• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ مشترکہ معاہدے کا مقصد اسٹرٹیجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا ہے، سعودی سفیر

ریاض(شاہد نعیم)سعودی وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکرٹری، ایمبیسیڈر ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ معاہدہ کا مقصد دفاعی تیاری بڑھانے کے ساتھ اسٹرٹیجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا، ان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لئے تعاون کو فروغ دینا ہے،دوسری جانب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اہم دفاعی معاہدے کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کی بلند ترین عمارت کنگڈم ٹاور کو تینوں ممالک کے قومی پرچموں سے سجا دیا گیا ہے، امریکا میں ریپبلکن رکن پارلیمنٹ جو ولسن نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں استحکام، امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے حوالے سے امریکی صدرکی ایک اور کامیابی ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکرٹری، ایمبیسیڈر ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط گہرے تاریخی اور سٹریٹیجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کئی برسوں تک جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ ایکس میں لکھا ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں بانی ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، دفاعی تیاری بڑھانے کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا اور ان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے واضح کیا معاہدے کا مقصد کسی فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ یا مسلکی بلاک کے قیام کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا خطے میں اسلحے کی دوڑ سے ہے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار خود انحصار صلاحیتوں کی ترقی ہے۔دریں اثناء کنگڈم ٹاور پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے پرچموں کی خوبصورت منظرکشی تینوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کر رہی ہے۔تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کو خطے میں باہمی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ریاض کی معروف عمارت پر تینوں ممالک کے پرچموں کی موجودگی نے اس اتحاد کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔مختلف علاقوں میں چراغاں کے ان مناظر نے اس تاریخی معاہدے پر عوام کے بھرپور جوش و خروش کی عکاسی کی۔ یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کی سمت پیش رفت کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کو مجسم کرتا ہے۔مملکت میں مقیم پاکستانی شخصیات نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید