بھارت کی احتجاجی سرگرمیاں دیکھنا بھی ایک عیاشی تھی۔ آئین، قانون اور سیاسی شعور کا زبردست تال میل دیکھنے کو ملا۔ احتجاج میں شامل ہر عقیدے، نسل اور عمر کے لوگوں کی زبان سے مسلسل دو ہی لفظ سنائی دے رہے تھے۔لوک تنتر اور سمویدھان۔ یعنی جمہوریت اور آئین۔ صاف نظر آرہا تھا کہ آئین اب انکی عادتوں میں بھی شامل ہوگیا ہے۔ دراصل اسکے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ بھارت نے آزادی کے ساتھ ہی کلونیل مائنڈ سیٹ سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ آئین اور نصاب کی تشکیل کیلئے انہوں نے قد آور رہنماؤں پر اعتماد کیا۔ مسلسل الیکشن کیے، جمہوری طریقوں کی پیروی کی اور پارلیمان کو بالادست رکھا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھارت میں سیاسی پروٹوکول موجودہے۔سماجی سطح پر انتہاپسند رجحانات بھی موجود ہیں مگر انہیں آئینی اور نصابی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
آئین کسی دستاویز کا نام نہیں ہوتا۔یہ ایک جمہوری کلچر بھی ہوتا ہے۔اس کلچر میں اہم یہ نہیں ہوتا کہ اکثریت کیا سننا چاہتی ہے۔اہم یہ ہوتا ہے اقلیت کیا کہنا چاہتی ہے۔اکثریت قانون سازی کر سکتی ہے مگر ہر طرح کی قانون سازی نہیں کرسکتی۔کوئی طبقہ خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو،وہ اپنے مسائل کی نشاندہی خود کرتا ہے۔مسئلے کا حل بھی خود بتاتا ہے۔اگر ایسا نہیں ہورہا تو پھر یہ جمہوریت نہیں ہےیہ اکثریت کا جبر ہے جسے ہم موٹے الفاظ میں Majoritarianism کہتے ہیں۔ کسی چیز کو مقدس نہیں ہونا چاہیےاگر ہونا ہی ہے تو پھر آئین کو ہونا چاہیے۔مزا تب ہے جب قوم کا اجتماعی شعورآئین کے حوالے سے تعصب کی حد تک حساس ہو جائے۔آئین کی بات آجائے تو بھارتی سماج ویسے ہی حساس ہوجاتا ہے جیسے ہمارے ہاں لوگ عورت کے ’کردار‘ کے حوالے سے ہوتے ہیں۔پچھلے انتخابات میں مودی نے ’اب کی بار چارسو پار‘ کا سلوگن دیا تھا۔اجتماعی شعور نے بھانپ لیا کہ مودی دراصل آئین سے بڑا ہونا چاہتا ہے۔بھارت میں جے سمویدھان جے کے نعرے لگ گئے۔مودی چار سو کا ہندسہ تو کیا عبور کرتا، سیٹوں کی جو تعداد موجود تھی اس سے بھی گیا۔
لوگ جنتر منتر والے مظاہرین پر تہمت لگا رہے ہیں کہ یہ جین زی تھے۔جنریشن کے حساب سے ضرور جین زی ہوں گے مگر سیاسی طور پر یہ جینزیائے ہوئے نہیں تھے۔بات جب سیاست کی آتی ہے تولوگ جین زی کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی جامد کوالیفکیشن ہو۔جسے وہ جین زی کہہ رہے ہوتے ہیں وہ جنریشن سے زیادہ ایک مزاج کا نام ہوتا ہے۔ایسا مزاج جس میں چالیس قدم تسلی سے چلنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔اسکے سامنے منظر تو ہوتا ہے پس منظر نہیں ہوتا۔سچ تو کہتا ہے پر تجزیہ نہیں کرتا۔ایک ہی سانس میں تین مختلف باتیں کرتا ہے۔ایکو چیمبر میں بیٹھ کراپنی ہی آواز سن کر خوش ہوتا رہتا ہے۔اسے یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ حکومت گرانی ہے، مگر گرانے کے بعد کرنا کیا ہے، اس سوال کا جواب اسکے پاس نہیں ہوتا۔یہ بیل بجاکے انسٹاگرام کی طرف بھاگ جاتا ہے۔پیچھے حکومت پہلے سے بھی بڑے بومر کے پاس چلی جاتی ہے۔
