حکمرانی کی وہ نہر سوکھنے لگی ہے جو انصاف، دیانت اور قانون کی ٹھنڈی لہروں سے معاشرے کو سیراب کرتی ہے۔ جب قانون ایک چراغ کی طرح ہر دروازے پر یکساں روشنی نہ ڈال سکے تو سائے لمبے ہوتے جاتے ہیں، اور انہی سایوں میں ناانصافی، بداعتمادی اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔ پھر قومیں شور سے نہیں، خاموشیوں سے تھکنے لگتی ہیں۔وہ خاموشیاں جو عدالتوں کے برآمدوں، سرکاری دفتروں، بازاروں اور عام آدمی کے چہرے پر ایک ہی سوال لکھ دیتی ہیں: کیا انصاف بھی کبھی سب کا ہوگا؟
معیشت بھی کسی ایسے دریا کی مانند ہے جسکے کنارے آباد بستیاں ہر سال پیاسی ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگائی نے چولہے کی آگ کو روٹی سے زیادہ آنسوؤں سے روشن کرنا شروع کر دیا ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کے خوابوں کو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح گلیوں میں بکھیر دیا ہے، روپے کی قدر موسمِ خزاں کے اس زرد پتّے کی مانند لرزتی رہتی ہے جو ہر تیز ہوا کے ساتھ اپنی شاخ سے ٹوٹ جانے کے خوف میں جیتا ہے، اور بیرونی قرضے ان برف پوش چوٹیوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں جن کا بوجھ وادیوں میں رہنے والوں کی سانسوں پر اتر آتا ہے۔ تاہم زمین اب بھی بانجھ نہیں ہوئی۔ اس کے سینے میں امید کے بیج موجود ہیں۔
اگر حکمرانی امانت بن جائے، قانون سب کیلئے ایک سا ہو، اور معیشت انسان کی عزتِ نفس کو اپنی پہلی ترجیح بنا لے، تو یہی دریا پھر سے بھر سکتے ہیں، یہی کھیت دوبارہ لہلہا سکتے ہیں، اور یہی آسمان، جو آج گرد سے دھندلا گیا ہے، ایک نئی صبح کی پہلی کرن کو اپنے دامن میں سمیٹ سکتا ہے۔جب ریاست کے ایوانوں میں فیصلے دیواروں کے لیے ہونے لگیں اور انسان دروازوں پر دستک دیتا رہ جائے، تو وقت اپنی رفتار بدل لیتا ہے۔ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے آباد نہیں ہوتیں۔ وہ اعتماد سے آباد ہوتی ہیں۔ اعتماد اس بارش کی مانند ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر بھی یکساں برستی ہے اور وادی کے سبزہ زار پر بھی۔ لیکن جب حکمرانی چند بادلوں کی ملکیت بن جائے تو بہت سی بستیاں پیاسی رہ جاتی ہیں۔ پھر دریا اپنی روانی پر شرمندہ ہوتے ہیں اور کنویں اپنی گہرائی پر ماتم کرتے ہیں۔ قانون اگر سب کے لیے ایک ہی ترازو نہ رکھ سکے تو انصاف کی آنکھوں پر بندھی پٹی بھی سوال بن جاتی ہے۔
شہر کی گلیوں میں چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بازاروں کی رونق نے مسکراہٹوں کی قیمت وصول کر لی ہو۔ ہر دکان پر روشنی ہے، مگر بہت سے گھروں کے چراغ مدھم ہیں۔ مہنگائی اس دھوپ کی طرح ہے جو صرف زمین کو نہیں، انسان کے دل کو بھی جھلسا دیتی ہے۔ ماں جب بازار سے آدھی ضرورتیں لے کر واپس آتی ہے تو اس کے خالی تھیلے میں صرف سبزیاں نہیں ہوتیں، اس میں بچوں کی خواہشوں کی خاموش آہیں بھی ہوتی ہیں۔ باپ جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو اس کی جیب میں چند سکے اور پیشانی پر پورے دن کی شکست کا پسینہ ہوتا ہے۔ یہ وہ زخم ہیں جو جسم پر نہیں، معاشرے کی روح پر لگتے ہیں۔
