• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان ایک تخمینے کے مطابق دس لاکھ ارب ڈالر کے معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کا طویل ساحل کم سے کم 50سال تک تیل اور گیس کی ملکی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ اس کی ساحلی پٹی راہداری کے محفوظ راستے اور علاقائی روابط کا قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ اس کے سمندر کی تزویراتی گہرائی ملکی سلامتی کی ضمانت اور اس کے سنگلاخ پہاڑ ناقابل تسخیر قلعے ہیں ۔ اس کے عجائبات سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دینے والے اور اس کی صدیوں قدیم روایات کے پاسبان باشندے مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ تاریخ دان اسے باب الاسلام کہتے ہیں۔ تاریخی شواہد کے مطابق حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں حکم بن عمر التغلبی کی کمان میں اسلامی لشکر نے 640 ء میں پہلا حملہ کر کے بلوچستان کی ریاست مکران پر قبضہ کیا اور یہاں اسلامی قوانین نافذ کئے۔ محمد بن قاسم نے بہت بعد میں جب اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک حکمران تھا، سندھ پر حملہ کیا۔ سندھ فتح کرنے کے بعد واپسی پر وہ مکران کے راستے بغداد روانہ ہوا۔ اس وقت محمد بن ہارون مکران کا والی تھا۔ اس نے فاتح سندھ محمد بن قاسم کا استقبال کیا اور اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا۔ یہ امر تعجب خیز ہے کہ بلوچستان اتنے بڑے وسائل اور اتنی پرانی تاریخ کے باوجود خسارے کا صوبہ کہلاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ صوبے کے وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکامی ہے۔ ناکامی کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ قیام پاکستان سے ہی چلی آنے والی مسلسل بدامنی ہے جس پر قابو پانے کے لئے مفاہمتی راستے تلاش کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ اس کے نتیجے میں بداعتمادی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا گیا۔ وفاق میں برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں کی غلط حکمت عملی صوبے کے احساس محرومی میں اضافے کا باعث بنی۔ عسکریت پسندی کو بڑھاوا ملا اور علیحدگی کی تحریکوں نے زور پکڑا اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان دشمن طاقتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو غیر ملکی سرمایہ، اسلحہ اور تربیت ملنا شروع ہوئی انہوں نے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ڈالیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کئے اور بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جس سے پورے صوبے میں امن و امان ناپید ہو گیا۔ خوف و ہراس کی اس فضا میں صوبے کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد مشکل ہو گیا۔ اس وقت بھارتی معاونت سے دہشت گردی کی جو کارروائیاں جاری ہیں وہ غیر ملکی مداخلت ہی کا شاخسانہ ہیں۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت کچھ اپنے طور پر اور کچھ وفاق کی مدد سے صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی اصلاح احوال کا منشور رکھتی ہیں مگر امن عامہ کی مخدوش صورت حال کی موجودگی میں حالات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ صوبے کی معیشت کمزور اور عام آدمی غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ صوبوں کو چار سو ارب روپے اضافی محصولات جمع کرنے کی ہدایت جاری کریں۔ بلوچستان کو پنجاب اور سندھ کے تناظر میں تو نہیں دیکھا جاسکتا مگر اسے بھی ایک خطیر رقم جمع کرنا ہوگی جو موجودہ حالات میں مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ صوبے کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کے لئے ریاستی اداروں کے علاوہ نجی سطح پر بھی بڑی دلسوزی سے کوششیں ہورہی ہیں۔ بلوچستان اکنامک فورم اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔ اس کے صدر ایک دردمند شخصیت سردار شوکت عزیز پوپلزئی ہیں جو پچھلے تیس سال سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ ایک مقالے میں انہوں نے حکومت کو کئی قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں معدنیات اور کان کنی کی تجارت کی گریڈنگ اور برآمد بڑھانے کی اسکیم سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضروری سہولتوں کے ساتھ اور مقامی آبادی پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر قیمتی معدنی سرگرمیوں پر موثر ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے تو اضافی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کو دستاویزی شکل دینا ضروری ہے مگر ایسے اقدامات اچانک نہیں اٹھانے چاہئیں۔ پہلے ماحول کو سازگار بنانا چاہئے۔ ماہی گیری کی پروسیسنگ، سمندری برآمدات اور گوادر کی بنیاد پر لاجسٹکس کا اہتمام، زراعت اور لائیو اسٹاک کے ویلیو چینلز کو فروغ دینا خصوصاً پھلوں، زیتون، کھجور، گوشت، دودھ اور ان سے متعلق مصنوعات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بلوچستان کو خسارے والا صوبہ سمجھنے کی سوچ تبدیل ہونی چاہئے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بلوچستان میں صلاحیت کی کمی ہے مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بے پناہ صلاحیت کو سرمایہ کاری دوست برآمدات اور ٹیکس دینے والی معیشت میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان کی مالیاتی بقا کے لئے صوبوں کا فعال کردار ناگزیر ہے لیکن مالیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر صوبے کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے بلوچستان کی اہمیت معدنی وسائل، گوادر بندرگاہ علاقائی روابط بلیو اکانوی اور مستقبل کی برآمدی ترقی میں مضمر ہے۔ بہتر ہوگا کہ بلوچستان کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی منصوبہ بندی میں بلوچستان اکنامک فورم اور دوسرے معاشی سوجھ بوجھ رکھنے والے اداروں اور شخصیات کی خدمات اور تجاویز سے استفادہ کیا جائے بلوچستان میں طویل عرصے سے چلی آنے والی دہشت گردی اور بدامنی کی جڑیں سیاسی نوعیت کی ہیں ان پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال سے گریز اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے سردار عطاء اللہ مینگل جیسے قوم پرست رہنما بھی کہتے تھے کہ پاکستان کو کسی وقت خدانخواستہ نقصان پہنچا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے اس سے زیادہ بلوچستان کے لوگوں کی حب الوطنی کی آزمائش اور کیا ہوگی؟

تازہ ترین