بارش جب برستی ہے تو زمین مسکراتی ہے، کھیت لہلہاتے ہیں، دریا زندگی سے بھر جاتے ہیں اور انسان اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت پر شکر ادا کرتا ہے۔ لیکن پاکستان میں عجب المیہ ہے کہ آسمان سے رحمت برستی ہے اور زمین پر زحمت میں بدل جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت اپنا کام پوری دیانت داری سے کرتی ہے، مگر ہمارا انتظامی نظام ہر نعمت کو آزمائش میں بدلنے پر تلا ہوا ہے۔دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں بارشیں نہ ہوتی ہوں یا سیلاب نہ آتے ہوں۔ امریکہ، جاپان، چین، جرمنی اور یورپ کے کئی ممالک بھی شدید بارشوں اور طغیانی کا سامنا کرتے ہیں۔ وہاں بھی نقصان ہوتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ہم اپنی غلطیوں کو اگلے سال کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ ہر مون سون ہمارے لیے نئی خبر نہیں بلکہ ایک پرانی فلم کا نیا شو ہوتا ہے۔ کردار وہی، مکالمے وہی، پریس کانفرنسیں وہی اور عوام کی بے بسی بھی وہی۔چند گھنٹوں کی بارش نے ایک مرتبہ پھر ہمارے ترقیاتی دعووں کی قلعی کھول دی۔ بڑے شہروں کی چمکتی سڑکیں ندیوں میں بدل گئیں، انڈر پاس سوئمنگ پول بن گئے، قیمتی گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں اور وہ مہنگی رہائشی کالونیاں، جنہیں جدید طرزِ زندگی کی علامت کہا جاتا تھا، جھیلوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر ایک چیز نہیں بدلتی، اور وہ ہے منصوبہ بندی کا فقدان۔ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے تو بن جاتے ہیں، لیکن نکاسی آب کا مؤثر نظام کسی کی ترجیح نہیں بنتا۔ افتتاحی تختیاں ضرور لگ جاتی ہیں، مگر پانی کے بہاؤ کا راستہ کوئی نہیں دیکھتا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا قومی بیانیہ بھی ادھورا ہے۔ جیسے ہی بارش ہوتی ہے، میڈیا کی توجہ شہروں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ زیرِ آب سڑکیں، ٹریفک جام اور شہری مشکلات اسکرینوں کی زینت بنتی ہیں، مگر دیہاتوں کی خاموش تباہی کسی بریکنگ نیوز کا حصہ نہیں بنتی۔
پاکستان کا کسان، جو پورے ملک کا پیٹ بھرتا ہے، سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔ اس کی کپاس، دھان، مکئی، سبزیاں اور چارہ پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ کئی مہینوں کی محنت چند گھنٹوں میں برباد ہو جاتی ہے۔ مویشیوں کے باڑے پانی میں گھر جاتے ہیں، کچے مکانات گر جاتے ہیں اور دیہی معیشت شدید دھچکا کھاتی ہے۔ مگر کسان کی آہ شاید ایئرکنڈیشنڈ اسٹوڈیوز تک نہیں پہنچتی۔دیہاتوں کی تباہی میں ایک کردار محکمہ سیم کا بھی ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری سیم نالوں کی صفائی اور پانی کی روانی برقرار رکھنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر سیم نالے گاد، جھاڑیوں اور کوڑے سے بھرے ہوئے ہیں۔ جہاں پانی گزرنا چاہیے وہاں رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ بارش کا پانی کھیتوں، دیہاتوں اور آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر مون سون ہر سال آتا ہے تو صفائی کا کام ہر سال بارش کے بعد کیوں یاد آتا ہے؟ کیا متعلقہ اداروں کو موسم کی خبر صرف بادل برسنے کے بعد ہوتی ہے؟ اگر بجٹ خرچ ہوتا ہے تو اس کے نتائج کہاں ہیں؟ اگر کام ہوتا ہے تو پانی کیوں نہیں نکلتا؟شہروں میں ایک اور سنگین مسئلہ برساتی نالوں پر قبضے ہیں۔ قدرت نے پانی کے لیے راستے بنائے تھے، انسان نے ان پر پلازےاور مارکیٹیں تعمیر کر دیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی ایک رات میں نہیں ہوا یہ برسوں کی سرپرستی، خاموشی، ملی بھگت اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ جن اداروں نے ان نالوں کی حفاظت کرنی تھی، وہ اکثر کاغذوں میں کارروائیاں کرتے رہے جبکہ زمین پر قبضے مضبوط ہوتے گئے۔
ماحولیاتی تبدیلی نے یقیناً بارشوں کی شدت بڑھائی ہے، لیکن یہ عذر ناکافی ہے۔ اصل مسئلہ ناقص حکمرانی ہے۔ اگر نظام مضبوط ہو، منصوبہ بندی سائنسی بنیادوں پر ہو اور قانون سب پر یکساں لاگو ہو تو قدرتی آفات کے نقصانات نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر بحران کے بعد ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ذمہ داری منتقل کی جاتی ہے۔ کوئی موسم کو قصوروار ٹھہراتا ہے، کوئی سابق حکومت کو، کوئی فنڈز کی کمی کا رونا روتا ہے۔ لیکن عوام کا سوال صرف ایک ہے کہ آخر ان کے ٹیکس کے پیسے کہاں خرچ ہوتے ہیں؟
اب وقت آگیا ہے کہ نمائشی اقدامات کے بجائے عملی اصلاحات کی جائیں۔سب سے پہلے ملک میں بلدیاتی ادارے بحال کیے جائیں۔سیوریج جیسے مسائل کے حل کیلئے ضلعی یا صوبائی انتظامیہ کی طرف دیکھنے کے بجائے بلدیاتی ادارے مقامی سطح پر یہ مسائل حل کر لیں۔دوسر،ا ملک بھر کے سیم نالوں، برساتی نالوں اور ڈرینج سسٹم کی قبل از وقت صفائی کو قانونی طور پر لازمی بنایا جائے اور اس کی نگرانی آزاد اداروں سے کرائی جائے۔یہ عمل سارا سال جاری رہے۔تیسرا، تمام تجاوزات کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، چاہے وہ کسی بااثر شخصیت کی کیوں نہ ہوں۔چوتھا، کسانوں کیلئے فصلی انشورنس، فوری معاوضہ اور زرعی ایمرجنسی فنڈ قائم کیا جائے تاکہ دیہی معیشت بار بار تباہ نہ ہو۔ پانچواں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں، محکمہ آبپاشی، لوکل گورنمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مستقل اور مربوط نظام قائم کیا جائے، جو صرف بارش کے دنوں میں نہیں بلکہ پورا سال فعال رہے۔اور آخر میں، احتساب۔ جب تک غفلت برتنے والے افسران اور متعلقہ ذمہ داروں کا مؤثر احتساب نہیں ہوگا، تب تک ہر سال یہی تباہی دہرائی جائیگی۔ بارش کو کوئی نہیں روک سکتا، لیکن بارش سے پیدا ہونیوالی تباہی کو ضرور روکا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے صرف دعووں کی نہیں، دیانتدار حکمرانی، سائنسی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر مون سون کے بعد ہم پھر یہی لکھیں گے کہ بارانِ رحمت ایک بار پھر بارانِ زحمت بن گئی۔