خواجہ سرا برادری کے مسئلے کو صرف ایک مخصوص جنس یا شناخت کے مسئلے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا سماجی المیہ بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک خواجہ سرا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اکثر اس کے لیے سب سے پہلی آزمائش خود اس کا خاندان اور پھر معاشرہ بن جاتا ہے۔ تعلیم، خاندان کی قبولیت، باعزت روزگار اور عام شہری کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع اس کے لیے اتنے ہی مشکل بنا دیے جاتے ہیں جتنے کسی اور شہری کے لیے معمول کی بات ہوتے ہیں۔ جب ایک انسان کو بچپن ہی سے تعلیم سے دور کردیا جائے، گھر اور معاشرے میں قبولیت نہ ملے، ہنر سیکھنے اور باعزت روزگار کے راستے بند ہوں تو پھر معاشرہ خود اس شخص کو ان راستوں کی طرف دھکیل دیتا ہے جنہیں بعد میں وہی معاشرہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جسے صرف تنقید، ملامت یا خیرات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا حل تعلیم، ہنر، روزگار، خاندانی قبولیت اور باوقار سماجی زندگی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو اس طبقہ کیلئے مخصوص ایجوکیشن جیسے منصوبے کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
دی نیوز کے صحافی قاسم عباسی کی خبر کے مطابق پانچ سال قبل ملتان میں ملک کا پہلا سرکاری اسکول خصوصی طور پر خواجہ سرا افراد کیلئے قائم کیا گیا تو دراصل ایک ایسا دروازہ کھولا گیا جو برسوں سے بند تھا۔ اس منصوبے کا مقصد صرف انہیں پڑھنا لکھنا سکھانا نہیں تھا بلکہ انہیں معاشرے کا فعال، خودمختار اور باعزت شہری بنانا تھا۔ تیز رفتار تعلیمی پروگرام کے ساتھ آئی ٹی، کھانا پکانے، آرٹس، میک اپ اور سلائی کڑھائی جیسے ہنر سکھانے کا مقصد یہی تھا کہ تعلیم کے بعد ان کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستہ بھی موجود ہو۔ ملتان کے بعد یہ منصوبہ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان تک پہنچا۔ تقریباً 500 خواجہ سرا طلبہ اس سے مستفید ہوئے۔ بعض یونیورسٹیوں تک پہنچے اور کچھ نے باقاعدہ روزگار حاصل کیا۔ اس سے زیادہ اہم ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ اگر خواجہ سرا افراد کو موقع دیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ معاشرے اور ملک کے لیے مثبت کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اس منصوبے کو ایک عام سرکاری اسکیم سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ دراصل سماجی اصلاح اور قومی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانا نہیں۔ ریاست کا بنیادی فرض یہ بھی ہے کہ اس کے کسی شہری کو محض اس وجہ سے معاشی، تعلیمی اور سماجی محرومی کا شکار نہ ہونا پڑے کہ معاشرہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آئین کی روح بھی شہریوں کے مساوی حقوق، عزت اور مواقع کا تصور پیش کرتی ہے۔ چنانچہ خواجہ سرا افراد کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، معاشرے کی بھی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواجہ سرا افراد ان حالات سے نکلیں جنہیں معاشرہ خود ان کے ساتھ منسوب کرتا ہے تو ہمیں ان کے لیے متبادل راستے پیدا کرنا ہوں گے۔ اگر ایک خواجہ سرا بچہ اسکول جائے گا، یونیورسٹی میں پڑھے گا، کمپیوٹر سیکھے گا، ڈاکٹر، استاد، انجینئر، کاروباری شخص یا کسی اور شعبے کا ماہر بنے گا تو اس کے لیے زندگی کے وہ راستے کھلیں گے جو آج بڑی حد تک بند ہیں۔ یہ تبدیلی صرف خواجہ سرا فرد کی زندگی نہیں بدلے گی بلکہ معاشرے کے رویے کو بھی بدلے گی۔ ایک تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خودمختار خواجہ سرا شہری دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا کہ شناخت یا سماجی محرومی کسی انسان کی صلاحیتوں کا تعین نہیں کرتی۔ دینی اعتبار سے بھی یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اسلام انسان کی عزت، تعلیم، محنت، رزقِ حلال، کمزوروں کے حقوق اور معاشرتی ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔ کسی انسان کو تعلیم اور باعزت روزگار سے محروم کر کے پھر اس کی محرومیوں پر انگلی اٹھانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ سماجی انصاف کا تقاضا۔ اس لیے اس طبقہ کی مخصوص ایجوکیشن کو ختم ہونے سے بچانا صرف تین اسکولوں کو بچانا نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسے ماڈل کو بچانا ہوگا جسے پورے پاکستان میں پھیلایا جانا چاہیے۔ پنجاب کے باقی ڈویژنوں کے ساتھ ساتھ سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں، جہاں بنیادی تعلیم کے ساتھ فنی تربیت، ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری تربیت اور روزگار سے منسلک پروگرام ہوں۔بین الاقوامی اداروں نےاس منصوبے میں دلچسپی دکھائی، وسائل فراہم کیے اور اس کی کامیابی کو سراہا۔ اگر پانچ سال بعد ہم اپنی ہی انتظامی نااہلی اور بے حسی کے باعث اسے ختم ہونے دیں تو یہ صرف ایک سرکاری منصوبے کی ناکامی نہیں ہوگی؛ یہ اس سوچ کی ناکامی ہوگی کہ تعلیم کسی محروم انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
خواجہ سرا برادری کو معاشرے کے کنارے پر رکھنے کے بجائے معاشرے کا حصہ بنانا ہو گا۔ ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنے ہوں گے، ہنر دینا ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے اور خاندانوں کو بھی یہ سمجھانا ہوگا کہ ایک خواجہ سرا بچہ کسی خاندان کے لیے بوجھ نہیں بلکہ ایک انسان ہے، جس میں صلاحیتیں، خواب اور مستقبل موجود ہیں۔ اس طبقہ کے لیے مخصوص ایجوکیشن کے تجربے نے اس راستے کی نشاندہی کر دی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسے بند نہ کرے بلکہ اسے مضبوط کرے، اس کے لیے مستقل بجٹ مختص کرے، شفاف انتظامی ڈھانچہ بنائے اور اسے پورے ملک تک وسعت دے۔ کیونکہ ایک خواجہ سرا کو باعزت زندگی کا موقع دینا صرف اس کی زندگی بدلنا نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اور اگر تعلیم اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے تو پھر اس دروازے کو بند کرنا نہیں کرنا چاہئے۔