نے قافلے کا محاصرہ کرلیا ہے اور اب یہاں سے کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے، آپ نے اس جگہ کا نام معلوم کیا، بتایا گیا کہ اسے ’’کربلا‘‘ کہتے ہیں۔ آپؓ نے آب دیدہ ہوکر فرمایا۔’’ یہی جگہ ہماری مقتل ہے۔محاصرے پرچار ہزار کوفی فوجی مامور تھے۔ عمرو بن سعد ان کا سالار تھا۔ صورتِ حال کودیکھتے ہوئے آپؓ نے اس کے سامنے تین شرائط رکھیں۔
اوّل، واپس مکّہ یا مدینہ جانے دیا جائے۔دوم،کسی سرحدی مقام کی جانب نکل جانے دیا جائے۔سوم، یزید کے پاس جانے دیا جائے۔ عمرو بن سعد نے یہ شرائط ابن زیاد کو لکھ بھیجیں۔ ابنِ زیاد نے ان تینوں سے انکار کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ کی غیر مشروط گرفتاری پر اصرار کیا (تاریخِ طبری، 389/5)
اس کے ساتھ ہی ابنِ زیاد نے اپنے جیسے ایک انتہائی فاسق و فاجر اور سفّاک شمر بن ذی الجوشن کو نیا سالار بنا کر کربلا بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اگرامام حسینؓ، یزید کی بیعت نہیں کرتے تو اُن کا اور اُن کے ساتھیوں کا سر قلم کردیا جائے۔
حضرت امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں یزیدی فوج کو کوفہ والوں کے خطوط اور پیغامات دکھائے اور فرمایا۔’’اگر تم لوگ میری آمد سے ناخوش اور میرے ارادوں سے خوف زدہ ہو، تو مجھے چھوڑ دو، تاکہ میں واپس چلا جاؤں۔‘‘ آپؓ نے مزید فرمایا۔ ’’اگر تم نے وہ خطوط اور وعدے فراموش کر دیے ہیں، جو تم نے مجھے لکھے تھے، تو یہ خطوط کی بوریاں تمہارے خلاف گواہ ہیں۔ تم مجھے شہید کرنا چاہتے ہو، تو اپنا یہ شوق بھی پورا کرلو، میرے نزدیک یزید کی بیعت کرنے سے اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا کہیں بہتر ہے۔‘‘
حضرت عباس علَم دار کی شہادت
محرم الحرام کی سات تاریخ کو شقی القلب ابنِ زیاد نے ایک نیا حکم جاری کیا۔ اس نے عمرو بن الحجاج کی قیادت میں 500 یزیدی فوجیوں کو بھیج کر لشکرِ حسین کا پانی بند کردیا اور دریائے فرات پر سخت ترین پہرا لگا دیا گیا۔ خیموں میں خواتین کے علاوہ معصوم شیرخوار بچّے اور علیل، زین العابدین بھی تھے۔8محرم الحرام کا سورج طلوع ہوچکا تھا۔ پیاس کی شدّت سے معصوم بچّوں کے چہرے کملائے ہوئے، لیکن لب خاموش تھے، سوکھی زبانوں پر کانٹے پڑ گئے تھے، لیکن کوئی شکوہ نہ تھا۔
آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن لبوں پر کوئی شکایت نہ تھی۔ خیموں میں پانی کی بندش کئی روز سے تھی، یہاں تک کہ حضرت زین العابدینؓ کے پاس دوا نگلنے یا پیاس بُجھانے کے لیے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ تھا۔ لشکرِ حسینؓ کے علَم بردار، حضرت عباس ابن علیؓ نے بچّوں کی تشنہ لبی دیکھی، تو تڑپ اُٹھے، مشکیزہ اٹھایا، برہنہ تلوار ہاتھ میں لی اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر روانہ ہونے لگے۔ امامِ عالی مقامؓ نے پوچھا۔ ’’اے ابوالفضل! کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ جواب دیا۔ ’’بچّوں کے لیے پانی لینے دریائے فرات جارہا ہوں۔‘‘
آپ نے فرمایا۔ ’’ابو الفضل! تلوار میان میں رکھ لو، خیال رہے کہ ہم یہاں اپنے نانا ؐ کے دین کی سربلندی کے لیے آئے ہیں، ہمارا مقصد جنگ و جدل نہیں۔‘‘ بڑے بھائی کے حکم پر تلوار میان میں رکھی اور گھوڑا سرپٹ دوڑاتے ہوئے دریائے فرات کے کنارے پہنچ گئے۔ یزیدی فوج کے کوفی سپاہی نہ صرف آپ کو جانتے تھے، بلکہ جنگوں میں آپ کی شجاعت و بہادری کے کارناموں سے بھی واقف تھے، کسی میں اتنی ہمّت نہ تھی کہ آپؓ کا سامنا کرتا۔
