پچیس برس سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ ہوں۔ اس دوران کرنسی کی بے یقینی دیکھی، درآمدی پابندیاں دیکھیں، ٹیرف کی جنگوں کے اثرات بھی بھگتے۔ مگر اس وقت دنیا میں ای ویسٹ اور میموری چپس کے حوالے سے جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ اپنی نوعیت میں مختلف ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے ہاں ان پر وہ سنجیدہ بحث نظر نہیں آتی جسکی یہ صورتحال متقاضی ہے۔ سب سے پہلے دو حقیقتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اکثر لوگ انہیں ایک ہی مسئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہے۔پہلی حقیقت امریکہ کی نئی پالیسی ہے۔ 30جولائی 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی فیصلہ جاری کیا، جسکے تحت امریکی محکمہ تجارت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ’’قابلِ بازیافت اہم معدنیات‘‘ کی برآمد پر پابندیاں عائد کرسکے۔ یہ اقدام دفاعی پیداواری قانون (Defense Production Act) کے تحت کیا گیا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد پرانی لیتھیم بیٹریاں، نایاب زمینی دھاتوں کے مقناطیس اور بلیک ماس جیسے مواد کو امریکہ کے اندر ہی ری سائیکل کرنا ہے، تاکہ ان قیمتی معدنیات کیلئے چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔ امریکہ ہر ماہ ہزاروں ٹن ای ویسٹ برآمد کرتا ہے، جس میں بڑی مقدار میں ایسا خام مال موجود ہوتا ہے جو دوبارہ استعمال کے قابل ہے۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس وقت صرف اختیار دیا گیا ہے، حتمی قواعد و ضوابط ابھی جاری ہونا باقی ہیں۔ اسی طرح یہ اقدام بنیادی طور پر اسکریپ اور ری سائیکل ہونیوالے خام مال سے متعلق ہے، نہ کہ ایسے استعمال شدہ موبائل فون یا لیپ ٹاپ سے جو مرمت کے بعد دوبارہ استعمال کئے جا سکتے ہوں۔ یہ فرق ہمارے کاروبار کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری حقیقت کا تعلق میموری چپس کی عالمی قلت سے ہے، اور یہ مسئلہ امریکی پالیسی سے الگ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز آج جس رفتار سے پھیل رہے ہیں، انہوں نے ہائی گریڈ میموری کی طلب کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ ایک جدید اے آئی سرور اتنی میموری استعمال کرتا ہے جتنی درجنوں بلکہ بعض اوقات سیکڑوں عام لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ مارکیٹ ریسرچ ادارے Trend Force کے مطابق رواں سال ڈی رام میموری کی معاہداتی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات اب صارفین تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ایپل اپنی بعض مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر چکا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی کمپنی SK Hynix کا کہنا ہے کہ میموری کی یہ قلت آئندہ کئی برس برقرار رہ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے زیادہ دباؤ نسبتاً سستے اسمارٹ فونز پر آئیگا، کیونکہ انکی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کیلئے اسکا مطلب بالکل واضح ہے۔ ہم نہ میموری چپس بناتے ہیں اور نہ ہی انکی عالمی قیمتوں پر ہمارا کوئی اثر ہے۔ ہم صرف درآمد کرتے ہیں۔ اسلئے جب عالمی منڈی میں قیمت بڑھتی ہے تو اسکا اثر پہلے درآمد کنندہ پر اور پھر صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔تاہم ہر بحران اپنے ساتھ ایک موقع بھی لاتا ہے۔جیسے جیسے نئے موبائل فون اور لیپ ٹاپ مہنگے ہوتے جائینگے، دنیا بھر میں استعمال شدہ اور معیاری انداز میں مرمت کیے گئے آلات کی مانگ بھی بڑھے گی۔ لوگ نئے آلات خریدنے کے بجائے اپنی موجودہ ڈیوائس زیادہ عرصہ استعمال کرینگے یا اچھی حالت میں موجود ریفربشڈ مصنوعات کو ترجیح دینگے۔ یہی وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان پہلے ہی خاصا تجربہ رکھتا ہے۔ میری رائے میں اب ہمیں چند عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔سب سے پہلے، استعمال شدہ اور ریفربشڈ آلات کے کاروبار کو کمتر درجے کا کاروبار سمجھنے کی سوچ بدلنی ہوگی۔ اگر کوئی موبائل یا لیپ ٹاپ مکمل جانچ، مناسب مرمت اور ضمانت کیساتھ فروخت کیا جائے تو وہ آج کی مارکیٹ میں ایک معقول اور ذمہ دار انتخاب بن چکا ہے، نہ کہ صرف کم بجٹ والوں کی مجبوری۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے چیمبرز آف کامرس اور تجارتی اداروں کو عالمی میموری اور الیکٹرانک پرزہ جات کی قیمتوں پر بھی اسی طرح نظر رکھنی چاہیے جیسے وہ ڈالر کی قیمت پر رکھتے ہیں۔ بروقت معلومات ہی کاروباری منصوبہ بندی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ تیسری بات، امریکی پالیسی کو درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسکا بنیادی ہدف اسکریپ اور ری سائیکل ہونے والا خام مال ہے، نہ کہ وہ استعمال شدہ آلات جو دوبارہ مارکیٹ میں فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اسلئے ہماری توجہ بھی خام مال کے بجائے معیاری، گریڈڈ اور قابلِ استعمال مصنوعات کے کاروبار پر ہونی چاہئے۔ اور آخر میں ایک گزارش پالیسی سازوں سے۔ جب عالمی سپلائی چین پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہو تو درآمدی پالیسی میں بار بار تبدیلیاں کاروبار کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔ تاجر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر سکتا ہے، لیکن قیمتوں میں اضافہ اور پالیسی کی غیر یقینی دونوں کا بوجھ ایک ساتھ اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔پچیس سال کے تجربے نے مجھے صرف ایک بات سکھائی ہے کہ ہر بحران میں کچھ لوگ نقصان اٹھاتے ہیں اور کچھ لوگ نئے مواقع تلاش کر لیتے ہیں۔ آنے والے برس انہی تاجروں کے ہونگے جو حالات کا انتظار کرنے کے بجائے آج سے اپنی حکمت عملی بدلنا شروع کر دیں گے۔