بحث چل رہی تھی کہ کراچی کو کس کے حوالے کرنا چاہیے۔کسی نے کہا صوبہ بناکر مہاجروں کے ہی حوالے کردینا چاہئے۔کسی نے کہا نہیں بھئی حق تو سندھیوں کا ہی بنتا ہے۔کسی نے ’نہ تیرا نہ میرا‘ والے اصول کے تحت آواز لگائی کہ بھئی میں تو کہتا ہوں کراچی کو سیدھا سیدھا وفاق کے حوالے کرکے قصہ ہی ختم کردو۔پہلی بار کراچی آئے ہوئے ایک مہمان نے حوالے کی یہ جنگ دیکھ کر کہا، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ابھی اس لمحہ موجود میں یہ شہر کس کے حوالے ہے؟ میں نے لڈن بھائی کو کہنی ماردی کہ تم ہی بتاو بھئی کچھ۔لڈن بھائی نے سیاسی نعروں اور حکیمی نسخوں سے بھری دیوار پہ پان کی پچکاری مارتے ہوئے کہا، بھائی فی الحال تو کیرانچی اللہ کے حوالے ہے۔
لڈن بھائی کی بات غلط نہیں ہے۔پورے کراچی میں کوئی ایک علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں انتظامیہ کی موجودگی کو محسوس کیا جا سکے۔بس ایک شہر ہے جو اللہ توکل مینجمنٹ کے سہارے چل رہا ہے۔حیرت مجھے ان لوگوں کے کانفیڈنس پر ہوتی ہے جو شہر میں جگہ جگہ احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔احتجاج دوسرے شہروں میں بھی ہورہے ہوتے ہیں مگر وہاں کم از کم سمجھ تو آرہی ہوتی ہے کہ احتجاج کرنے والے کیا مانگ رہے ہیں اور کس سے مانگ رہے ہیں۔کراچی میں اتنا تو چلو سمجھ آ ہی جاتی ہے کہ لوگ کیا مانگ رہے ہیں، یہ سمجھ نہیں آتی کہ کس سے مانگ رہے ہیں۔
کوئی سال پہلے کراچی آیا تو پہلی بار حکومت یا انتظامیہ کی موجودگی کا احساس ہوا۔شہر میں کیمرے لگ رہے تھے، اوورا سپیڈنگ، سیٹ بیلٹ نہ لگانے اور ہیلمٹ نہ پہننے پر مہنگے چالان کی باتیں ہورہی تھیں۔سچی بات ہے مجھے تو یہ کارروائیاں بھی باقی کارروائیوں کی طرح کاغذی ہی لگ رہی تھیں۔تب بھی کچھ خاص یقین نہیں آیا جب دس ہزار چالان کا باقاعدہ اعلان ہوا۔پہلی بار تب کچھ کچھ یقین آیا جب ائیرپورٹ پہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ڈرائیور نے کہا، سر سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔میں نے حیرت سے کہا، کراچی میں بھی سیٹ بیلٹ؟ ہم تو کراچی آتے ہی اس لیے ہیں کہ یہاں سیٹ بیلٹ نہ لگانے والی عیاشی کرنے کو مل جائیگی۔ڈرائیور نے بہت دکھ کے ساتھ کہا، کراچی کی اب وہ بات نہیں رہی سر۔یہ کہہ کر اس نے مجھے ایک چالان دکھایا کہ یہ دیکھیں سر، کل ہی اوورا سپیڈنگ پہ دس ہزار کا چالان ملا ہے۔چار و ناچار یقین کرنا ہی پڑگیا کہ کراچی کا بھی کوئی ولی وارث ہے۔تب میرا یقین کامل ہوگیا جب خبر آئی کہ اوورا سپیڈنگ پر سندھ کی بڑی والی سیاسی جماعت کے بڑے والے رہنما کو بھی فون پر چالان موصول ہوگیا ہے۔
کراچی کے مئیر بہت متحرک ہیں۔اتنے متحرک ہیں کہ کراچی کے تاریخی مقام ریگل چوک کا نام کھڑے کھڑے بدل دیا۔اچھا ہوا یہ دن اتوار کا نہیں تھا، ورنہ ریگل چوک کی فٹ پاتھ پر لگنے والی سستی کتابوں کا بازار بھی ختم کردیتے۔ویسے ختم کر ہی دیں تو اچھا ہے۔ان کتابوں نے جون ایلیا پر بڑا ظلم کیا تھا۔ان میں ایک رمز ہے، جس رمز کا مارا ہوا انسان یہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ کراچی کی رش والی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر لوگ اوورا سپیڈنگ کیسے کر لیتے ہیں۔ٹریفک کا یہ عالم ہے کہ گاڑیاں بمپر ٹو بمپر چلتی ہیں۔چلتی بھی کیا ہیں بس رینگ رہی ہوتی ہیں۔رینگتی گاڑیوں کا چالان کیسے کٹ سکتا ہے۔