نوجوان کسی قوم کے بہار کے پہلے پھول ہوتے ہیں، مگر جب بے روزگاری ان کے راستے میں کانٹے بچھا دے تو خوابوں کے باغ ویران ہونے لگتے ہیں۔ یونیورسٹیوں سے نکلنے والے ہزاروں ذہن ایسے پرندوں کی مانند ہیں جن کے پروں میں پرواز کی خواہش تو ہے، مگر افق تک پہنچنے کا راستہ نہیں۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، درخواستیں لکھتے ہیں، انتظار کرتے ہیں اور ایک دن ان کی آنکھوں کی چمک خاموشی میں بدل جاتی ہے۔ کوئی ملک اس وقت غریب نہیں ہوتا جب اس کے خزانے خالی ہوں۔وہ اس وقت غریب ہوتا ہے جب اس کے نوجوان امید سے خالی ہونے لگیں۔
روپیہ کسی ملک کی صرف کرنسی نہیں ہوتا، وہ اس کے وقار کی بھی ایک علامت ہوتا ہے۔ جب اس کی قدر ہر موسم کے ساتھ بدلنے لگے تو بازار صرف نرخ نہیں بدلتے، لوگوں کی منصوبہ بندیاں بھی بکھر جاتی ہیں۔ کسان بیج خریدنے سے پہلے ہچکچاتا ہے، صنعت کار مشین چلانے سے پہلے حساب لگاتا ہے، اور طالب علم کتاب خریدنے سے پہلے کئی خواہشوں کو ملتوی کر دیتا ہے۔ معیشت کا عدم استحکام صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں یہ اس چراغ کا مسئلہ ہے جس کی لو ہر تیز ہوا کے ساتھ لرزنے لگتی ہے۔
بیرونی قرضے کبھی کبھی ان برفانی چٹانوں کی مانند ہوتے ہیں جو دور سے سفید اور خاموش دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کے نیچے پوری وادیاں دب سکتی ہیں۔ قرض اگر ترقی کے راستے بنائیں تو وہ بیج کی طرح ہوتے ہیں، لیکن اگر صرف پرانے قرضوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے نئے قرض لیے جائیں تو وہ زنجیر بن جاتے ہیں۔ آنے والی نسلیں پھر اپنے ہاتھوں میں کتابوں سے زیادہ حساب کی وہ پرچیاں اٹھاتی ہیں جن پر ان کی پیدائش سے پہلے کے فیصلوں کا بوجھ لکھا ہوتا ہے۔ قوموں کی خودداری کا سب سے مضبوط ستون ان کی پیداوار، ان کی محنت اور ان کی دیانت دار معیشت ہوتی ہے۔
اس سب کے باوجود پاکستان کی مٹی نے ابھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر بہار کے بعد گندم پھر سنہری ہوتی ہے، جہاں دریا ہر سال نئے پانی کے ساتھ لوٹتے ہیں، اور جہاں پہاڑ صدیوں سے استقامت کا سبق دے رہے ہیں۔ اگر حکمرانی امانت بن جائے، قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان ایک ہی فاصلے پر کھڑا ہو، معیشت محنت کرنے والے کے ہاتھ مضبوط کرے، اور ریاست اپنے نوجوانوں کو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں پورا کرنے کے مواقع بھی دے، تو یہی سرزمین ایک بار پھر اپنے موسم بدل سکتی ہے۔ قوموں کی تقدیر آسمان پر نہیں لکھی جاتی وہ ان کے کردار، انصاف، علم اور اجتماعی ارادے سے ہر روز نئے سرے سے لکھی جاتی ہے۔