انٹارکٹیکا کی ٹیلر ویلی میں واقع پراسرار ’بلڈ فالز‘ سے نکلنے والے سرخ رنگ کے پانی کے ماخذ سے متعلق سائنسدانوں کو اہم سراغ مل گیا۔
یہ سرخ رنگ کا نمکین پانی برسوں سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اس کے سرخ رنگ کی وجہ پانی میں موجود لوہے کو قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم نئی تحقیق نے اس کے ماخذ سے متعلق ایک نئی وضاحت پیش کی ہے۔
جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے بلڈ فالز سے نکلنے والے نمکین پانی کے سمندری ماخذ کے حوالے سے سالماتی اور جینیاتی شواہد دریافت کیے ہیں، جو اس قدیم نظریے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ یہ پانی کبھی سمندر کا حصہ تھا۔
محققین نے بلڈ فالز اور اس کے اطراف سے پانی، تلچھٹ اور ہوا کے 167 نمونے حاصل کر کے ان کا تجزیہ کیا، تحقیق میں معلوم ہوا کہ بلڈ فالز کے نمونوں میں سمندری ماحول سے تعلق رکھنے والے 9 فیصد یوکاریوٹک جینیاتی آثار موجود تھے، جبکہ دیگر مقامات سے لیے گئے نمونوں میں یہ مماثلت تقریباً ایک فیصد رہی۔
سائنسدانوں کے مطابق نئے شواہد اس دیرینہ نظریے کو مضبوط کرتے ہیں کہ بلڈ فالز کا پانی لاکھوں سال قبل ٹیلر گلیشیئر کے نیچے پھنس جانے والے قدیم سمندری پانی کے ایک ذخیرے سے نکلا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ سرخ نمکین پانی میں مضبوط سمندری جینیاتی آثار کی موجودگی اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ یہاں ایک قدیم سمندری ماحولیاتی نظام موجود تھا، جو بعد میں انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے الگ تھلگ ہو گیا۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت انتہائی سخت ماحول میں خوردبینی جانداروں کی بقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ تحقیق سے مشتری کے چاند یوروپا اور زحل کے چاند اینسیلاڈس جیسے برف سے ڈھکے دوسرے خلائی اجسام کے اندر زندگی کے امکانات تلاش کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
