• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرورِ عالم، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ٰﷺ (قسط نمبر1)

خورشیدِ اسلام کے طلوع ہونے سے قبل دنیا میں دورِ وحشت کا راج تھا۔ انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خود جزیرۃ العرب کے معاشرتی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی حالات بھی سخت اضطراب، انتشار اور بدترین زوال و انحطاط کا شکار تھے۔ مالک و غلام اور حاکم و محکوم کی تقسیم نے غریب طبقے کو جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کردیا تھا۔

ہر سُو طاقت و قوت اور جبر و استبداد کی حکم رانی تھی۔ شرک و بُت پرستی، توہّمات و خرافات اور بدعات پر مبنی عقیدہ ہی اصل دین گردانا جاتا تھا۔ نجومی و جوتشی اور کاہن مہذّب ترین لوگ سمجھے جاتے تھے۔ شراب و کباب، زِنا و بدکاری، جوئے اور رقص و سُرود کی محفلیں عام تھیں۔ عورتوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی، اُنھیں حقِ وراثت حاصل نہیں تھا۔ اُن کی عصمتیں پامال کرکے اُن کی خرید و فروخت کی جاتی۔

سنگ دلی اور وحشیانہ پن کا عالم یہ تھا کہ اکثر گھرانوں میں  نوزائیدہ لڑکیوں کو رسوائی اور اخراجات کے خوف سے زندہ دفن کردیا جاتا۔ عہدِ جاہلیت میں عربوں کو گھمنڈ تھا کہ یہ دینِ ابراہیمی ؑ کے پیروکار ہیں، لیکن حقیقتاً اُنھوں نے دین کو بھی اپنی خواہشات کا غلام بنالیا تھا۔ طلوعِ اسلام سے قبل خانہ کعبہ میں  360بُت تھے۔ ویسے تو ہر قبیلے کا اپنا بُت تھا، لیکن ہر خواہش کی تکمیل، حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے بھی الگ الگ بُت تھے۔

بنو ہاشم، سب سے معتبر قبیلہ

یہ دنیا کے وہ گمبھیر و بدترین حالات تھے، جن کے سدھار اور ڈوبتی انسانیت کو صراطِ مستقیم پر لانے کافیصلہ خود قدرت نےکیا۔ اور اس عظیم اعزاز کے لیے دنیائے عرب کے سب سے معتبر شخص، قریش کے مشہور قبیلے بنو ہاشم کے سردار، خانۂ کعبہ کے متولّی اور دینِ ابراہیمی ؑ کے ییروکار، جناب عبدالمطّلب کو منتخب کیا گیا۔

ایک حدیث مبارکہ میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا۔ ’’(مجھے دنیا میں بھیجنے کے لیے) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکی ذرّیت سے حضرت اسماعیلؑ کا انتخاب فرمایا۔ اولادِاسماعیل ؑ سے (قبیلہ) کنانہ کا انتخاب کیا اور کنانہ کی اولاد سے قریش کا انتخاب کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چُنا، جب کہ بنو ہاشم سے مجھے منتخب کیا گیا۔‘‘(صحیح مسلم، حدیث 2276)

’’بنو ہاشم‘‘ اولادِ اسماعیل ؑ میں سب سے زیادہ معتبر و مقبول قبیلہ تھا، جس کے سردار، جناب عبدالمطّلب تھے۔ جناب عبدالمطّلب کو اللہ تعالیٰ نے اولادِ کثیر سے نوازا۔ اُن کے دس بیٹے اور چھے بیٹیاں تھیں۔ عبدالمطّلب کی اولاد میں سب سے چھوٹے بیٹے کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا۔ جو حُسن و سیرت میں اپنی مثال آپ تھے۔ چھوٹے ہونے کی وجہ سے تمام بہن بھائیوں کے چہیتے اور والدین کے لاڈلے تھے۔

عبدالمطّلب نے اپنے صاحب زداے حضرت عبداللہ کے لیے بنو زہرہ کے سردار وہب بن عبدِ مناف کی حسین و جمیل صاحب زادی حضرت آمنہ کا انتخاب کیا، جو نسب و رتبے کے لحاظ سے قریش کی افضل ترین خاتون تھیں۔ نکاح و رخصتی کے کچھ عرصے بعد حضرت عبدالمطّلب کی ہدایت پر حضرت عبداللہ، قریش کے ایک قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے ملکِ شام تشریف لے گئے، لیکن واپسی پر آپ ’’یثرب‘‘ کے مقام پر بیمار ہوئے اور انتقال کرگئے۔

ان کی تدفین قبیلہ بنو عدی بن النجار کے ایک شخص، نابغہ جعدی کے مکان میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ کی عُمر اُس وقت25سال تھی۔ مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کی پیدائش (ولادتِ باسعادت) ابھی نہیں ہوئی تھی۔

