• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈپریشن کے علاج میں امید کی کرن، نئی تحقیق میں انکشاف

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

طبی محققین کا کہنا ہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر اور شدید ڈپریشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک عام اور ارزاں دوا الزائمر کے مریضوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

مشہور طبی جریدے نیچر میں شائع شدہ گزشتہ تحقیقات کے مطابق الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں لیتھیم کی سطح عام افراد سے کم پائی گئی۔

تجربہ گاہ میں الزائمر سے متاثرہ چوہوں پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لیتھیم کی معمولی مقدار دینے سے ان کی یادداشت کی کارکردگی میں بہتری آئی اور دماغی خلیات کے نقصان کے اثرات میں کمی واقع ہوئی۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ دوا یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت سے منسلک دماغی خلیات کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطوں کو بحال رکھتی ہے۔

طبی جریدے ٹرانسلیشنل سائیکیاٹری میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ ابتدائی الزائمر کے مریضوں کے لیے اس کی کی کم خوراک کے استعمال پر مزید تفصیلی تحقیق کی جانی چاہیے۔

’الزائمر سوسائٹی‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر رچرڈ اوکلے نے اس تحقیق پر محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا، ’یہ تحقیق الزائمر کے علاج میں اس دوا کے ممکنہ کردار پر جاری بحث کو آگے بڑھاتی ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ ڈیمینشیا سے مکمل بچاؤ یا علاج کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سطح پر کیے گئے ابتدائی ٹرائلز فی الوقت بہت محدود ہیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید