اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے صوبے بنانا ضروری ہیں۔یہ بات خوبصورت تو بہت ہےمگر سادہ نہیں ہے۔لوگ آسانی سے اس بات کا بھروسہ نہیں کرتے۔اختیار کی منتقلی والی جو کہانی شروع سے چلی آرہی ہے اس سے کبھی لگا نہیں کہ معاملہ دراصل اختیارات دینے کا ہے۔کہیں نہ کہیں معاملہ اختیارات لینے کا لگتا ہے۔مشرقی پاکستان ساتھ ہوتا ہے تو ہم وسائل کی تقسیم کیلئے رقبے کو بنیاد بنانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔مشرقی پاکستان الگ ہوجاتا ہے تو ہم الٹی گلانٹی مار کے آبادی کو بنیاد بنا لیتے ہیں۔ون یونٹ کی بات بھی ہم کرتے ہیں اور صوبوں کی اہمیت بھی ہم ہی بتاتے ہیں۔تمام تر وسائل جھونک کر ہم فاٹا کو پختونخوا میں ضم کرتے ہیں، پھر فاٹا کو واپس نکالنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔چلتے چلتے اچانک اسی فاٹا کو صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔
پاکستان میں صوبے کی بات ایک الجھن ہے۔یہ دوسرے ممالک سے ذرا مختلف ہی الجھن ہے۔جو صوبے موجود ہیں وہ کسی فیڈریشن نے تشکیل نہیں دیے۔صوبوں نے مل کر ایک فیڈریشن قائم کی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔اس صورتحال میں اگر صوبوں کو توڑ کر مزید صوبے بنانے ہوں تو صوبوں کیساتھ غیر معمولی مکالمہ کرناپڑے گا۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں رسمی مکالمے کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا۔مین اسٹریم میڈیا پر بیٹھے نمائندہ صحافی بتا رہے ہیں کہ صوبوں کے حوالے سے فیصلے ہوچکے ہیں، مگر سینئر تجزیہ کار مظہرعباس جاننا چاہ رہے ہیں کہ یہ فیصلے ہو کہاں رہے ہیں۔جو یہ جاننا چاہ رہا ہے اسکی ذہانت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
صوبوں کی تقسیم فی الحال ایک تنازع بھی ہے اورایک بڑا خرچہ بھی۔بدمزگی کے بغیر کم خرچے میں بلدیاتی نظام کو آزمانے میں کیا حرج ہے؟یہ تجربہ ہم مشرف دور میں کامیابی کیساتھ کر بھی چکے ہیں۔ساری دنیا میں ڈی سینٹرلازیشن کا یہی ماڈل ہے۔پارلیمان کے ممبر قانون سازی تک محدود رہتے ہیں اورترقیاتی کام لوکل گورنمنٹ کرتی ہے۔ہم لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے دنیا کی مثالیں دینے کی بجائے بھارت کے 28 صوبوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ابھی پچھلے دنوں اسلام آباد کی اکنامک سمٹ میں بھی سب سے زیادہ یہی مثال زیر بحث آئی۔بھارت کی ہر طرح کی ترقی کا راز زیادہ صوبوں کو بتایا گیا۔ہم یہ تو بتاتے ہیں کہ بھارت میں صوبے بنائے گئے، یہ نہیں بتاتے کہ کیسے بنائے گئے۔بھارت میں ریاستوں یعنی صوبوں کے قیام کیلئے اسی تجویز کو عملی شکل دی گئی جو تجویز ہمارے ہاں اٹھارہویں ترمیم کے حامی دیتے ہیں۔صوبوں کا اپنے وسائل پراختیار ہو۔تعلیم، صحت اور زراعت صوبے کے دائرہ اختیار میں ہو۔اپنا نظام، نصاب اور پالیسی تشکیل دینے میں صوبہ آزاد ہو۔پاور شئیرنگ کا منصوبہ اس قدر منصفانہ ہو کہ قد میں چھوٹے صوبے کو اقلیت، برادری اورعلاقائی لوگ نہ کہنا پڑے۔ جن صوبوں کے وسائل زیادہ ہوں، کمزور صوبہ اس میں حصہ دار ہو۔