حضرت عباس علَم بردار نے مشکیزہ بھرا، لیکن خود پانی نہ پیا کہ پانی پینے کا پہلا حق لشکر کے معصوم بچّوں کا تھا۔ آپ نے مشکیزہ دائیں کاندھے پر لٹکایا، ایک نظر یزیدی فوج پر ڈالی، جو نظریں جُھکائے کھڑی تھی۔ عمرو بن الحجاج نے جب یہ منظر دیکھا، تو اپنے فوجیوں کو حملے کا حُکم دےدیا۔ سیّدنا عباسؓ کچھ ہی دُور گئے تھے کہ پیچھے سے تِیروں کی بوچھاڑ ہوگئی۔ ہاتھ میان میں رکھی تلوار پرگیا، لیکن بڑے بھائی کا حکم یاد آگیا کہ ہم یہاں جنگ کے لیے نہیں آئے۔
یزیدی فوجی قریب آچکے تھے، اُن میں سے ایک نے مشکیزے والے ہاتھ پر بھرپور وار کیا، ہاتھ بازو سے کٹ گیا، لیکن سیّدنا عباسؓ نے مشکیزہ دوسرے ہاتھ میں لے لیا، وہ ہاتھ بھی بازو سے کاٹ دیا گیا، آپؓ نے مشکیزہ دانتوں سے پکڑ لیا، لیکن اُس وقت تک مشکیزے میں سیکڑوں سوراخ ہوچُکے تھے۔ حضرت عباس علم دارؓ نے ایک الوداعی نظر خیموں کو جانے والے راستے پر ڈالی، جہاں معصوم سکینہؓ چھے ماہ کے علی اصغرؓ کو گود میں لیے چچا کی منتظر تھی، جو پانی لانے والے تھے۔
حضرت عباس علم دارؓ شجاعت و بہادری، ایثار و وفاداری کے پیکر، اعلیٰ بصیرت کے مالک، عظیم جنگجو، تِیر اندازی، تلوار بازی اور شہ سواری کے بادشاہ تھے، آپؓ نے اپنے والدِ محترم سیّدنا علی مرتضیٰ ؓ کے ساتھ کئی جنگوں میں دادِ شجاعت حاصل کی، دنیا کے واحد شہید، جو شہادت کے بعد غازی کہلائے۔ میدانِ کربلا کے اس پہلے شہید نے 34 سال کی عُمر میں شہادت پائی۔
نانا ؐ کے دین پر قربان
یومِ عاشور کی صبح نمازِ فجر کے بعد امامِ عالی مقامؓ نے دیکھا کہ ہزاروں کی تعداد میں مسلّح کوفی فوجیوں نے خیموں کو چاروں جانب سے گھیر رکھا ہے۔ آپ کو اندازہ ہوگیا کہ آج اُن کے ارادے ٹھیک نہیں۔ چناں چہ آپ نہتّے اُن فوجیوں کے قریب چلے گئے اور نہایت دل گداز لہجے میں مخاطب ہوئے۔’’اے کوفے کے لوگو! تم سب جانتے ہوکہ میں رسول اللہ ﷺ کا نواسہ، فاتحِ خیبر، حیدرِ کرار، علی المرتضیٰؓ، شیرِ خدا کا لختِ جگر اور خاتونِ جنّت سیّدہ فاطمۃ الزہراؓ کا جگرگوشہ ہوں۔ تم واقف ہوکہ رسول اللہﷺ ہم دونوں بھائیوں کو جنّت کا سردار کہا کرتے تھے۔ تم سب نے مجھے خطوط لکھ کر بلوایا۔
تمہارے بے حد اصرار پر مَیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ یہاں آیا، لیکن تم سب اب اپنے اُن وعدوں سے پِھر چکے ہو اور مجھے اور میرے لوگوں کو شہید کرنے کے درپے ہو، مَیں اب بھی یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے جنگ نہ کرو اور مجھے واپس مکّہ یا مدینے جانے دو۔‘‘ ایک طویل پُراثر تقریر کے بعد امامِ عالی مقامؓ نے فرمایا۔‘‘ اللہ کا شُکر ہے، مَیں نے تم پر حجّت پوری کردی۔‘‘
اس کے بعد آپ واپس خیموں کی جانب آئے، تو دیکھا کہ لشکرِ حسینی کے تمام مرد صف آرا ہیں، ابھی چند لمحات ہی گزرے تھے کہ یزیدی لشکر سے ایک شخص گھوڑا،سرپٹ دوڑاتا ہوا امام حسینؓ کے پاس آگیا، آپؓ نے پوچھا۔ ’’تُو کون ہے؟‘‘ جواب دیا۔ ’’مَیں حُر بن یزید ہوں، مَیں ہی آپ کو گھیر کر میدانِ کربلا تک لایا تھا، لیکن اب مَیں اپنی خطا پر شرمندہ ہوں۔‘‘