رسول اللہﷺ کی ولادتِ با سعادت

ربیع الاوّل تقویمِ اسلامی کا تیسرا مہینہ ہے۔ ربیع کے لغوی معنی ’’بہار‘‘ کے ہیں اور ربیع الاوّل کے معنیٰ ’’بہار کا پہلا مہینہ‘‘ یہ پورے سال کا سب سے خُوب صُورت مہینہ کہلاتا ہے۔ اس موسم بہار میں اہلِ عرب اپنی تمام تر مصروفیات ترک کرکے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔(3/1)اللہ ذوالجلال نے حضور رسالت مآب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ولادت باسعادت کے لیے اس مہینے کو منتخب فرمایا۔

ربیع الاول کا مہینہ، دوشنبہ کا دن اور صبحِ صادق کی یہ وہ مبارک گھڑی تھی، جب جزیرہ نمائے عرب پر توحید کا سورج طلوع ہوا اور کفر و شرک کے اندھیرے چَھٹ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے خورشیدِ اسلام کی درخشاں شعائوں نے پوری دنیا کو روشن و منوّر کردیا۔ حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت اور دنیا میں تشریف آوری ایک ایسا تاریخ ساز لمحہ اور عظیم انقلاب ہے ، جس نے کائنات کو ایک نئی جہت ، نیا موڑ اور فلاح و کام رانی کا ایک نیا دستور عطا کیا۔

روایات میں ہے کہ ولادتِ باسعادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پزیر ہوئے۔ علامہ شبلی نعمانیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اُس رات ایوانِ کسریٰ  کے 14 کنگرے گرگئے، آتشِ کدئہ فارس بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہوگیا۔‘‘ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوانِ کسریٰ نہیں، بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گرپڑے۔

آتشِ کدئہ فارس ہی نہیں، بلکہ جحیمِ شر، آتش کدہ کفر، آذر کدہ گم راہی سرد ہوگئے۔ صنم خانوں میں خاک اُڑنے لگی۔ بُت کدے خاک میں مل گئے۔ شیرازئہ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراقِ خزاں دیدہ ایک ایک کرکے جھڑ گئے۔ توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستانِ سعادت میں بہار آگئی۔

آفتابِ ہدایت کی شعائیں ہر طرف پھیل گئیں۔ اخلاقِ انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اُٹھا۔ یعنی یتیم ِعبداللہ، جگر گوشۂ آمنہ، شاہِ حرم، حکم ران عرب، فرماں روائے عالم، شہنشاہِ کونین ﷺ عالمِ قدس سے عالمِ امکان میں تشریف فرمائے، عزّت واجلال ہوا۔ (سیرت النبی 1/117)۔

تاریخِ ولادتِ باسعادت

آپؐ کی ولادت، واقعہ فیل کے پچاس یا پچپن دن بعد ماہِ ربیع الاوّل میں ہوئی۔ مصر کے مشہور ہیئت داں، عالم محمود پاشا فلکی نے دلائلِ ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپؐ کی ولادت 9؍ربیع الاوّل، بمطابق 20؍اپریل571عیسوی میں ہوئی تھی (سیرت النبی 1/117)۔ ابنِ ابی شیبہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت جابر بن عبداللہؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آپؐ 12؍ربیع الاول کو پیدا ہوئےتھے۔ اس کی تصریح محمد بن اسحاق نے کی ہے اور جمہور اہلِ علم میں یہی تاریخ مشہور ہے۔ (سیرت سرورِ عالم 2/93)۔

حضرت اسحاق بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ محترمہ نے فرمایا کہ ان کے پیدا ہوتے ہی مجھ سے ایک ایسا نور نکلا کہ جس سے ملک شام کے قصر و ایوان روشن ہوگئے۔ (طبقات ابن سعد، اردو 1/110)۔ولادت کے بعد حضرت بی بی آمنہ نے آپؐ کے دادا، حضرت عبدالمطّلب کے پاس پوتے کی خوش خبری بھیجی۔ وہ خوشی اور مسّرت سے سرشار فوری طور پر گھر تشریف لائے۔

آپؐ کو گود میں لے کر خانۂ کعبہ میں آئے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اور اُس کا شُکر ادا کیا۔ دادا نے’’محمد‘‘ نام رکھا۔ یہ نام عرب میں نیا اور غیر معروف تھا۔ والدہ محترمہ نے نام ’’احمد ‘‘رکھا۔ ابو جعفر محمد بن علیؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ابھی والدہ کے شکم ہی میں تھے کہ سیّدہ آمنہ کو حکم ہوا کہ ان کا نام ’’احمد‘‘ رکھیں۔ (طبقات ابن سعد 1/111)۔

