گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ کے مابین ایک وسیع المقاصد معاہدے پر دستخط ہوئے۔عالمی میڈیا نے اسکے مختلف پہلوؤں پر بحث کی لیکن ایک اہم پہلو جو نگاہوں سے نسبتاً اوجھل ہے وہ سعودی عرب اور ترکی کی غیر معمولی قربت ہے ۔اس پیش رفت کو سمجھنے کیلئے ترک عرب تعلقات کی تاریخ میں واپس جانا ہوگا، کیونکہ آج کی قربت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کا مشترکہ تاریخی، مذہبی اور تہذیبی پس منظر موجود ہے۔
ترکیہ اور عرب دنیا کے تعلقات کا سب سے مضبوط باب سلطنت عثمانیہ کا دور تھا۔ عثمانی سلطنت نے حجاز کو محض ایک سیاسی خطے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو پوری مسلم دنیا کے روحانی مراکز کی حیثیت سے غیر معمولی اہمیت دی۔ سلاطین عثمانیہ کی سرپرستی میں حرمین شریفین کی خدمت، حاجیوں کے لیے راستوں کی حفاظت، پانی کی فراہمی، تعمیر و مرمت اور انتظامی سہولتوں کا ایک وسیع نظام قائم رہا۔سلطان عبد الحمید ثانی کے دور میں حجاز ریلوے اس تصور کی ایک شاندار مثال بن کر سامنے آئی۔ 1909ء میں مکمل ہونے والی اس ریلوے کا بنیادی مقصد شام اور دیگر علاقوں سے حجاز آنے والے حجاج کے سفر کو آسان بنانا اور مدینہ منورہ تک جدید سفری سہولت پہنچانا تھا۔ یونیسکو کے مطابق اس منصوبے میں متعدد اسٹیشنوں، پلوں، کنوؤں اور دیگر سہولتوں کی تعمیر بھی شامل تھی۔
پہلی جنگ عظیم نے اس پورے خطے کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔ عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوا، عرب علاقوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں اور حجاز و نجد کی سیاست بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ 1932ء میں عبدالعزیز آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا۔یوں ایک طرف صدیوں پر محیط عثمانی سیاسی نظم ختم ہوا اور دوسری طرف عرب جزیرہ نما میں ایک نئی ریاستی حقیقت سامنے آئی۔ ابتدائی دور میں ترکیہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں قربت نہیں تھی۔ سرد جنگ، علاقائی سیاست، مختلف نظریاتی ترجیحات اور عالمی طاقتوں سے تعلقات نے دونوں ممالک کو کئی مواقع پر مختلف سمتوں میں رکھا۔ 1927 میں ’’جدہ معاہدہ ‘‘وجود میں آیا۔ جس نے برطانیہ کی جانب سے ابن سعود کی مملکت کو تسلیم کرنے اور ترک سلطنت کی پسپائی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
اکیسویں صدی میں حالات تیزی سے تبدیل ہوئے۔ ترکیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، خلیج اور مسلم دنیا کے ساتھ اقتصادی و سیاسی تعلقات کو اہمیت دی۔ سعودی عرب نے بھی اپنی معیشت کو تیل سے آگے لے جانے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور عالمی سطح پر اپنے شراکت داروں کو متنوع بنانے کی پالیسی اختیار کی۔یہی وہ مقام ہے جہاں مفادات نے ماضی کی دوریوں پر غالب آنا شروع کیا۔
ترکیہ دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، تعمیرات اور صنعتی پیداوار میں ایک اہم علاقائی طاقت بن کر ابھرا، جبکہ سعودی عرب کے پاس سرمایہ، توانائی اور بڑے ترقیاتی منصوبے موجود تھے۔ دونوں کے درمیان معاشی ضرورت اور دفاعی تعاون نے سیاسی قربت کو نئی بنیاد فراہم کی۔2023ء میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں متعدد معاہدے ہوئے جن میں براہِ راست سرمایہ کاری، دفاعی صنعت، توانائی، دفاع اور مواصلات شامل تھے۔ سعودی وزارتِ دفاع اور ترک کمپنی بایکار کے درمیان دفاعی تعاون بھی اسی مرحلے کی نمایاں علامت تھا۔
گویا ترک عرب تعلقات اب جذباتی نعروں کے بجائے مشترکہ مفادات، معیشت، ٹیکنالوجی، دفاع اور علاقائی سلامتی کے نئے ستونوں پر استوار ہو رہے ہیں۔مکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا اکٹھا ہونا اس تاریخی سفر کا ایک غیر معمولی منظر ہے۔ کل تک جس خطے میں ترک اور عرب سیاسی فاصلے کی داستانیں بیان کی جاتی تھیں، آج اسی خطے میں ترکیہ اور سعودی عرب مشترکہ دفاعی تصور کے شراکت دار بن رہے ہیں۔اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ تینوں ممالک اپنی اپنی جگہ غیر معمولی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب خلیج اور بحیرہ احمر کے سنگم پر واقع ہے، ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی پل ہے، جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کے خطے میں ایک بڑی دفاعی قوت ہے۔ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کو ہدف نہیں بناتا، جبکہ اس میں مشترکہ دفاعی ردعمل کا اصول مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مستقل سیکریٹریٹ اور وزارتی سطح کے رابطہ میکنزم بھی قائم کیے جائیں گے۔ ترکیہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں مصر جیسے دوسرے ممالک اس تعاون میں شامل ہوسکتے ہیں۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں خطے کے ممالک نے محسوس کیا ہے کہ صرف کسی ایک عالمی طاقت پر انحصار ان کی سلامتی کے لیے کافی نہیں۔ چنانچہ سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان اور مصر جیسے ممالک باہمی مشاورت کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔یہ منظرنامہ امریکہ، روس، چین، بھارت، ایران اور اسرائیل سمیت تمام بڑی علاقائی و عالمی طاقتوں کے لیے اہم ہے۔ تاہم اس معاہدے کو کسی ایک ملک کیخلاف فوجی صف بندی قرار دینا فی الحال درست نہیں ہوگا۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے چند اہم ممالک اپنی سلامتی کے لیے باہمی تعاون کا ایک نیا ماڈل تشکیل دے رہے ہیں۔وقت بدل گیا، ریاستیں بدل گئیں، سیاسی نظام بدل گئے، مگر مکہ و مدینہ کی مرکزیت برقرار رہی۔ شاید یہی اس پورے سفر کا سب سے خوب صورت پہلو ہے کہ تاریخ کے تلخ ابواب کے باوجود مشترکہ مذہبی، تہذیبی اور جغرافیائی مفادات نے بالآخر ترک اور عرب دنیا کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آنے کا راستہ دکھا دیا۔مکہ معاہدہ اگر صرف ایک وقتی دفاعی ضرورت تک محدود نہ رہا اور اسے اقتصادی تعاون، مشترکہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، سفارتی مشاورت اور مسلم دنیا میں تنازعات کے پرامن حل کے وسیع تر ایجنڈے سے جوڑ دیا گیا تو یہ مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پورے مسلم خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