صوبہ آبادی کے حساب سے کتنا ہی چھوٹا ہو وہ پارلیمان کے فیصلوں پراثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔قانون سازی کے عمل میں کسی کی عملی حیثیت ایک مندوب کی نہ ہو۔صوبے کو سیٹیں دینی نہ پڑیں بلکہ وہ خود سیٹیں لیکرآئیں۔کوئی زبان چھوٹی بڑی نہ ہو۔شناخت کا سوال فیڈریشن کیلئے پریشان کن نہ ہو۔اصل بات تو یہ ہے کہ وفاق اور اکائیوں کے بیچ اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو۔یہ رشتہ تب ہی مضبوط ہوگا جب طاقت اور اختیار کو اکائیوں میں تحلیل کیا جائے گا۔سامنے کی بات یہ ہے کہ یہ رشتہ کمزور پڑتا جارہا ہے۔بیگانگی اور لاتعلقی بڑھ رہی ہے۔عوامی نمائندگی کا دائرہ سکڑ رہا ہے۔قومی بیانیے اور عوامی بیانیے میں فرق واضح ہوتا چلا جا رہا ہے۔یہ سب اسی لیے ہورہا ہے کہ مرکز طاقت و اختیار کا سرچشمہ بنتا چلا جارہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ مذاکرات نے صوبوں کی عادتیں خراب کردی ہیں۔یہ سچ نہیں ہے۔ 2008 کے بعد کے عرصے میں صوبوں کے بیچ اعتماد میں اضافہ ہوا۔اس میں سیاسی قوتوں کے بیچ ہونیوالے مکالمے نے کردار ادا کیا۔اہم یہ نہیں ہے کہ گفتگو ہوئی۔ اہم یہ ہے کہ گفتگو ڈی سینٹرلائزیشن کی سوچ کے ساتھ ہوئی۔
سوچ اگر ون یونٹ والی نہ ہو تو صوبے چار بھی بہت ہیں۔سوچ ون یونٹ والی رہے تواڑتالیس صوبوں سے بھی کوئی معاشی اور انتظامی تبدیلی نہیں آسکے گی۔کیا ہم تنوع پر یقین رکھتے ہیں؟سچ یہ ہے کہ ہم تو ڈائیورسٹی کا ترجمہ بھی تقسیم بتاتے ہیں۔کیا ہم شناخت کا احترام کرتے ہیں؟ سچ یہ ہے کہ شناخت کو ہم عصبیت اور ملک دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں۔صوبائی حقوق، علاقائی وسائل اور اختیارات کی بات آجائے تو اسے کاؤنٹر کرنے کیلئے ہم ’پاکستانیت‘ کا سوال رکھ دیتے ہیں۔ہم باقاعدہ باور کرواتے ہیں کہ با اختیار اکائی وفاق کو کمزور کرنے کی سازش ہوتی ہے۔یہ چیزیں ہمارے ون یونٹ اپروچ کو ظاہر کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صوبوں کی بات آجائے تو پہلے سے موجود بداعتمادی کی فضا میں دس گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اب تو ہر طرف ہی بے اعتباری کا عالم ہے۔اکائیوں کی کیا بات کریں، خود وفاق کی سطح پر تقسیم گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔آپس کا رابطہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔با اختیار لوگوں کو بھی عوامی بیانات اور پوڈکاسٹوں کے ذریعے کمیونیکیشن کرنی پڑرہی ہے۔حکومت کے اندر کے حالات کو سمجھنے کیلئے میڈیا کو حکومتی صفوں سے ہی تین مختلف دماغوں کو انگیج کرنا پڑ رہا ہے۔ان حالات میں صوبوں کی بات کرنا ملک کے سیاسی حالات کو مزید الجھانے والی بات ہے۔
اکائیوں کو مضبوط و با اختیار کیے بغیر وفاق کو مضبوط بنانا ایک مشکل منصوبہ ہے۔ایک مضبوط فیڈریشن کا راستہ جمہوریت اورآئین سے ہوکر گزرتا ہے۔ہم مگرآئین اور جمہوریت کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اب لوکل گورنمنٹ کے علاوہ شاید ہی کوئی چیز ایسی رہ گئی ہو جو اکائیوں اور وفاق کا تعلق بحال کر سکے۔تین چیزیں چھوڑ کر بھی یہ ایک چیز خریدنی پڑے تو خرید لینی چاہیے۔ہم کسی مثالی جگہ پر نہیں کھڑے۔ ہم سرے سے کہیں کھڑے ہی نہیں ہیں۔ہم نے سفر شروع کرنا ہے۔لوکل گورنمنٹ اس سفر کا پہلا سنجیدہ قدم ہوسکتا ہے۔