• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض جنگیں صرف محاذوں کی حد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عالمی سیاست، سلامتی کے تصورات اور تزویراتی ترجیحات کا رخ بھی بدل دیتی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی ہی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ خطے کے ممالک اب یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے اٹھا رہے ہیں کہ کیا آئندہ بھی انکی سلامتی کا انحصار بیرونی طاقتوں پر رہے گا، یا وقت آ گیا ہے کہ علاقائی تعاون، دفاعی خودانحصاری اور مشترکہ سلامتی کے ایک نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ خلیجی ریاستوں نے ،گزشتہ کئی دہائیوں سے،اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا بڑا حصہ امریکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری پر استوار رکھا۔ جدید اسلحے کی خریداری، دفاعی معاہدے، مشترکہ فوجی مشقیں اور امریکی عسکری موجودگی کو علاقائی استحکام کی ضمانت تصور کیا جاتا رہا۔ تاہم ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کی اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسی مستقل دوستی نہیںبلکہ مستقل مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اس تناظر میں خطے کے متعدد ممالک میںیہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ اب قومی سلامتی کو صرف بیرونی دفاعی ضمانتوں سے وابستہ رکھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہی احساس اب مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی خودمختاری اور باہمی تعاون کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی خود انحصاری، علاقائی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کے موضوعات پہلے سے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید ہتھیار کسی ریاست کی عسکری طاقت میں اضافہ ضرور کرتے ہیں، تاہم پائیدار سلامتی صرف اسلحے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کیلئے سیاسی اعتماد، مشترکہ اسٹرٹیجک وژن، مقامی دفاعی صنعت، انٹیلی جنس تعاون اور طویل المدت شراکت داری بھی ناگزیر ہوتی ہے۔اسی تناظر میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور کویت کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی روابط ایک نئے علاقائی تصور کی بنیاد بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعدپاکستان نے شدید بین الاقوامی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو برقرار رکھا اور ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔پاکستان کی جوہری صلاحیت بنیادی طور پر قابلِ اعتماد دفاعی ڈیٹرنس پر مبنی ہے، جسکا مقصد جنگ کو روکنا اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ اسکے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کو انسدادِ دہشت گردی کا وسیع تجربہ ہے اور دفاعی منصوبہ بندی اسے مسلم دنیا کا ایک اہم عسکری شراکت دار بناتی ہے۔ پاکستان کا دفاعی نظریہ طاقت کے اظہارکے بجائے مؤثر ڈیٹرنس پر مبنی ہے، جسکا بنیادی مقصد جنگ کو روکنا اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔دوسری جانب ترکیہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی صنعت کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی، بحری پلیٹ فارمز، بکتر بند گاڑیاں، میزائل نظام اور نئی نسل کے جنگی طیاروں کے منصوبوں نے ترکیہ کو عالمی دفاعی صنعت کے نمایاں ممالک کی صف میںلا کھڑا کیا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بحری دفاع، عسکری تربیت، مشترکہ مشقوں، دفاعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔اسی تناظر میں دفاعی مبصرین یہ رائے دیتے ہیں کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور کویت کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تعاون مستقبل میں مشترکہ دفاعی منصوبوں، فوجی تربیت، انٹیلی جنس کے تبادلے، دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری اور نئی عسکری ٹیکنالوجیز کی مشترکہ تیاری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اگر یہ تعاون مرحلہ وار آگے بڑھتا ہے تو دیگر خلیجی ممالک، خصوصاً قطر اور بعض دوسرے علاقائی شراکت دار بھی اس میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔ تاہم اس کا انحصار سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے تسلسل پر ہوگا۔ خلیجی ریاستیں اب سلامتی کیلئے زیادہ متنوع اور علاقائی شراکت داری کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ کسی نئے کثیرالجہت دفاعی اتحاد کا باضابطہ اعلان موجود نہیں، تاہم سفارتی اور دفاعی حلقوں میں یہ تاثر ضرور مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ تعاون مستقبل میں ایک منظم علاقائی دفاعی فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔البتہ اس تصور کو کسی روایتی فوجی اتحاد کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اسکی بنیاد کسی محاذ آرائی یا نئے عسکری بلاک کی تشکیل کے بجائے دفاعی خودانحصاری، مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، فوجی تربیت، صنعتی تعاون اور علاقائی استحکام پر استوار ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان کی عسکری مہارت، ترکیہ کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب و کویت کی مالی و سرمایہ کاری کی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کریں تو یہ اشتراک صرف اسلحہ خریدنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مسلم دنیا میں جدید دفاعی صنعت کے فروغ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ مسلم دنیا مختلف خارجہ پالیسیوں، علاقائی ترجیحات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متنوع تعلقات رکھتی ہے۔ اسلئے کسی بھی ممکنہ دفاعی تعاون کی کامیابی صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، مستقل سفارت کاری، باہمی اعتماد اور مشترکہ اسٹرٹیجک وژن پر منحصر ہوگی۔ اگر یہ عناصر مضبوط ہوں تو اختلافات بھی تعاون کی راہ میں بڑی رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے ایک حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ پائیدار سلامتی صرف بیرونی ضمانتوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مضبوط قومی استعداد، علاقائی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں سے جنم لیتی ہے۔ اگر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، کویت اور مستقبل میں دیگر مسلم ممالک حقیقت پسندی، تدبر اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دفاعی تعاون کو فروغ دیتے ہیں تو یہ پیش رفت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری مسلم دنیا کیلئے اسٹرٹیجک خودمختاری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔یہی اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کا سب سے اہم سبق ہے کہ مؤثر دفاع کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اگر علاقائی تعاون اسی سمت میں آگے بڑھتا رہا تو تاریخ اس دور کو ایک ایسے مرحلے کے طور پر یاد رکھے گی جب مسلم دنیا نے پہلی بار اپنی اجتماعی سلامتی کیلئے بیرونی انحصار کے بجائے باہمی اعتماد، مشترکہ صلاحیت اور دفاعی خودانحصاری کو اپنی نئی حکمتِ عملی کا محور بنایا۔

تازہ ترین