دیوار پر فوجی وردی میں مسکراتی ہوئی ایک تصویر آویزاں تھی۔ چہرہ روشن تھا، آنکھوں میں اعتماد تھا اور ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ جو وطن عزیزکے سپاہیوں کی پہچان ہے۔ مگر اس تصویر کے نیچے بیٹھی ماں کی آنکھوں میں ایسا خلا تھا جسے دنیا کی کوئی خوشی بھر نہیں سکتی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں سجی ہوئی وردی، میز پر رکھی چند کتابیں، بچوں کے بکھرے ہوئے کھلونے اور ایک خالی کرسی خاموشی سے گواہی دے رہے تھے کہ اس گھر کا محافظ، اس خاندان کا سہارا اور اس وطن کا ایک بہادر بیٹا اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔یہ شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزاد گل فراز کا گھر تھا، جنہوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔شہادت کے چند روز بعد وزیراعظم شہباز شریف مانسہرہ میں ان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے شہید کی والدہ، اہلیہ، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کی، شہید کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور ان کے نام سے دانش اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا۔ بظاہر یہ ایک سرکاری مصروفیت تھی، مگر حقیقت میں ایسے لمحے پروٹوکول سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ وہاں نہ سیاست تھی، نہ اقتدار کی چکاچوند، نہ تقریروں کی گونج۔ صرف ایک شہید کا گھر تھا، ایک ماں کا صبر تھا، ایک بیوہ کی خاموشی تھی اور چند معصوم بچے تھے جن کے سر کا سایہ، ان کا باپ وطن پر قربان ہو چکا تھا۔مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ شہید کے خاندان کو صرف مالی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس یقین کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ جب ریاست کا سربراہ کسی شہید کے گھر کی دہلیز پر پہنچتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا، بلکہ پوری ریاست کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لمحے ایک ماں کو یقین ملتا ہے کہ اس کے بیٹے کی قربانی رائیگاں نہیں گئی، ایک بیوہ کو احساس ہوتا ہے کہ اس کے بچوں کے سر سے صرف باپ کا سایہ اٹھا ہے، ریاست کا ہاتھ نہیں، اور شہید کے بچوں کے دل میں یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ ان کے والد صرف ان کے نہیں، پوری قوم کے ہیرو تھے۔شہداء کی قبروں پر پھول رکھ دینا آسان ہے، لیکن ان کے گھروں کی خاموشی کو محسوس کرنا آسان نہیں۔ وہاں ہر دیوار قربانی کی داستان سناتی ہے، ہر کمرہ انتظار کی خوشبو سے بھرا ہوتا ہے اور ہر دروازہ یہ گواہی دیتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے گھر اس لیے کبھی واپس نہیں آتےکہ پورا وطن محفوظ رہ سکے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی حکمران کی اصل پہچان صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں، بلکہ ان قدموں سے بھی ہوتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر کسی شہید کے گھر تک پہنچتے ہیں۔میری صحافتی زندگی میں مجھے بے شمار حکمرانوں اور اعلیٰ شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، مگر ایک بات وقت نے ضرور سکھائی کہ اقتدار انسان کے اصل کردار کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتا۔ انسان وہی ہوتا ہے جو بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے، نہ کہ صرف کیمروں کے سامنے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دور میں مجھے متعدد مواقع پر شہباز شریف کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ صرف وزراء یا اعلیٰ افسران تک محدود نہیں رہتے تھے، بلکہ عام ملازمین کو بھی نام لے کر یاد رکھتے تھے۔ کئی بار انہوں نے کسی ڈرائیور، نائب قاصد یا سکیورٹی اہلکار کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ چند دن سے نظر کیوں نہیں آیا۔ شاید کسی کے لیے یہ معمولی بات ہو، مگر ایسے رویے عام آدمی کے دل میں احترام پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں چھوٹا ملازم اکثر اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے عہدے سے پہچانا جاتا ہے، اس لیے جب کوئی حکمران اسے اس کے نام سے یاد رکھے تو یہ محض اچھی یادداشت نہیں بلکہ انسان دوستی کی علامت ہے۔مجھے ان کے اسپتالوں کے اچانک دورے بھی یاد ہیں۔ وہ صرف وارڈز کا رسمی معائنہ نہیں کرتے تھے بلکہ مریضوں کے پاس جا کر ان کی بات سنتے، ڈاکٹرز سے سوال کرتے اور اگر کسی غریب مریض کو علاج میں دشواری پیش آ رہی ہوتی تو موقع پر ہی متعلقہ حکام سے جواب طلب کرتے۔ اس وقت مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ ان کیلئے فائلوں کے اعدادوشمار سے زیادہ اہم وہ چہرے تھے جن پر بیماری اور بے بسی لکھی ہوتی تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب میں انہیں شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزاد گل فراز کے گھر جاتا دیکھتا ہوں تو اس منظر کو محض ایک سرکاری دورہ نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک یہ ریاست کی جانب سے اپنے ایک بہادر سپوت کو سلام پیش کرنے کا انداز تھا۔ ایک قوم اپنے شہیدوں کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکتی، مگر ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہو کر کم از کم یہ احساس ضرور دلا سکتی ہے کہ ان کی قربانی قوم کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
سیاست میں اختلاف ہمیشہ رہے گا، پالیسیوں پر تنقید بھی جمہوریت کا حسن ہے، مگر انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جہاں انسانیت نظر آئے، وہاں اس کا اعتراف کیا جائے۔ ایک شہید کے گھر جانا، اہلِ خانہ کے دکھ میں شریک ہونا، قبر پر حاضری دینا اور شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے تعلیمی ادارے کا اعلان کرنا ایسے اقدامات ہیں جو سیاسی اختلافات سے بلند ہو کر انسانی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔وقت گزر جائے گا، حکومتیں بدل جائیں گی، نئے چہرے آ جائیں گے، مگر کچھ تصویریں تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ محفوظ رہتی ہیں۔ میرے ذہن میں بھی ایک تصویر ہمیشہ زندہ رہے گی؛ مانسہرہ کا وہ خاموش گھر، دیوار پر مسکراتی فوجی تصویر، نم آنکھوں والی ایک ماں، باپ کی تصویر کو دیکھتے معصوم بچے، اور ریاست کا سربراہ جو گویا پوری قوم کی طرف سے یہ پیغام دے رہا تھا کہ ’’آپ اکیلے نہیں ہیں، آپ کے بیٹے کی قربانی پورے پاکستان کا سرمایہ ہے۔‘‘قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنے شہیدوں کو عزت دیتی ہیں، ان کے خاندانوں کو اپنا خاندان سمجھتی ہیں اور اپنے کمزور اور محروم لوگوں کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ ریاست ان کی پشت پر کھڑی ہے۔اوربلاشبہ شہباز شریف بطور حکمراں شہید سے محبت کرنا بھی جانتے ہیں اور غریب سے قربت نبھانا بھی۔