اچھا جہاں رش نہیں ہے تو وہاں سڑکوں کے سینے چاک ہیں۔دس دس کلو میٹر تک کھدائی کا ایسا عالم ہے کہ منزل پہ پہنچنے کے بعد گردہ اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے۔ بی آر ٹی کے لیے راجہ داہر کے دور حکومت میں جو کھدائیاں ہوئی تھیں وہ اب ثقافتی اور تاریخی ورثہ محسوس ہونے لگی ہیں۔جیسے یونیسکو نے اسے اپنی تحویل میں لیکر مقامی حکومتوں کو پابند کردیا ہو کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنی۔میں سمجھ نہیں پا رہا کہ لوگ ان سڑکوں پر اوور اسپیڈنگ کیسے کر رہے ہیں۔
کراچی میں اوورا سپیڈنگ صرف ڈاکو ڈکیت ہی کرسکتے ہیں۔ایسا وہ مجبوری میں کرتے ہیں ورنہ ڈکیتوں کی کمیونٹی بنیادی طور پر محتاط واقع ہوئی ہے۔ہیلمٹ کے حوالے سے یہ ہمیشہ بہت حساس رہے ہیں۔انکے ہاں تو موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھا شخص بھی ہیلمٹ پہنتا ہے۔ ظاہر ہے موٹرسائیکل جب گرتی ہے تو صرف رائیڈر کا سر تو فٹ پاتھ سے نہیں لگتا۔پیچھے بیٹے شخص کے دھڑ پہ بھی سر ہی لگا ہوتا ہے۔اسمیں بھی فٹ پاتھ سے ٹکرانے کی پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کمیونٹی کا اثر لیکر تمام شہریوں کو پابند کیا جاتا کہ موٹرسائیکل پہ بیٹھے تمام ہی افراد ہیلمٹ پہنیں گے۔شہریوں کو تو کیا ہی پابند کرتے خود ڈکیتوں کے ہاں ہیلمٹ کا رجحان ختم ہوگیا۔اب تو رائیڈر بھی ہیلمٹ کا تکلف نہیں کر رہا۔میں نے بہت معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا کسی ڈکیت کو ہیلمٹ نہ پہننے یا اوورا سپیڈنگ پہ چالان ملا ہے؟ یہ جان کر آپکو بھی دکھ ہوگا کہ آج کی تاریخ تک کسی ایک بھی ڈکیت کو چالان موصول نہیں ہوا۔اب آپ کہیں گے کہ ڈاکو ڈکیت جو موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں وہ انکے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔تو پھر سوال یہ ہے کہ سندھ کی بڑی والی سیاسی جماعت کے بڑے والے لیڈر وں کو جو فون پر چالان جارہے ہیں، کیا انکی گاڑی انہی کے نام پر رجسٹرڈ ہیں؟ اگر لیڈر کو چالان جا سکتا ہے تو ڈاکو ڈکیت کس دکان کی سبزیاں ہیں۔
غیر سنجیدگی برطرف، سندھ انتظامیہ کے حالات اتنے بھی برے نہیں ہیں۔میر رضا قتل کیس میں سندھ کی انتظامی مشینری کس قدر متحرک تھی آپ نے بھی دیکھ لیا ہوگا۔میر رضا کے قتل کو چھپانے کیلئے کی جانے والی کوششیں ٹیم ورک اور بروقت رسپانس کی ایک بہترین مثال تھی۔ٹھیک ہے انتظامیہ قتل کو چھپانے میں مکمل طور پر ناکام رہی، مگر یہ ماننا پڑے گا کہ انتظامیہ نے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی۔انسان کے ہاتھ میں کوشش ہی ہے۔ نتیجے کی پروا چھوٹے لوگ کرتے ہیں۔