میں بہت چھوٹا تھا، جب کراچی آیا۔ اُس وقت میرے پاس علم وفضل، ہنر وفن، اہل وعیال، مال ودولت، زمین ومکان، دوست احباب، جان پہچان.... کچھ بھی نہ تھا۔ ایک اجنبی مسافر کی طرح اجنبی شہر میں آوارد ہوا تھا۔ جب میں کراچی آیا تو اس وقت یہ غریبوں، سخیوں، ایثار کرنے والوں، نوازنے والوں، ہمدردی کرنیوالوں، امن پسندوں اور اہل علم وفضل اور اہلِ معرفت کا شہر تھا۔ سڑکیں صاف ستھری ہوتی تھیں۔ پیدل چلتے مسافروں کو گاڑی والے گاڑی روک کر لفٹ دیتے تھے۔ ہم ایک عرصے تک سہراب گوٹھ سے جامعہ کراچی تک لفٹ لیکر ہی جاتے رہے۔ شاہ فیصل سے کورنگی تک ہمیشہ ”لفٹ“ کے ذریعے سفر طے کیا۔ اس وقت لوٹ مار، چوری چکاری اور اسلحے کے زور پر گاڑیوں کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس وقت کراچی کا امن وامان مثالی تھا۔ متعدد بار ہم نے لسبیلہ چوک کے تھڑے پر رات سوکر گزاری۔ لالو کھیت کی مسجد نایاب کے سامنے رات چار چار بجے تک بیٹھے گپیں لگاتے۔ اورنگی نمبر دس میں رات تین تین بجے تک اپنے رشتہ داروں کے ہاں جاتے۔ سہراب گوٹھ میں دوستوں کے پاس کابلی پلاؤ کھانے کیلئے جاتے۔ کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ کراچی میں کھانے پینے کا انتہائی سستا زمانہ تھا۔ ہم تین دوست 25 روپے میں پیٹ بھر کر مغز نہاری کھاتے۔ بریانی اور برنس روڈ کی رانوں کی کیا بات تھی؟ کراچی میں کوئی بھوکا نہ سوتا تھا۔ مخیر حضرات اور سخی لوگ غریبوں کو تلاش کرکرکے کھلاتے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔
اس وقت کراچی غریب پرور تھا۔ غریب کش نہ تھا۔ اس وقت کراچی میں ٹریفک اچھا اور انتہائی سستا تھا۔ ہم چونکہ جامعات کے طالب علم تھے۔ اس لیے آدھے کرائے یعنی آدھے روپے، آٹھ آنے میں بس میں پورےکراچی کا سفر کرتے تھے۔ گاڑیوں اور بسوں میں بزرگوں اور ضعیفوں کا بے حد احترام کیا جاتا تھا۔ خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آج کی طرح ان پر سیٹیاں نہیں بجائی جاتی تھیں۔ سو پچاس روپے صرف کیماڑی سے کلفٹن تک اور مزارِ قائد سے ائیرپورٹ کی سیر کی جاتی تھی۔ تعلیم بہت اچھی اور انتہائی سستی ہوتی تھی۔ پڑھاکو طلبہ وطالبات کے چھوٹے موٹے اخراجات صاحب ثروت اور مخیر حضرات نے اپنے ذمے لیے ہوئے تھے۔ پڑھنے والے کے لیے پڑھنے کے مواقع تھے۔ تعلیمی اداروں میں کسی قسم کی دہشت گردی، نفرت، لسانیت کسی قسم کا کوئی بھی تعصب نہ تھا۔ کراچی کو اہلِ علم وفضل کا شہر کہا جاتا تھا۔ ہر طرف علمی فضا ہوا کرتی تھی۔ علمی مجالس کے چرچے تھے۔ رات گئے تک علمی مجالس اہم دانشوروں اور علما کی محافل ختم ہوا کرتی تھیں۔ سیروتفریح کے لیے پورے ملک بلکہ دنیا بھر سے قافلے جوق درجوق اور ہر موسم میں کراچی کا رُخ کیا کرتے تھے۔ کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ کانام تک نہ تھا۔ گاڑی چھننے کی وارداتیں نہ تھیں۔ قانون سب کے لیے تقریباً یکساں تھا۔ پولیس گردی کا رواج نہ تھا۔ کراچی روشنیوں کا شہر تھا۔ اندھیرنگری چوپٹ راج نہ تھا۔ پنجابی، سندھی، بلوچ، مکرانی، براہوی، پختون 28 زبانوں والے ایک ہی ساتھ رہتے تھے۔ کوئی کسی کی ملکیت اور عزت پر حملہ نہ کرتا تھا۔ خلوص، محبت، ایثار، ہمدردی کا دور دورہ تھا۔ کرپشن، بدعنوانی، خودغرضی، رشوت، قتل وغارت گری کا کوئی واقعہ خال خال ہی کہیں پیش آتا تھا۔ دھماکے اور خودکش حملے نہ ہوتے تھے۔
کراچی کا اب کیا حال ہے؟ ہر کس وناکس جانتا ہے۔ علاقے تقسیم ہوچکے ہیں۔ یہ علاقہ پختونوں کا ہے۔ یہ بلوچوں کا ہے۔ یہ مہاجر ہیں اور یہاں سندھیوں کی اکثریت ہے۔ حالانکہ پختون، مہاجر، سندھی اور بلوچ تو یہاں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے آئے تھے۔ ان برادریوں کی اکثریت آج بھی اس ظلم سے نالاں ہے، لیکن تماشا دیکھیے کہ ان کے ناموں پر سیاست ہورہی ہے۔ ہر ایک نے ان کے نام پر سیاست کی دکان چمکارکھی ہے۔ میں کبھی سوچتا ہوں اگر کراچی کی یہ ساری قومیتیں مل کر اس شہر کی خدمت کریں۔ جس طرح اس شہر نے ان کے لیے اپنے دروازے کھولے تھے۔ یہاں لوگ خالی آئے تھے اور آج ان کے پاس سب کچھ ہے۔ کوئی رکشہ چلاتا تھا، آج وہ کروڑوں کی تجارت کرتا ہے۔ کوئی موٹر سائیکل اور سائیکل کا مالک تھا آج کروڑوں، اربوں سے کم میں بات نہیں کرتا۔جس طرح اس شہر نے انہیں نوازا ہے، اگر یہ بھی اپنے دل اس شہر کے لیے کھول لیں۔ اپنی تمام صلاحیتیں اس کے لیے وقف کردیں، یہ شہر دنیا کا بہترین شہر بن سکتا ہے۔ اس شہر میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ یہاں تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں اگر یہ اپنی تمام صلاحیتیں اس کیلئے وقف کردیں۔ اگر محنت مشقت کرنیوالے اپنا پسینہ اس شہر کیلئے بہائیں۔ اگر یہاں کے ٹرانسپورٹر اپنی سہولیات عوام کے لیے وقف کردیں۔ سب اپنے دلوں سے نفرتیں بھلادیں تو یہ شہر چند سالوں میں ”اخوت کا شہر“ کہلاسکتا ہے۔ یہ امن ومحبت کا شہر بن سکتا ہے۔ یہ دوبارہ روشنیوں کا شہر بن سکتا ہے۔
اگرچہ اسے خواب کہا جاسکتا ہے، لیکن اس خواب کی تعبیر کوئی مشکل نہیں۔ میں یہ خواب بہت دنوں سے دیکھ رہا ہوں اور کراچی میں پلنے بڑھنے اور کامیابی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے سبھی یہ خواب دیکھتے ہیں۔ دن کی روشنی میں بھی اور رات کے اندھیروں میں بھی۔ کاش! اس خواب کی تعبیر ہوجائے۔ یہ شہر ویسا ہی ہوجائے جیسے ہم نے پایا تھا۔ ہم اس کی خدمت کیلے ویسے دل کھول لیں جس طرح اس شہر نے ہمارے لئے اپنے دروازے کھول رکھے تھے۔اے کراچی! تو میرا محسن ہے۔ میں تیرا احسان چکانا چاہتا ہوں۔ میں تجھے جنت نظیر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں ”کراچی اور پھول“ ہمنام ہوجائیں۔ تیری شہرت، سطوت اور عظمت کا متمنی ہوں۔