ماہرین نے خون کے ٹیسٹ اور دماغی اسکین کے دو نئے طریقوں کو الزائمر کی ابتدائی تشخیص کے لیے اہم سنگ میل قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ طریقے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے ہی اس کے آثار کو پکڑ سکتے ہیں۔
برطانیہ میں 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد الزائمر کے شکار ہیں، جو ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم اور ملک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ اس کا علاج موجود نہیں، مگر ابتدائی تشخیص سے بیماری کی رفتار کو سست اور علامات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
خون کے ٹیسٹ میں ایسے پروٹینز (امیلوئیڈ بیٹا اور ٹاؤ) کی نشاندہی کی گئی ہے جو دماغی کمزوری اور یادداشت کی خرابی سے جڑے ہیں۔
امریکی تحقیق میں 61 سال اوسط عمر کے 1,350 افراد پر تجربہ کیا گیا، جس میں زیادہ بایومارکر رکھنے والوں کی یادداشت اور دماغی کارکردگی کمزور پائی گئی۔ یہ ٹیسٹ امریکا میں ایف ڈی اے سے منظور ہو چکا ہے، مگر برطانیہ میں ابھی دستیاب نہیں۔
دماغی اسکین کے دوسرے مطالعے میں ایک نیا ریڈیئشن ٹریسر (MK6240) استعمال کیا گیا، جو موجودہ طریقے سے دو گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور ابتدائی مریضوں میں ٹاؤ پروٹین کی موجودگی بہتر انداز میں دکھائی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج نہ صرف تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کے لیے اہم ہیں بلکہ مستقبل میں این ایچ ایس کو الزائمر کے علاج کے لیے دو نئی ادویات (ڈونانیماب اور لیکانیماب) کی منظوری دینے پر بھی آمادہ کر سکتے ہیں، جنہیں پہلے لاگت کی وجہ سے مسترد کیا گیا تھا۔
الزائمر سوسائٹی اور دیگر ماہرین نے ان نتائج کو ’حوصلہ افزا‘ قرار دیا ہے، تاہم مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ یہ ٹیسٹ عام طبی استعمال کے لیے محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکیں۔