• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج رات بھر جاگنے والے آدم زاد کی زندگی کیسی ہے ۔بلھے شاہ نے کہا تھا : 

پہلا پہر ہر کوئی جاگے،پر دوجا نہ جاگے کوئی

دکھی جاگے دکھ دے کارن،پرسکھی نہ جاگے کوئی

آج سب جاگ رہے ہیں ۔آج انسان رات کو جاگتا اور دن میں سوتا ہے ۔ جسم کے اندر نصب Circadian clockساری زندگی دہائی دیتا رہتا ہے۔ رات کو جاگنا بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے ۔ آج ہم اس دنیا میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ دو مرد آپس میں شادی کرتے اور سب انہیں مبارک باد دیتے ہیں ۔جو شخص ایسی شادی پہ اعتراض کرے ، اسے شدت پسند قرار دے دیاجاتا ہے۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

آج پاکستان سمیت کئی ممالک میں سیوریج براہِ راست تازہ پانی میں ڈال دی جاتی ہے ۔ آج ہماری سبزیاں ، پھل ، اناج اور مچھلیاں آلودہ پانی میں نشوو نما پاتی ہیں ۔ایک اندھا بھی دیکھ سکتاہے کہ سوشل میڈیا انسانوں کا قیمتی وقت بے دریغ ضائع کر رہاہے ۔ دشمنیاں بڑھ رہی ہیں ، ٹرولنگ ایک طرزِ زندگی بن کر رہ گیا ہے ۔ ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ دوسروں کو ٹرول کر رہے ہیں اور اپنی ٹرولنگ کرواتے پھر رہے ہیں ۔ اس کے باوجود مارک زکربرگ جیسے لوگ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں شمار ہوتے ہیں حالانکہ انسانیت کو انہوں نے برباد کر کے رکھ دیا۔

سوشل میڈیا ایپس کو آپ کی شخصیت ، آپ کے بچپن کے دوستوں ، آپ کی پسند نا پسند ، ہر چیز کے بارے میں علم ہے ۔انٹرنیٹ پہ آپ کسی چیز کو رک کر دیکھ لیں سہی، آپ پر اس کے اشتہارات کی بارش ہو جاتی ہے ۔ انہیں آپ کے پل پل کی خبر ہے ۔ انٹر نیٹ سے آپ وہ چیزیں خریدتے ہیں ، جن کی آپ کو ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ اکثر یہ وہ چیز ہوتی ہی نہیں ، جس کا آپ نے آرڈر دیا تھا۔

انسان کی ذہنی حالت یہ ہے کہ پہلے کوئلہ ، تیل اور گیس نکال کر استعمال کیے ، اب رو رہاہے کہ درجہ ءحرارت بڑھ گیا۔ پہلے پلاسٹک ایجاد کیا اور اب افسردہ ہے کہ دنیا آلودگی سے بھر گئی ہے ۔ پہلے چینی اور سوڈا پیتا پھرتاہے ، پھر شوگر کا علاج کراتا ہے ۔ اس وقت دنیا کے سوا آٹھ ارب انسان چینی ،سوڈا اور سگریٹ پینے والے مشینی صارف بن چکے ۔ ہر دوسرے دن موبائل کمپنی کی کال موصول ہوتی ہے ، جس میں یک طرفہ ٹیپ چل رہی ہوتی ہے ۔ اپنی موبائل کمپنی کے ساتھ آدمی ایک نا ختم ہونے والی جنگ میں مصروف ہے ۔

کبھی لوگ دور دراز کے سفر کر کے صاحبانِ علم و دانش کی گفتگو سننے جاتے تھے ۔ آج سوشل میڈیا پہ ان یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کی لڑائیاںدیکھی جاتی ہیں ، جنہیں علم چھو کر بھی نہیں گزرا۔ گری ہوئی حرکات مگر جتنی مرضی کروالو ۔ سوشل میڈیا پہ آپ کو عورتوں سے نفرت کا بھاشن دینے والے مرد اور مردوں سے نفرت کی پٹی پڑھانے والی عورتیں ملیں گی ۔دونوں اسٹار بن چکے ۔

آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ایک دوسرے پر بر بِنائے مسلک فتوے صادر کر تے پھر رہے ہیں ۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے ، جب دنیا بھر میں مسلمانوں کوکسی تفریق کے بغیر قتل کیا جا رہا ہے ۔ بل گیٹس اور ڈونلڈٹرمپ جیسے طاقتور ترین لوگ ایپیسٹین فائلز کے ذریعے ہنی ٹریپ اور بلیک میل کیے جاتے ہیں ۔ آج عالمی طاقت امریکہ کا صدر ایک دیوانہ شخص ہے، جس کا کوئی اصول نہیں ۔نیتن یاہو اپنے کرپشن کیسز رکوانے کیلئے جنگوں پہ جنگیں لڑ رہا ہے ۔ افریقہ سے لے کر روس اور پاکستان جیسے معاشروں میں نام کی جمہوریتیں قائم ہیں ۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی خون آشام حکومت ابھی ختم ہو ئی ہے ۔انسان ایٹم بم ایجاد ہی نہیں ، استعمال بھی کرچکا ہے ۔ دنیا میں ساڑھے بارہ ہزار ایٹم بم موجود ہیں ۔ غریب ممالک میں معدنیات دریافت ہونے پر امیر طاقتور ممالک بھوکے کتوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ غریبوں کے ہاتھ گڑھے ہی آتے ہیں ۔ آج دنیا بھر میں بیانیہ میڈیا کے ذریعے جاری کیا جاتاہے ، جس کی جگالی نہ کرنے پر طعنے سننا پڑتے ہیں۔

دنیا کتنی ترقی کر چکی ، اسکے باوجود سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ چین سے لے کر امریکہ اورجاپان تک ، سبھی معیشتیں مقروض ہیں ۔اس پر آپ کو بتایا جاتاہے کہ سودی نظام کے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ بظاہر دنیا اتنی ترقی کر گئی لیکن درحقیقت آج بھی وہ وہیں کھڑی ہے ، جب پہلے آدم زاد نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ شیخ حسینہ کو دیکھ لیجیے ، آج کے پاکستان کو دیکھ لیجیے ۔صحافت کا حال دیکھ لیجیے ، سیاست کا حال دیکھ لیجیے ۔ انسان بحیثیت مجموعی کہاں جا رہا ہے؟ آئے دن صحافی گرفتار ہوتے ہیں ۔وہ دوسروں کو روسٹ کر رہے ہیں اور خود روسٹ ہو رہے ہیں ۔ انسان موبائل استعمال کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں مر رہے ہیں ۔آج ایک گھر کے مکین ایک دوسرے سے لا تعلق ہیں ۔دوستی ان سے ہے ، جنہیں حقیقی زندگی میں کبھی دیکھا ہی نہیں ۔ ہر گھر کا ہر فرد اپنا کھانا الگ آرڈر کرتا ہے ۔

دنیا بارود کا ڈھیر بن چکی اور ہر طرف جلتی دیا سلائیاں اُڑ رہی ہیں ۔ انسان خدا اور خدا پہ ایمان رکھنے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بیوی کو آدھی جائیداددی جارہی اور بغیر شادی کےاولاد پیداکرنے کا رواج ہے ۔ ایسے جوڑے اب کہیں نظر ہی نہیں آتے جو پوری زندگی ساتھ گزاریں ۔ لوگ خبروں میں رہنے کیلئے تنازعاتمیں اترتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں پاکستان کے ایک حکومتی رکن نے کہا کہ ہمیں چاند پر اسٹیشن بنانا ہے ۔ ادھر دوسری طرف ہمارا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے ۔ بڑے بڑے ادیب اور شاعر ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پہ بچوں کی طرح دشنام کرتے ہیں ۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل کمنٹس میں ایسی جنگ لڑتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔

سوشل میڈیا ایجاد کرنے والے تو بخوبی جانتے تھے کہ اس سے بنی نوع انسان کا کتنا وقت ضائع ہوگا۔ اس سوشل میڈیا کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ سب کے ماضی کھل گئے ہیں ، جو کبھی ڈھکے ہوئے تھے ۔ تمام انسان اسکرول کرنے والی مشینیں بن چکے ہیں ۔ یہ ہے آج کی دنیا۔بندوں پر افسوس!

تازہ ترین