• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قومی اتحاد، فکری یکجہتی اور اجتماعی بصیرت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی اور انتہاپسندی کی نئی لہریں ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، دوسری طرف پاکستان کے دشمن مذہب، مسلک، سیاست اور قومیت کے نام پر نفرت اور تقسیم کو ہوا دے کر قومی وحدت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ ناگزیر تھا کہ پاکستان کی مذہبی قیادت، علماء کرام، مشائخِ عظام، دینی مدارس کے ذمہ داران اور مختلف مذاہب کے قائدین پوری قوم کو ایک واضح، مضبوط اور متفقہ پیغام دیں کہ پاکستان کا مذہبی طبقہ امن کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی کے ساتھ نہیںاتحاد کے ساتھ کھڑا ہے، انتشار کے ساتھ نہیںریاست کے ساتھ کھڑا ہے، ریاست دشمنی کے ساتھ نہیں۔اسی قومی ضرورت کے پیشِ نظر قومی پیغامِ امن کمیٹی، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام پشاور میں قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس منعقد کی گئی۔ یہ اجتماع محض ایک رسمی کانفرنس نہیں بلکہ پاکستان کے متفقہ قومی بیانیے کا عملی اظہار تھا۔ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام، مشائخ، مختلف مذاہب کے مذہبی قائدین، دینی مدارس کے ذمہ داران اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ وطنِ عزیز کا امن، استحکام اور سلامتی ہر اختلاف سے بالاتر ہیں۔

اس کانفرنس کا سب سے اہم اور بنیادی پیغام یہ تھا کہ امن اور اتحاد سب کی ضرورت ہیں۔ امن کسی ایک جماعت، کسی ایک مکتبِ فکر، کسی ایک ادارے یا کسی ایک طبقے کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری، ہر خاندان، ہر شہر، ہر صوبے اور ہر ادارے کی ضرورت ہے۔ جب امن ہوگا تو ترقی ہوگی، سرمایہ کاری ہوگی، تعلیم اور معیشت مضبوط ہوں گی، اور جب بدامنی ہوگی تو اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس میں اس بات پر غیر معمولی اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد قومی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی تقسیم یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ بات بھی پوری وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی کہ اس کانفرنس کا کسی سیاسی سرگرمی، انتخابی مہم یا سیاسی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کا مقصد نہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت تھا اور نہ مخالفت۔ اس کانفرنس کا واحد مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور قومی قوتوں کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف ایک آواز بنیں۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن پاکستان کا امن، قومی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد نہیں ہوگی تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوگا۔

کانفرنس میں یہ حقیقت بھی پوری قوت سے بیان کی گئی کہ اسلام امن، رحمت، عدل، اعتدال اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کسی بے گناہ انسان کے قتل، خودکش حملوں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، بازاروں یا عوامی مقامات پر حملوں، ریاستی اداروں کے خلاف مسلح کارروائی یا نفرت اور فساد کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیتیں۔ اسی لیے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ جو فرد، گروہ یا تنظیم دہشت گردی میں ملوث ہو، دہشت گردوں کی سہولت کاری کرے یا ان کے لیے فکری جواز پیدا کرے، اس کی حمایت کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔اس کانفرنس کی ایک اہم کامیابی یہ بھی تھی کہ دینی مدارس کے نمائندگان اور ذمہ داران نے نہایت واضح انداز میں یہ مؤقف پیش کیا کہ مدارسِ عربیہ ہمیشہ قرآن و سنت، اعتدال، اخلاق، برداشت اور وطن سے محبت کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ مدارس پاکستان کے نظریاتی، علمی اور اخلاقی اثاثے ہیں اور انہیں دہشت گردی سے جوڑنے کی ہر کوشش حقائق کے منافی ہے۔ مدارس نے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ، دینی تعلیم کے فروغ اور معاشرتی اصلاح میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

کانفرنس میں پیغامِ پاکستان کے متفقہ قومی بیانیے کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک بھر کی مساجد، مدارس، دینی جامعات اور مذہبی اجتماعات میں امن، اعتدال، رواداری، آئینِ پاکستان کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کا پیغام عام کیا جائے گا۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اختلافِ رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، لیکن اختلاف کو تشدد، نفرت اور انتشار میں تبدیل کرنا نہ دینی اعتبار سے درست ہے اور نہ آئینی اعتبار سے۔شرکاء نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سیکورٹی فورسز کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی بقا، سلامتی اور آزادی کی ضمانت ہیں اور پوری قوم ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہداء کے خون کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کے اندر امن، اتحاد اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔کانفرنس میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو قومی استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا گیا۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ اختلافات کو نفرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے مکالمہ، احترام، برداشت اور مشترکہ قومی مقاصد کو فروغ دیا جائے۔ مختلف مکاتبِ فکر اور مختلف مذاہب کے قائدین کی ایک پلیٹ فارم پر موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ پاکستان کی مذہبی قیادت قومی یکجہتی اور امن کے لیے متحد ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پشاور کانفرنس کے پیغام کو صرف ایک تقریب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے قومی تحریک کی صورت دی جائے۔ مدارس، جامعات، مساجد، تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ، سیاسی جماعتیں، مذہبی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور ریاستی ادارے سب مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے مکالمہ، تقسیم کے بجائے اتحاد اور انتہاپسندی کے بجائے اعتدال کو فروغ ملے۔یہ کانفرنس اس حقیقت کا اعلان تھی کہ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر، تمام دینی مدارس، مختلف مذاہب کے قائدین اور قومی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا کوئی مذہب نہیں، کوئی مسلک نہیں اور کوئی جواز نہیں۔ پاکستان کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہوگا جب قومی اتحاد، آئینِ پاکستان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، پیغامِ پاکستان کے متفقہ بیانیے اور شہداءِ وطن کی قربانیوں کے احترام کو اپنی قومی ترجیحات کا مستقل حصہ بنایا جائے۔یہی پیغام پشاور سے پورے پاکستان کے لیے دیا گیا، اور یہی پیغام آنے والے دنوں میں قومی سلامتی، امن اور استحکام کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔

تازہ ترین