جو جینزی بھارت میں نکلی،اس میں غصہ ضرور تھا نفرت نہیں تھی۔ضد بھی نہیں تھی۔ان میں دو قدم آگے بڑھنے کی ہمت تو تھی ہی مگر ایک قدم پیچھے ہٹنے کا حوصلہ بھی تھا۔پارلیمنٹ کی طرف بڑھتے ہوئے کچھ دوست زخمی ہوئے تو CJP کے لوگ فورا پیچھے ہوگئے۔مگر پیچھے ہوکر جہاں کھڑے ہوئے وہاں پھر کھڑے ہی ہوگئے۔سرکار کے جبر کے آگے آئین کا بند باندھے رکھا۔تشدد کا جواب گیت، شعر، سلوگن اور استقامت سے دیا۔طنز اور مزاح کا سہارا لیا۔ڈنڈوں اور غلیلوں کی جگہ انکے ہاتھوں میں موبائل، کتاب اور ڈفلی تھی۔ یہ بچے بچیاں تعلیمی پس منظر میں ساوتری بائی اور فاطمہ شیخ کو اپنا رول ماڈل بتا رہے تھے۔بھیم راؤ امبیڈکر، سبھاش چندر بوس کے حوالے دے رہے تھے۔لالہ لجپت رائے، مولانا مدنی اور باچا خان کی بات کر رہے تھے۔یعنی وہ جانتے تھے کہ سیاسی طور پر ہم کس روایت کے لوگ ہیں۔بیس سال کی بہاری بچی بھی جانتی تھی کہ وہ جنتر منتر پہ کیوں کھڑی ہے۔وہ کسی تیز انقلابی ہوا کے ساتھ یونہی اڑتی اڑاتی یہاں نہیں پہنچی تھی۔
طلبہ یونین کی نوجوان لیڈر نیہا کی گفتگو سنتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہماری پارلیمنٹ تو رہی ایک طرف، سینیٹ میں اب ایسا کون رہ گیا ہے جو آئین جمہوریت اور سماجی مسائل پراتنی پختہ گفتگو کر سکے۔معاملہ فہمی، مذاکرات، بات چیت کیلئے ایسی پر اعتماد شخصیات اب کہاں ہیں۔دو کم عمر لڑکوں نے وزرا کے ساتھ میٹنگ کی۔میٹنگ میں مطالبات اپنی جگہ تھے اور احترام اپنی جگہ۔بے باکی اور بدلحاظی کا فرق واضح نظرآرہا تھا۔اپنا اعتماد دکھانے کیلئے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کی انہیں ضرورت ہی محسوس نہیں ہورہی تھی۔
ہمارے آس پڑوس میں کئی جینزی مظاہرے ہوئے۔سارے ہی پر تشدد اورغیر منظم تھے۔واحد جنتر منتر کا احتجاج تھا جس میں املاک کو آگ لگائی گئی نہ سر پھوڑا گیا۔ایسا بھی نہیں تھا کہ بات پیپر لیک کی لیکر آئے ہوں اور ضد یہ پکڑلی ہو کہ حکومت گرانی ہے۔جتنی بات لیکر آئے تھے اتنی منواکر چلے گئے۔بات بھی پوری ہوگئی اورحکومت بھی قائم ہے۔یعنی پون صدی سے سیاسی ارتقا کا جو سفر چلا آرہا تھا اسے کمزور کرنے کی بجائے مزید توانا کردیا۔وزیر تعلیم کا استعفیٰ آنے پرصرف 19 سال کی ایک لڑکی نے کہا، حکومتیں تو آتی جاتی رہیں گی، ہم نے یہ طے کرنا ہے کہ حکومتوں کی اندھی تقلید کرنی ہے یا اپنی بہتری کیلئے سوال اٹھاتے رہنا ہے۔ڈپکے نے اپنے پیغام میں کہا، ہماری کامیابی میں ان کا حصہ بہت بڑا ہے جنہوں نے بروقت ہمارے رویوں پر تنقید کی۔
آپ کو لگتا ہے ایسے مظاہرین کا اٹینشن سپین سات سیکنڈ کا ہوگا؟ یہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں بھائی جان۔ ان کی ترجیحات ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے اسٹریٹجسٹ نہیں طے کر رہے۔ ان کے پیچھے تسلسل، عملی سرگرمیاں، ماحول اور تنقیدی مطالعہ نظر آرہا ہے۔ نقطہ نظر کیساتھ زاویہ نظر بھی دکھائی دے رہا ہے۔یہ جنریشن کے اعتبار سے ضرور جین زی ہیں، مگر سیاسی طور پر یہ جینزیائے ہوئے نہیں ہیں۔یہ لوک تنتر اور سمویدھان والے جینزی ہیں۔