• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر دو جماعتوں کے درمیان سب سے طویل، شدید اور تلخ سیاسی رقابت کا ذکر کیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سرفہرست ہے۔ کئی دہائیوں تک دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سب سے بڑی سیاسی مخالف رہیں۔ اقتدار کی کشمکش، احتجاجی سیاست، ایک دوسرے پر سخت تنقید اور عوامی جلسوں سے لیکر پارلیمان تک دونوں جماعتوں کی محاذ آرائی پاکستانی سیاست کا مستقل باب رہی۔ اسی لئے 2024ء کے انتخابات کے بعد جب یہی دونوں جماعتیں وفاق میں ایک ہی حکومت کا حصہ بنیں تو اسے پاکستان کی سیاست کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا گیا۔یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کیلئے حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوا۔ قومی اسمبلی میں اپنی تقریباً 75 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی نے وہ سیاسی سہارا فراہم کیا جسکے بغیر حکومت کی تشکیل آسان نہیں تھی۔ لیکن یہی تعاون مسلم لیگ (ن) کیلئے مستقبل کے ایک ایسے سیاسی امتحان کی بنیاد بھی بن گیا جسکے اثرات اب آہستہ آہستہ نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس اتحاد کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کی حمایت تو کی، لیکن ابتدا میں وفاقی کابینہ میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ اس حکمت عملی نے ایک طرف حکومت کو اقتدار تک پہنچا دیا، جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کو حکومتی کارکردگی کی مکمل ذمہ داری سے بھی کسی حد تک الگ رکھا۔ یوں حکومت کو ہر اہم موقع پر اپنے سب سے بڑے اتحادی کی سیاسی رضامندی درکار رہی۔سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے ارکان یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں وفاقی سطح پر وہ حصہ نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اگر کسی اتحادی جماعت کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہو جائے تو وہ وقت کے ساتھ سیاسی دباؤ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی حکومت برقرار رکھی، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی اپنی حکومت قائم کی، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی گورنریاں حاصل کیں۔ اب آزاد کشمیر کی سیاست بھی اس کی ترجیحات نمایاں دکھائی دیتی ہیں اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی وہاں بھی حکومت میں فیصلہ کن کردار چاہتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات نے بھی سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ پیپلز پارٹی مستقبل میں اپنے سیاسی مطالبات مزید شدت سے پیش کر سکتی ہے۔ بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی اپنی پارلیمانی طاقت کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی مراکزِ اثر سے بھی تعاون اور حمایت کی خواہاں ہے، تاہم اس تاثر کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ بہرحال، اتحادی حکومت کیلئے ایسے سیاسی اشارے ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔اس اتحاد کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) جیسی جماعتوں کا سیاسی ماضی بتاتا ہے کہ وہ مختلف ادوار میں حکومتوں سے علیحدگی یا حمایت واپس لینے کے فیصلے کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کیلئے صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ اپنے اتحادی بھی مسلسل اہمیت رکھتے ہیں۔

عددی اعتبار سے بھی قومی اسمبلی کی سیاست نہایت دلچسپ ہے۔ اگر مستقبل میں کبھی ایسا سیاسی منظرنامہ بنتا ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تقریباً 75 نشستیں، تحریک انصاف سے وابستہ ارکان کی تقریباً 73 نشستیں، ایم کیو ایم پاکستان کی 22 نشستیں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 10 نشستیں کسی مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر یکجا ہو جائیں تو مجموعی طور پر 180 نشستیں بنتی ہیں، جو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کیلئے درکار تعداد سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس وقت ایسا کوئی اتحاد موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی باضابطہ شکل سامنے آئی ہے، لیکن پارلیمانی سیاست میں عددی برتری ہمیشہ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومتکیلئے اپنے اتحادیوں کا اعتماد برقرار رکھنا صرف سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ اپنی بقا کی بنیادی شرط بھی ہے۔

حکومت کیلئے صرف اتحادی سیاست ہی مسئلہ نہیں۔ عوامی سطح پر حکومتی کارکردگی بھی مسلسل زیر بحث ہے۔ مہنگائی، معاشی دباؤ، سرمایہ کاری، روزگار اور انتظامی اصلاحات جیسے شعبوں میں عوام فوری نتائج چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں متعدد سیاسی مبصرین یہ رائے دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت کیلئے ریاستی اداروں کے ساتھ آئینی حدود میں رہتے ہوئے مؤثر ہم آہنگی برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔ ان کے مطابق اگر حکومت اپنی سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے، اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے اور عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہ ہوئی تو صرف بیرونی دباؤ ہی نہیں بلکہ اندرونی سیاسی اختلافات بھی اسکیلئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں انتظامی اصلاحات، نئے انتظامی یونٹس اور مزید صوبوں کے قیام جیسے موضوعات بھی دوبارہ زیر بحث آئے ہیں۔ اگرچہ ان معاملات پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، لیکن ان پر ہونیوالی بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں حکمرانی کے موجودہ ماڈل پر مختلف آراپائی جاتی ہیں۔ حکومت اگر ان مباحث کو مؤثر اصلاحات میں تبدیل نہ کر سکی تو سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کیلئے سب سے بڑا چیلنج شاید اپوزیشن نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد برقرار رکھنا ہے۔ اتحادی حکومتیں صرف نمبروں سے نہیں بلکہ اعتماد، مستقل رابطے، بہتر کارکردگی اور سیاسی مفاہمت سے چلتی ہیں۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکومتی کارکردگی میں واضح بہتری نہ آئی، کابینہ کو زیادہ مؤثر نہ بنایا گیا، اتحادیوں کے تحفظات دور نہ کیے گئے اور سیاسی رابطوں کو مضبوط نہ کیا گیا تو حکومت کو سب سے بڑا خطرہ اپوزیشن سے کم اور اپنے ہی اتحادی اتحاد کے اندر پیدا ہونے والے دباؤ سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین