ریاستوں کی تاریخ میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے جب طاقت اور تدبر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو۔ دانشمند قومیں ایسے نازک موڑ پر جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ عاقبت نااندیش قیادتیں وقتی جوش میں ایسے فیصلے کر بیٹھتی ہیں جن کی قیمت کئی نسلیں ادا کرتی ہیں۔ آج ایران بھی ایک ایسے ہی تاریخی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
چند ہی ہفتے پہلے پاکستان، چین اور قطر نے بڑی سفارتی محنت سے ایک ایسا ماحول پیدا کیا تھا جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش قرار دیا گیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے سفارتی رابطوں نے یہ امید پیدا کی کہ شاید اب مشرقِ وسطیٰ مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی حل کی طرف بڑھے گا۔ لیکن یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ بعد کے واقعات نے اس مثبت فضا کو شدید دھچکا پہنچایا اور یوں محسوس ہوا کہ سفارت کاری کے دروازے دوبارہ بند کر دیے گئے۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان ممالک کی مخلصانہ کوششیں بھی پس منظر میں چلی گئیں جو پورے اخلاص کیساتھ جنگ کے بجائے امن چاہتے تھے۔ایران نے اپنے کئی اقدامات کو قومی سلامتی اور بیرونی خطرات کیخلاف دفاعی حکمتِ عملی قرار دیا، لیکن عملی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم ہمسایہ ممالک میں بے چینی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔ جب حملوں کی زد میں مسلم ریاستیں آئیں، جب ان کے ہوائی اڈے، توانائی کے مراکز اور اقتصادی ڈھانچے متاثر ہونے لگے، تو یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اس کشیدگی کا سب سے بڑا بوجھ خود امتِ مسلمہ اٹھا رہی ہے۔
اگر یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ بعض ممالک میں امریکی عسکری موجودگی یا مفادات اس کشیدگی کی بنیادی وجہ ہیں، تب بھی سوال باقی رہتا ہے کہ اس حکمتِ عملی کا عملی نتیجہ کیا نکلا؟ بیرونی طاقتیں اپنی جگہ موجود رہیں، لیکن مسلم ممالک کے درمیان فاصلے ضرور بڑھ گئے۔ایرانی اقدامات کی وجہ سے پاکستان خاموش ہو گیا،ایران نے ناراضی کا اظہار کیا اور قطر کی حکومت نے امن کوششوں کے ختم پر افسوس کا اظہار کیا۔اور پہلی مرتبہ سعودی عرب نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر ایران کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر ہمسایہ مسلم ممالک پر حملوں کیلئے ایران نے کون سا معیار طے کر رکھا ہے۔ بھارت کی جانب سے ایران مخالف گروہوں کے درمیان روابط اور اسلحے کی فراہمی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنیں۔یہ خبریں بھی آئیں کہ امریکی طیارے ایران پر حملے سے قبل اسرائیل سے ری فیولنگ کرواتے ہیں لیکن ایرانی میزائل نہ تو بھارت کی یاترا کر سکے اور نہ ہی اسرائیل کا رخ کیا۔برق گری تو مسلم ممالک پر۔ اس سے ایک حقیقت واضح ہے کہ موجودہ کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان ان ممالک کو پہنچ رہا ہے جو خود مسلم دنیا کا حصہ ہیں۔
یہاں پاکستان کی حالیہ پالیسی ایک قابلِ غور مثال ہے۔ بھارت کیساتھ شدید کشیدگی اور عسکری مقابلے کے بعد پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار کیا، لیکن اس کیساتھ ہی سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا۔ قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہی بالغ نظری ریاستوں کو بڑی طاقت بناتی ہے۔ عسکری کامیابی اگر سیاسی حکمت سے محروم ہو تو وہ مستقل امن کی ضمانت نہیں بنتی۔
کاش ایران بھی یہ سوچتا کہ میدانِ جنگ میں طاقت دکھانا آسان ہے، مگر اپنے عوام کو معاشی خوشحالی، سیاسی استحکام اور بین الاقوامی اعتماد دینا کہیں زیادہ مشکل اور اہم کام ہے۔ آج ایرانی عوام مہنگائی، بے روزگاری، پابندیوں، کرنسی کی کمزوری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک ایسی قوم، جو تعلیم، صنعت، سائنس اور تہذیب میں نمایاں مقام رکھتی ہے، وہ بہتر مستقبل کی مستحق ہے۔ اگر قومی وسائل مسلسل کشیدگی میں صرف ہوتے رہیں تو اس کی قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ایک طویل جدوجہد کے بعد دنیا کا امن بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن ایران میں قیادت کے بحران کے باعث دنیا ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہوگئی اور دنیا نے ایرانی قیادت کی بات پر توجہ دینا چھوڑ دیا۔
سوویت یونین، عراق اور دیگر کئی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ عسکری طاقت کے ساتھ معاشی استحکام، سفارتی اعتماد اور عوامی اطمینان بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی عناصر کسی ریاست کو دیرپا طاقت عطا کرتے ہیں۔ ایران اگر واقعی امتِ مسلمہ میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے دوست ممالک کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی قدر کرنی ہوگی۔ پاکستان، چین اور قطر جیسے ممالک نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تصادم کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی کوششوں کو کمزور کرنا یا انہیں مطلوبہ اہمیت نہ دینا پورے خطے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔گزشتہ دنوں جب امریکہ ایک بڑے حملے کا اعلان کر چکا تھا تب ایرانی درخواست پر پاکستان سعودی عرب اور قطر نے امریکہ سے حملے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔
ایران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی ترجیحات تبدیل کرے۔ اگر اس نے امن، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کا راستہ اختیار کیا تو اس کے اپنے عوام بھی فائدہ اٹھائیں گے اور مسلم دنیا بھی۔ لیکن اگر موجودہ طرزِ فکر برقرار رہا تو اس کا سب سے بڑا نقصان کسی بیرونی طاقت کو نہیں بلکہ خود ایران اور پورے اسلامی خطے کو ہوگا۔