کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت صرف اسکی جغرافیائی وسعت، قدرتی وسائل یا آبادی کے حجم سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اسکا انتظامی نظام اپنے شہریوں کو کتنی مؤثر، شفاف اور جوابدہ حکمرانی فراہم کرتا ہے۔ آج پاکستان ایک ایسے ہی اہم تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ بنیادی بحث محض اس سوال تک محدود نہیں کہ ملک میں نئے صوبے بنائے جائیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پچیس کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان کو نصف صدی پرانے انتظامی ڈھانچے سے چلانا ممکن ہے؟ حال ہی میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے آبادی کے اضافے کے تناظر میں انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دینے سے یہ اہم قومی بحث دوبارہ زندہ ہو گئی ہے۔ تاہم، اس مسئلے کو صرف "نئے صوبوں" کے نعرے تک محدود رکھنا مسئلے کی اصل نوعیت کو سادہ بنا دیتا ہے۔ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ پوری ریاست کی انتظامی صلاحیت (Governance Capacity) اور حکمرانی کے معیار کا ہے۔
پاکستان سے متعلق کسی بھی آئینی اور انتظامی اصلاحات کی بنیاد بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن پر ہونی چاہیے۔ قائداعظم کا بنیادی فلسفہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، جوابدہ انتظامیہ اور مضبوط وفاق کا قیام تھا۔ انھوں نے کبھی کسی مخصوص انتظامی ساخت کو ابدی یا ناقابلِ تغیر اصول قرار نہیں دیا، بلکہ ان کا زور ہمیشہ اصولوں اور عوامی فلاح پر رہا۔ لہٰذا، ابھرتی ہوئی معاشی و ڈیموگرافک ضرورتوں کے تحت انتظامی ڈھانچے میں ردو بدل قائداعظم کے اسی متحرک وژن کی عین روح کے مطابق ہے۔
اگر ہم ارتقائی حقائق کا جائزہ لیں تو 1947ء میں موجودہ پاکستان (سابقہ مغربی پاکستان) کی آبادی صرف 3 کروڑ 40 لاکھ تھی۔ 1970ء میں جب ون یونٹ ختم کر کے چاروں صوبے بحال کیے گئے، تو ملک کی مجموعی آبادی 5 کروڑ 80 لاکھ تھی۔ آج نصف صدی بعد یہی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔لہٰذا جو انتظامی نظام چھ کروڑ کی آبادی کیلئے بنایا گیا تھا، وہ آج چار گنا سے زائد آبادی کے جدید تقاضے اور پیچیدہ شہری مسائل حل کرنیکی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بات ہوتے ہی اسے پنجاب بمقابلہ چھوٹے صوبوں یا لاہور بمقابلہ کراچی کی سیاسی رقابت بنا دیا جاتا ہے۔ پنجاب کی بڑی آبادی کی وجہ سے یہ تاثر عام ہے کہ زیادہ فنڈز وہاں خرچ ہوتے ہیں، جبکہ کراچی جیسا معاشی مرکز جو خطیر مالیاتی وسائل فراہم کرتا ہے، اپنے بنیادی مسائل کیلئے ترستا رہتا ہے۔ تاہم، اس مسئلے کو محض علاقائی رقابت کی نظر سے دیکھنا اصل بیماری سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماراموجودہ مرکزیت پسند (Centralized) نظامِ حکمرانی صوبائی دارالحکومتوں (لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ) سے دور افتادہ اضلاع تک وسائل کی منصفانہ اور شفاف منتقلی کو یقینی بنا سکتا ہے؟ جب تمام مالی و انتظامی اختیارات صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز ہوں گے تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی کا بڑھنا ناگزیر ہے۔
پاکستان میں اس مسئلے کا حل دو انتہاؤں میں تلاش کیا جاتا ہے: ایک طرف نئے صوبوں کے نعرے ہیں اور دوسری طرف موجودہ جمود (Status Quo) کو قائم رکھنے کی ضد۔ جبکہ حقیقی اور پائیدار حل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے قیام میں مضمر ہے۔ عالمی تجربات سے ثابت ہے کہ مضبوط وفاق اور بااختیار مقامی حکومتیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ ضامن ہوتی ہیں۔
پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو ہمیشہ مالی و آئینی خودمختاری سے محروم رکھا گیا اور صوبائی بیوروکریسی کے تابع کیا گیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے روزمرہ مسائل سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دفاتر میں اٹکے رہتے ہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی اختیارات منتقل کر دیے جائیں تو ریاست پہلی بار واقعی شہری کی دہلیز تک پہنچ جائیگی۔ پاکستان کے معاشی بحران میں "لاگتِ حکمرانی" (Cost of Governance) کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ نظام میں مختلف سطحوں پر اداروں کے کام میں غیر ضرور ی دخل اندازی (Institutional Duplication) اور غیر ضروری بیوروکریٹک اخراجات موجود ہیں۔ اگر جامع انتظامی اصلاحات کے ذریعے اس اضافی دفتری بوجھ کو کم کیا جائے، تو بچائے جانیوالے اربوں روپے تعلیم، صحت، زراعت، صاف پانی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر صرف کیے جا سکتے ہیں۔
ترکیہ کا میٹروپولیٹن بلدیاتی ماڈل پاکستان کیلئے ایک اہم مثال ہے۔ استنبول، انقرہ،ازمیر اور دیگر بڑے شہروںکی بلدیاتی حکومتوں کو اتنی وسعت اور خودمختاری دی گئی ہے کہ وہ شہری ترقی کے تمام امور خود سنبھالتی ہیں، جبکہ مرکزی حکومت دفاع اور معیشت پر توجہ دیتی ہے۔ پاکستان کو بھی ایسا توازن قائم کرنا ہوگا جو وفاق کو مضبوط اور مقامی حکومتوں کو متحرک بنائے۔
اس مقصد کیلئے پاکستان کو ایک "قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات" قائم کرنا چاہیے، جس میں آئینی ومعاشی ماہرین، شہری منصوبہ ساز اور تمام وفاقی اکائیوں کے نمائندے شامل ہوں۔ اس کمیشن کا مقصد آبادی، معیشت اور جغرافیے کے تناظر میں 50 سال کا جامع انتظامی روڈ میپ تیار کرنا،بلدیاتی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا،کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کیلئے خودمختار ’’میٹروپولیٹن سٹی گورنمنٹ‘‘ ماڈل وضع کرنا اور ضرورت پڑنے پر صرف انتظامی آسانیاں پیدا کرنےکیلئے نئی انتظامی اکائیوں یا اضلاع کا سائنسی معیار مقرر کرنا ہو۔ صرف نقشے یا سرحدیں بدلنے سے گورننس کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ قومی وحدت محض آئینی کاغذوں سے نہیں بنتی، بلکہ یہ انصاف، یکساں ترقی اور عوام کی طاقت کی نچلی سطح تک منتقلی سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر کراچی، فاٹا، اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کو مقامی سطح پر خود مختاری اور اپنے مسائل خود حل کرنے کے اختیارات مل جائیں، تو اس سے پاکستان کا وفاق کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