وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے جو وفاقی کابینہ میں شاید ایک خاص پاور ہاؤس کی نمائندگی کرتے ہیں، ملک کے موجودہ نظام کو ناکام اورازکاررفتہ قرار دیتے ہوئے گڈ گورنٹس کیلئے نئے صوبوں کے قیام پر زور دیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، کچھ سیاسی پارٹیوں نے دبی زبان میں انکے نظریے کی حمایت کی ہے اور کچھ نے زبردست مخالفت، کچھ نے انہیں طعنے بھی دیئے ہیں کہ اتنے سال اقتدار میں رہنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ یہاں کا نظام ہی درست نہیں۔ آوے کا آواہی بگڑا ہوا ہے۔آوا بگڑنے کی بنیاد تو قیام پاکستان کے وقت ہی پڑ گئی تھی۔ وہ لوگ تو ایک ایک کرکے منظر سے ہٹ گئے یا ہٹا دئیے گئے جنہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور جگر کا خون دیکر اسے عملی جامہ پہنایا تھا۔ سب سے پہلے قائد اعظم دنیا سے رخصت ہوئے یا رخصت کردئیے گئے۔ پھر لیاقت علی خان شہیدکئے گئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یہ بڑے ستون گر جانے کے بعد بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور جاگیرداروں، وڈیروں، خوانین اور سرداروں کی بن آئی یہ منظر خود نہیں بنا سوچ سمجھ کر بنایا گیاتھا۔ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوا ہے کہ قائد اعظم اورقائد ملت کی جگہ کوئی غلام محمد، اسکندر مرزا، ایوب خان یا یحییٰ خان آجائے ؟منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ بھارت نے جو پاکستان کے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا ڈیڑھ سال میں اپنا آئین بنالیا۔ پاکستان کو 1956ءمیں ایک آئین9سال بعد ملا جسے دوسال میں ہی ایوب خان نے منسوخ کردیا۔ موجودہ آئین ستر کی دہائی میں ملک کے دولخت ہونے کے بعد ملا۔اسے بھی آنے والی دہائیوں میں بار بار معطل کیا گیا۔ نظام کسی ملک کے آئین کے تابع ہوتا ہے جب آئین ہی سےکھلواڑ جاری رہا تو نظام کیسے مستحکم ہوتا؟ جوبھی برسر اقتدار آیا اس نےذاتی جاہ و اقتدار کی پاسداری کو ہی اپنا نظام بنایا۔ جمہوریت اور مشرقی پاکستان اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ایسے وقت میں جب عوام تک زیادہ سے زیادہ جمہوریت کے ثمرات پہنچانے کی ضرورت تھی حکمرانوں کویہ فکر لاحق ہوگئی کہ اکثریت توبنگالیوںکی ہے اقتدار کہیں وہ چھین نہ لیں اس لئے ایوب خان نےپیریٹی کااصول وضع کیا اور نئے صوبے بنانے کی بجائے مغربی پاکستان کے چار صوبوں کوون یونٹ میں تبدیل کرکے، اسے مشرقی پاکستان کے برابر کردیا۔یہ اپنی شخصی حکومت کو دوام دینے کی ایک مذموم کوشش تھی اس کے نتیجے ہی میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ مغربی پاکستان والوں کی ڈھارس بندھ گئی کہ مشرقی پاکستان توایک معاشی بوجھ تھا۔ اچھا ہوا اس سے جان چھوٹ گئی۔ آج یہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے دو نہیں چار ہاتھ ہم سے اقتصادی محاذ پر آگے نکل گیا ہے اور ہم دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے قرضے لئے جارہے ہیں۔ نئے صوبے بنانے کی حمایت اور مخالفت میں بڑےزورداردلائل دئیے جارہے ہیں مگر مخالفانہ آوازیں زیادہ بلند ہیں۔ حمایت میں جو آواز اٹھتی ہے وہ دھیمی یا پھسپھسی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آخر میں سب موجودہ تنخواہ پرہی گزارہ کرلیں گے۔ موجودہ صوبے تقسیم ہوں گے نہ کوئی نیا صوبہ بنے گا ملک پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے،انتشار اوربڑھ جائے گا سب سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے صوبے کی تقسیم کی شدید مخالفت کی ہے۔کراچی صوبہ تحریک وہاں برسہا برس سے چل رہی ہے۔حکمران پارٹی اس کی شدید مخالف ہے۔ایم کیو ایم کےسوادوسرے با اثر طبقے بھی اس کے مخالف ہیں۔ کراچی سونے کی چڑیا ہے بھلا اسے الگ صوبہ بنانے کے کیسے متحمل ہوسکتے ہیں؟ لیکن ایم کیو ایم کراچی صوبہ بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے ۔پنجاب میں سرائیکی صوبہ تحریک طویل عرصے سے جاری ہے۔ پنجاب اسمبلی اس کے حق میں قرارداد بھی محتاط الفاظ میں منظور کر چکی ہے، پیپلز پارٹی اس کی شدومد سے حامی ہے۔ وجہ اس کی یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پنجاب تقسیم ہوجائے تو سندھ ملک کا سب سے بڑا صوبہ بن جائے گا اور وفاق میں اس کی حکومت بنانا آسان ہوجائیگی جیسا کہ اس وقت یہ آسانی پنجاب کو حاصل ہے۔ خیبر پختونخوامیں ہزارہ صوبہ اور بلوچستان میں صوبہ پختوانخوا کا مطالبہ بھی کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے یہ مطالبات لسانی بنیادوں پر کئے جارہے ہیں جبکہ درمیانی راستہ مفاہمت پسندوں نے یہ نکالا ہے کہ نئے صوبے لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔ ایک سیاسی پارٹی نے چاروں صوبوں کو تقسیم کرکے 16صوبے بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے اور ہر صوبے کا نام سمتوں کے اعتبار سے جنوبی شمالی،مشرقی اور مغربی تجویز کیا ہے۔یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی تنازعہ کشمیر حل ہونے تک عبوری صوبوں کا درجہ دے دیا جائے۔ لیکن یہ کھچڑی پکتی نظر نہیں آتی ایک تو آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے۔ آسانی سے محض خواہش ظاہر کرنے پر نہیں بنائے جاسکتے ملک گیر ریفرنڈم بھی ایک آپشن ہے مگر اس کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں میں اتفاق رائے ضروری ہے اور یہ سب سے مشکل مرحلہ ہے ہماری جاگیردرانہ سیاست اس کی کم ہی متحمل ہوسکتی ہے۔ قومی مفاد کا تقاضاتو یہ ہے کہ عوام کے مسائل ان کے دروازے پر یا دروازے کے قریب حل ہونے چاہئیں مگر عملاً ایک دو مستثنیات کے سوا کہیں بھی یہ نظام موجود نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسمبلیوں کے ارکان ہیں۔ ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ فنڈز بلدیاتی اداروں کے ذریعے تقسیم کرنے ہیں تو پھر ہمیں کیا ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ میونسپل کارپوریشنوں، ڈسٹرکٹ کونسلوں اور یونین کونسلوں کی عرصہ دراز سے چھٹی کردی گئی ہے۔ان کا ذکر اب اخباری بیانات میں ہی ملتا ہے جب صورتحال یہ ہوتو گڈ گورننس اور نظام کی بربادی کو کون روکےگا روکنے والے تو تو خود بربادی کے ذمہ دار ہیں۔18ویں آئینی ترمیم میں وفاق سے صوبوں کو کئی اختیارات دلائے گئے تھے جبکہ عملی صورت حال یہ ہے کہ جو17وزارتیں صوبوں کو دی گئی تھیں وہ دوسرے ناموں سےاب بھی وفاق کے پاس ہیں اور انکے ہزاروں ملازمین بھی وفاق ہی کی نوکری کررہے ہیں نظام کا ستیاناس تو نظام وضع کرنے والے ہی کررہے ہیں۔