سیاست میں بعض اوقات ایک ہفتہ کئی برسوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ چند واقعات یکے بعد دیگرے ایسے رونما ہوتے ہیں کہ حکومتیں اچانک مضبوط اور مخالفین اپنے ہی بیانیے کے بوجھ تلے دبنے لگتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں بھی اس وقت کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب کھلا ہے، دوسری طرف آزاد کشمیر کے انتخابی میدان میں مسلم لیگ ن نے اپنی سیاسی قوت منوائی ہے اور تیسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے وزرا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وزارت کا فیصلہ صرف قربت نہیں، کارکردگی بھی کرے گی۔ ان تین تصویروں کو ایک فریم میں رکھیں تو ایک بات نمایاں ہوتی ہے: پاکستان کا علاقائی وزن بڑھ رہا ہے اور شہباز شریف حکومت کی سیاسی پوزیشن پہلے سے زیادہ مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔سب سے پہلے دفاعی معاہدے کو دیکھیے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی تین عام ممالک نہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور ایک بڑی فوجی قوت ہے۔ سعودی عرب مسلم دنیا کا معاشی اور سفارتی مرکز ہے، جبکہ ترکی جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مضبوط فوج اور تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کا حامل ملک ہے۔ ان تینوں کا دفاعی تعاون ایک ایسی اسٹرٹیجک مثلث بنا سکتا ہے جسے اسلام آباد سے ریاض اور انقرہ تک ہی نہیں بلکہ نئی دہلی، تہران، تل ابیب، واشنگٹن اور دوسرے عالمی دارالحکومتوں میں بھی غور سے دیکھا جائیگا۔
پاکستان کیلئے پہلا فائدہ واضح ہے۔ اس کی دفاعی Deterrence مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔دوسرا فائدہ ٹیکنالوجی کا ہے۔ ترکی نے ڈرونز، میزائل، بحری جہاز، فضائی دفاع اور جدید عسکری نظاموں میں اپنی صلاحیت دنیا سے منوائی ہے۔ پاکستان کے پاس بھی میزائل، ایوی ایشن اور دفاعی پیداوار کا وسیع تجربہ موجود ہے۔ دونوں کی مہارت اور سعودی سرمایہ ایک جگہ جمع ہو تو مستقبل میں بڑی دفاعی صنعت کھڑی ہوسکتی ہے۔تیسرا فائدہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کو ہوسکتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی منڈی اربوں ڈالر کی ہے۔ پاکستان اگر مشترکہ پیداوار اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے تو دفاعی صنعت ملکی معیشت کیلئے زیادہ اہم زرمبادلہ کمانے والا شعبہ بن سکتی ہے۔ سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ دفاعی تعلق اگر دانش مندی سے آگے بڑھایا جائے تو اس کے ساتھ سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ منصوبے بھی آتے ہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب بندوق اور بارود سے آگے بڑھ کر اس تعاون کا فائدہ پاکستانی معیشت اور عام پاکستانی تک پہنچے۔
اب آزاد کشمیر چلتے ہیں۔وہاں مسلم لیگ ن کی انتخابی کامیابی نے ایک عرصے سے بنایا جانے والا یہ تاثر توڑ دیا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی جماعت سیاسی میدان کھو چکی ہے۔ آزاد کشمیر کے ووٹر نے اپنا فیصلہ دیا اور مسلم لیگ ن اس مقابلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ نکلی۔یہ کامیابی شہباز شریف حکومت کو پانچ حوالوں سے فائدہ دیتی ہے۔ہلا، حکومت کو تازہ سیاسی اعتماد ملا۔ دوسرا، مسلم لیگ ن یہ کہنے کی پوزیشن میں آگئی کہ مشکل معاشی فیصلوں کے باوجود اس کا ووٹر اس کے ساتھ ہے۔ تیسرا، دفاعی معاہدے نے حکومت کو خارجہ پالیسی میں ایک اہم کامیابی کا بیانیہ دیا۔ چوتھا، وزیراعظم کا وزرا کی کارکردگی جانچنے کا فیصلہ حکومت کو انتظامی طور پر زیادہ متحرک کرسکتا ہے اور پانچواں، یہ تمام عوامل مل کر حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے کی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی منظرنامے میں پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ ردعمل سیاسی طور پر حیران کن دکھائی دیتا ہے۔آزاد کشمیر میں انتخابی شکست کے بعد بلاول بھٹو نے انتخابی عمل پر سنگین الزامات عائد کیے اور ریاستی اداروں کے کردار پر بھی سخت سوال اٹھائے۔ سوال اٹھانا ان کا حق ہے، مگر سوال اور الزام کے بعد اگلا مرحلہ ثبوت کا ہوتا ہے۔ اگر دھاندلی ہوئی تو ثبوت سامنے لائیے، متعلقہ اداروں سے رجوع کیجیے، قانونی جنگ لڑئیے۔ جمہوریت میں انتخابی نتیجہ محض اس لیے جھوٹا نہیں ہوجاتا کہ نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔
یہ رویہ پیپلز پارٹی کو پانچ طرح سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔پہلا نقصان یہ کہ شکست تسلیم نہ کرنے کا تاثر مضبوط ہوگا۔ دوسرا، ریاستی اداروں کے بارے میں غیرضروری سخت زبان ایک قومی جماعت کو فائدے کے بجائے سیاسی تنہائی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ تیسرا، پیپلز پارٹی کیلئے یہ وضاحت مشکل ہوتی جائے گی کہ جس وفاقی سیاسی بندوبست کے ساتھ وہ چل بھی رہی ہے، اسی کو مسلسل مشکوک بھی کیوں قرار دیتی ہے۔ چوتھا، بلاول بھٹو کے مستقبل کے قومی رہنما کے تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ قومی قیادت کی پہچان صرف فتح کا جشن نہیں بلکہ شکست برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہوتی ہے۔ پانچواں اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ الزامات کے شور میںشاید پیپلز پارٹی اپنی اصل انتخابی کمزوریوں کا جائزہ ہی نہ لے سکے۔مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی انتخابی کامیابی اپنے نام کرچکی لیکن حکومت کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔ سیاسی استحکام منزل نہیں، موقع ہوتا ہے۔ دفاعی معاہدے کو معاشی فائدے میں بدلنا ہوگا، انتخابی کامیابی کو اچھی حکمرانی میں، اور کابینہ کے احتساب کے اعلان کو عملی فیصلوں میں۔اگر شہباز شریف یہ کرگئے تو مخالفین کے شور سے حکومت نہیں گرے گی، بلکہ اپنی کارکردگی سے مزید مضبوط ہوگی۔پاکستان نے بہت عرصہ دنیا سے یہ سوال سنا کہ وہ کس کیمپ میں کھڑا ہے۔ شاید اب وقت آرہا ہے کہ دنیا یہ دیکھے کہ پاکستان کے ساتھ کون کھڑا ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے قریب آنا محض ایک معاہدے کی خبر نہیں، خطے میں پاکستان کی بڑھتی اہمیت کی خبر بھی ہے۔ پاکستان کی عزت بڑھے تو سیاسی اختلاف ایک طرف رکھ کر اتنا ضرور کہنا چاہیے: پاکستان کو ایک اور عزت مبارک ہو۔