رسول اللہؐ کے بچپن کے چند واقعات

رسول اللہ ﷺ نے شروع میں اپنی والدہ محترمہ کا دودھ پیا۔ پھر چند روز تک ابولہب کی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا۔ عرب میں دستور تھا کہ شہر کے روساء و شرفا اپنے نومولود بچّوں کو ایک خاص مُدّت کے لیے قصبوں اور دیہات کی بدّو عورتوں کے حوالے کردیا کرتے تھے، تاکہ وہ عمدہ آب و ہوا میں پرورش پائیں اور خالص عربی بھی سیکھ لیں۔ اس دستور کے موافق آنحضرتﷺ کی ولادت کے چند روز بعد قبیلہ ہوازن کی چند عورتیں نوزائیدہ بچّوں کی تلاش میں مکّہ شہر آئیں۔

اُن میں  حضرت حلیمہ سعدیہؓ بھی تھیں، جو اپنی کم زور اور لاغر سفید گدھی پر سوار سب سے پیچھے تھیں۔ دیر سے آنے کی وجہ سے اُنھیں کوئی بھی بچّہ نہ ملا۔ رسول اللہﷺ کو یتیم جان کر کسی نے نہیں لیا تھا، جب واپسی کا وقت آیا، تو حلیمہ سعدیہؓ کہتی ہیں کہ ’’مَیں نے اپنے شوہر سے مشورہ کیا کہ خالی ہاتھ واپس جانے سے بہتر ہے کہ اس یتیم بچّے ہی کو لے لیں، چناں چہ مَیں نے رسول اللہ ﷺ کوگود میں لیا اور اپنے ڈیرے پر آگئی۔

مَیں نے اپنی سوکھی چھاتی رسول اللہ ﷺ کے منہ میں دی، تو حیران رہ گئی کہ چھاتی سے اتنا دودھ اُترا کہ حضورؐ نے بھی سیر ہوکر پیا اور میرے چھوٹے بیٹے عبداللہ نے بھی خوب پیٹ بھر کر پیا۔ ہمارے پاس ایک کم زور اور لاغر و ناتواں سی اونٹنی بھی تھی، جب میرے شوہر کی نظر اس اونٹنی پر پڑی، تو دیکھا کہ اُس کے سُوکھے تھن دودھ سے لب ریز ہوگئے۔ ہم نے نہ جانے کتنے عرصے بعد شکم سیر ہوکر دودھ پیا اور اللہ کا شُکر اد اکیا۔

جب واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے، تو ہماری کم زور اور لاغر گدھی فرّاٹے بھرتے ہوئے سب سے آگے نکل گئی۔ اُس زمانے میں ہمارا پورا علاقہ قحط زدہ تھا۔ لوگ بدحال تھے، لیکن جب میں گھر پہنچی، تو دیکھا کہ میرے گھر والے، بکریاں، مویشی دودھ اور چارے سے آسودہ حال تھے۔ آنحضرت ﷺ کے چار رضاعی بھائی بہن تھے، جن کے نام یہ ہیں۔ عبداللہ بن الحارث (رضاعی بھائی)شیما بنت الحارث (رضاعی بہن، اصل نام حذافہ تھا)

انیسہ بنت الحارث (رضاعی بہن)حذافہ بنت الحارث (رضاعی بہن)۔ حضرت شیما اور حضرت عبداللہ کا مسلمان ہونا ثابت ہے، باقیوں کا حال معلوم نہیں۔ حضرت شیما کو حضور ﷺ سے بہت اُنس تھا، وہی آپؐ کو کھلایا کرتی تھیں۔ دو برس کے بعد حلیمہ سعدیہؓ آپؐ کو مکہ لائیں اور والدہ ماجدہ کے سپرد کیا، لیکن ان دنوں مکّے میں وبا پھیلی ہوئی تھی، چناں چہ آپؐ کی والدہ کی ہدایت پر حضرت حلیمہؓ آپؐ کو دوبارہ اپنےگھر لےگئیں۔ ابنِ اسحاق نے لکھا ہےکہ رسول اللہ ﷺ چھے برس تک حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے پاس رہے۔ (سیرت النبی 1/119) حضرت حلیمہ سعدیہؓ کا گھر قبیلہ بنو سعد (ہوازن) میں تھا۔

رسول اللہ ﷺ کی عُمرِ مبارک چار برس تھی کہ جب پہلی بار ’’واقعہ شقّ ِ صدر‘‘ پیش آیا۔ حضرت انسؓ سے مروی ہےکہ آپ ﷺ اپنے رضاعی بہن بھائیوں کے ساتھ گھر کےقریب ہی ایک جگہ کھیل رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے، انہوں نے آپﷺ کو لٹایا اور سینہ مبارک چاک کرکے اس میں سے دل نکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکالا، دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے دوبارہ اپنی جگہ رکھ کر سینہ بند کردیا۔

ادھر رضاعی بہن، بھائیوں نے جب یہ منظر دیکھا، تو چیختے چلّاتے گھر پہنچے اور ماں کو بتایا کہ بھائی محمدﷺکو کسی نے قتل کردیا ہے۔ حضرت حلیمہؓ اپنے شوہر کے ساتھ دوڑتی ہوئی پہنچیں، تو دیکھا کہ آپؐ صحیح سلامت بیٹھے ہیں۔ اس واقعے کے بعد حضرت حلیمہؓ بہت خوف زدہ ہوگئیں اور انہوں نے آپﷺ کو مکہ مکرمہ جاکر والدہ کے حوالے کردیا۔(سیرت ابن ہشام 1/166)۔

رسول اللہﷺ، اپنی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ سےبہت محبت کیا کرتے تھے۔ عہد ِنبوت میں ایک مرتبہ وہ آنحضرت ﷺکی خدمت میں  حاضر ہوئیں۔ آپﷺ صحابہ ؓکے درمیان تشریف فرماتھے۔ بتایا گیا کہ کوئی بوڑھی خاتون آپﷺ سے ملنا چاہتی ہیں، حلیمہؓ نام ہے۔ یہ سننا تھاکہ آپ ﷺ جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور’’ میری ماں، میری ماں‘‘ کہتے ہوئے ان سے لپٹ گئے۔ اسی کیفیت میں انہیں اندر لائے، پھر اپنی چادر بچھا کر نہایت ادب و احترام سے اپنے قریب بٹھالیا۔ پھر انہیں اپنے گھر لے گئے۔

حضرت خدیجہؓ نے اپنی رضاعی ساس کا والہانہ استقبال کیا۔ ان کی خاطر مدارات کی اور اپنے ساتھ رہنے کی درخواست کی۔ خشک سالی کا زمانہ تھا، حضرت حلیمہؓ نے واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ۔ حضرت خدیجہؓ نے انہیں چالیس بکریوں کے علاوہ سواری کے لیے ایک اونٹ بھی دیا، جو سامان سے لدا ہوا تھا۔ 

آنحضرتﷺ نے ان کے ساتھ آئے تمام لوگوں کو تحفے تحائف دے کرگھر رخصت کیا۔ روایت میں ہے کہ آپﷺ اُس وقت تک دروازے پر کھڑے رہے، جب تک اُن کی سواری نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔ (طبقاتِ ابن سعد 1/120) حضرت حلیمہؓ کے شوہر کا نام حضرت حارثؓ بن عبدالعزیٰ تھا۔ وہ آنحضرتﷺ کی بعثت کے بعد مکّہ آئے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہﷺ اپنے رضاعی بہن بھائیوں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔

غزوئہ حنین میں قبیلہ بنو ہوازن کے چھے ہزار افراد قید ہوئے اور بے شمار مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ ان گرفتار لوگوں میں حضوراکرم ﷺکی رضاعی بہن، حضرت شیماؓ بھی تھیں۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا، تو انہوں نے کہا۔’’ مَیں  تمہارے پیغمبرﷺ کی بہن ہوں۔‘‘ یہ سن کر وہ لوگ تصدیق کے لیے آنحضرت ﷺ کے پاس لے آئے۔ حضورﷺ کے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ بچپن میں کھیل کے دوران ایک دفعہ آپﷺ نے میری پیٹھ پر پیار سے کاٹ لیا تھا، جس کا نشان آج تک موجود ہے۔

لمحہ بھر میں  آپ ﷺ کو اماں حلیمہؓ کے گھر میں گزرے بچپن کے دن یاد آگئے۔ یہ وہی بہن شیماؓ تھیں ،جو ہر وقت آپ ﷺ کے آگے پیچھے نگراں کی حیثیت سے پِھرتی رہتی تھیں، آپﷺ کو سب سے زیادہ محبت بھی اسی بہن سے تھی۔ آج اتنے عرصے بعد بہن کو قیدی کی حیثیت سے سامنے دیکھا، تو فرطِ محبت سے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بہن کے استقبال کے لیے فوراً اُٹھے، اپنی چادر زمین پر بچھائی۔ بہن کو اپنے قریب بٹھایا۔

دونوں نے دیر تک بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ حضور اکرمﷺ نے انہیں اپنے ساتھ مدینے میں رہنے کی پیش کش کی، لیکن انہوں نے اپنے قبیلے مین واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جس کے بعد آپﷺ نے بنو ہوازن کے تمام چھے ہزار قیدی رہا کیے۔ تمام مال ِغنیمت واپس کرنے کے ساتھ بہت سے اونٹ، بکریاں اور مال بطور تحفہ عطا فرمایا اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ ان کی قوم کے پاس واپس بھجوا دیا۔ (سیرت ابنِ ہشام1/167)۔ (جاری ہے)