• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلحے کی قلت، ایران پر ٹرمپ حملے روکنے کی اصل وجہ، امریکی مندوب کی تردید

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں کے دوران حملے بند کیے جانے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ میزائل اور ہتھیاروں کی قلت کے باعث صدرٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا فیصلہ کیاہے ‘دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے گولہ بارودکی کمی سے متعلق رپورٹس کومستردکرتے ہوئے کہاہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کو تھوڑا موقع دے رہے ہیں‘ایک امریکی عہدیدار کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ گولہ بارود کے ذخائر پر منفی اثرات کے پیش نظربڑے پیمانے پر دوبارہ کارروائیوں کاآغاز خطرناک ثابت ہو سکتا ہےجبکہ ٹرمپ نے واضح کیاہے کہ حملوں میں عارضی توقف کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں‘ اگرتہران نے شرائط نہ مانیں تو واشنگٹن اب بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے‘ ادھر آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر مقررہ ایرانی راستے سے ہٹنے کے بعد بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا ہےجبکہ ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کا ٹیلی فون پر رابطہ ہواہے ‘ عباس عراقچی نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہازپر حملے کا ذمہ دار یوکرین کے صدر زیلنسکی کو قراردیتے ہوئے خبردار کیاہے کہ کیف کے مفت خور کواس کا جواب دیاجائیگا ‘ حوثی جنگجوؤں نے ایک سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ عیسائیوں کے مذہبی پیشواپوپ لیو چہار دہم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ لڑائی بند کریں اورفوری طور پر بات چیت اور سفارت کاری کی طرف واپس آئیں‘وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب بھی تمام آپشنز موجود ہیں ‘ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے خبردارکیاہے کہ اگر برطانیہ نے جنگ میں امریکا کی حمایت کرتا ہے تو وہ جائز ہدف بن جائے گاجبکہ ایرانی فوج نے متنبہ کیاہے کہ اگر امریکا نے حملے دوبارہ شروع کیے تو جنگ مزید پھیل جائے گی‘ ہمارے آپریشنز کا دائرہ کار اب پورے خطے پر محیط ہے‘ہم ہرآپشن اور منظر نامے کے لیے تیار ہیں‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے‘ امریکا اورایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ اور ثالثوں کی سرگرمیاں جاری ہیں‘ایران کے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات نے کہا کہ ہرمز میں ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط تیار کرکے منظوری کیلئے بھیج دیے گئے ہیں۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے ایک اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ امریکی جنرل ڈین کین دونوں نے کشیدگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کے روز اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔نیوزویب سائٹ ایکسیوزکے مطابق پنٹاگون نے ٹرمپ کو حملوں کی 14ویں رات کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن انہوں نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے اس کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گولہ بارود کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے خدشات نے مزید کشیدگی کو محدود کر دیا ہے۔سینٹرل کمانڈنے کہا ہے کہ اس نے اب تک بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر 12جہازوں کا راستہ تبدیل کیا۔ ادھر عراق اور کویت کے درمیان واقع مرکزی سرحدی گزرگاہ ڈرون حملے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے‘قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے دوحا میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی‘دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے‘ مشترکہ رابطے کو فروغ دینے اور امن و استحکام کے قیام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ڈائیریکٹر مواصلات اسٹیون چونگ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں بتایاکہ اگر ایران ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو ٹرمپ نے اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ایران کیلئے دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ وہ کسی معاہدے کیلئے مذاکرات کا رخ کرے ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔ 

اہم خبریں سے مزید