شمر بن ذی الجَوشَن نے جب یہ دیکھا، تو اُسے فکر ہوئی کہ کہیں فوج میں بغاوت نہ ہوجائے، اُس نے عمرو بن سعد سے کہا۔ ’’دیر کیوں کرتا ہے، جنگ کا آغاز کر۔‘‘ عمرو بن سعد نے لشکرِ حسینؓ کی جانب ایک تِیر پھینکا، یوں کرب و بلا کا آغاز ہوگیا۔ حضرت امام حسینؓ کے ہم راہیوں نے میدانِ کربلا میں کوفی فوجیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔
انہوں نے خانوادئہ علی مرتضیؓ کو اُس وقت تک میدان میں نکلنے نہ دیا، جب تک ایک ایک کرکے سب شہید نہ ہوگئے، اُن کے بعد مسلم بن عقیل کے لوگ میدانِ جنگ میں شجاعت و بہادری کے تیور دکھاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ حضرت امام حسینؓ کے بیٹے علی اکبرؓ نے یزیدی لشکر کے سیکڑوں کوفویوں کو جہنم رسید کرکے جام ِشہادت نوش کیا۔ اب آپ کے بھائی عبداللہ، محمد، جعفر، عثمان، عون میدان جنگ میں آئے اور بہت سے کوفیوں کو واصل ِجہنم کرتے ہوئے خود بھی شہید ہوگئے۔
آخر میں آپؓ کے نوعمر صاحب زادے، علی اکبرؓ تلوار لہراتے ہوئے آئے اور دشمن کی صفوں کو تہ و بالا کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اب سیّدنا امام عالی مقامؓ تنہا رہ گئے تھے، خانوادئہ حسینؓ کا ایک ایک فرد، نانا ؐ کے دین پر قربان ہوچکا تھا۔ خیموں کی اوٹ سے حسینی گھرانے کی غم زدہ خواتین بھی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کے درمیان یہ رُوح فرسا منظر دیکھ رہی تھیں۔
شہادتِ امام عالی مقامؓ
خیمےمیں ابھی دو مرد باقی تھے، ایک بیمار و لاغر امام زین العابدین اور دوسرے چھے ماہ کے علی اصغرؓ، آپ نے امام زین العابدینؓ کے ماتھے کا بوسہ لیا۔ علی اصغرؓ کو گود میں اٹھاکر ابھی دروازے تک ہی آئے تھے کہ ایک تِیر آیا اور شیر خوار شہزادہ بھی والد کے ہاتھوں میں شہید ہوگیا۔
آپؓ نہایت برق رفتاری سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، شمشیرِ حیدری کو داہنے ہاتھ میں پکڑا اور یزیدی فوجوں کی صفوں کو چہرتے ہوئے اندر پہنچ گئے، میدانِ جنگ میں چاروں جانب موت رقصاں تھی، یوں محسوس ہوتا تھا کہ آج وادئ کربلا، یزیدیت کے قبرستان میں تبدیل ہوجائے گی۔
اچانک دُور کہیں سے اذان کی آواز آئی۔ آپؓ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور بہ آوازِ بلند، نماز پڑھنے کی مہلت مانگی، آپؓ کا پورا جسم زخموں سے چُور تھا، لیکن وقتِ نماز تھا، ابھی جسمِ اطہر سجدے میں تھا کہ سفّاک شمر ذی الجوشن کے حکم پر شقی القلب سنان بن انس نے سرِ مبارک کو جسمِ اطہر سے الگ کردیا۔(اِنّا لِلہ وَاِنا الیہ راجعون)۔
ابن ِزیاد کے حکم سے بارہ گھڑ سواروں نے اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے آپ کے جسم اطہر کو خُوب کُچلا۔ کوفیوں نے خیموں کو لُوٹا، اہلِ بیتؓ کو گرفتار کرکے امام عالی مقامؓ کے سر مبارک سمیت ابنِ زیاد کے پاس بھیج دیا گیا۔ حضرت امام حسینؓ کے سرِاطہر کو ایک طشت میں رکھ کر عبید اللہ ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔
جہاں بھرے دربار میں اس نے سر مبارک کو دیکھ کر گستاخانہ کلمات کہے۔ پھر تیسرے دن اس نے شمر ذی الجوشن کو ایک دستہ فوج دے کر اس کی نگرانی میں اہلِ بیتؓ قیدی خواتین، امام زین العابدین اور سر مبارک کو دمشق میں یزید کے پاس بھیج دیا۔
علامہ ابن جوزی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کے جسمِ اطہر پر33زخم نیزوں کے اور 43تلواروں کے تھے۔ آپ کے پیرہن شریف میں 121 سوراخ تیروں کے تھے اور یہ تمام جسمِ مبارک کے اگلے حصّے میں تھے، پشتِ مبارک کی جانب کوئی زخم نہ تھا۔ (جامع التواریخ)۔