اس نے کہا :اُس دن میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ وعظ کرنیوالوں نے مجھے گھیر لیا۔ انہوں نے کہا:چالیس دن کیلئے اللہ کی راہ میں چلو ۔ میں نے کہا : میں مصروف ہوں ۔ انہوں نے کہا: پھر تین دن کیلئے چلو ۔
میں نے ان سے کہا :میں ایک نوکری پیشہ آدمی ہوں ۔ صبح کام پہ جاتا ہوں ۔ شام تک تھک جاتا ہوں ۔ پھر دفتر سے چھٹی ملتی ہے ۔ میں حق حلال کی کمائی اکٹھی کر کے گھر آتا ہوں ۔ راستے سے میں بچوں کے لیے کچھ لیتا ہوں ۔ دروازہ کھٹکھٹا تا ہوں تو بچے خوشی سے چیختے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا لائے؟
جب وہ راستہ چھوڑتے ہیں تو میں اپنے باپ کے کمرے میں جاتا ہوں ۔ میرا باپ بڑا رکھ رکھائو والا آدمی ہے ۔ وہ اولاد سے ایک مناسب فاصلہ رکھنے کا قائل ہے۔ پھر بھی مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں اطمینان اتر آتا ہے۔ پھر میں وہاں سے اٹھ کر اپنی ماں کے پاس آتا ہوں ۔وہ اکثر بیمار رہتی ہے ۔ وہ میرا ہی انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ مجھے دیکھ کروہ کھل اٹھتی ہے۔ میں اپنی ماں سے کہتا ہوں، گھر سےباہر ذرا چہل قدمی کریں یا قریب بازار چلیں۔ وہ کہتی ہے، میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔ویسے بھی مجھے تو کچھ خریدنا ہی نہیں۔
میں اصرار کرتا ہوں تو وہ چل پڑتی ہے ۔وہ کسی ریڑھی سے کچھ پھل لیتی ہے یا کپڑوں کی کسی چھوٹی سی دکان میں سوٹ دیکھنے لگتی ہے ۔ سیلز مین اگر پاس آئے تو میں اسے کہتا ہوں کہ وہ دوسرے گاہکوں کو دیکھے ۔ ہمیں کچھ پسند آیا تو ہم خود بتا دیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ سیلز مین سر پہ سوار ہو تو میری ماں گھبرا جاتی ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ میری ماں کو بہت کم کوئی چیز پسند آتی ہے ۔ اکثر ایسا بھی ہوتاہے کہ کوئی سوٹ خریدلینے کے بعد گھر واپس آکر اسے کوئی خرابی نظر آجاتی ہے ۔ پھر ہم اگلے دن اسے تبدیل کرانے جاتے ہیں ۔ یوں باہر کا چکر لگا کر میری ماں تروتازہ ہو جاتی ہے ۔
اس نے کہا :میں اگر چالیس دن یا تین دن تمہارے ساتھ چلا جائوں تو میرے اہل وعیال کا کیا ہوگا ۔ واعظ اس بات پہ بھڑک اٹھے ۔ انہوں نے کہا : مطلب تمہارے پاس سب کے لیے وقت ہے ، خدا کے لیے مگر کوئی وقت نہیں ۔ میں شرمندہ ہو گیا ۔ میں نے کہا: پھر ماں سے ملنے کے بعد میں نہاتا دھوتا ہوں ۔ پھر میں نماز پڑھتا ہوں ۔ پھر میں قرآن کے اس حصے میں سے کچھ پڑھتا ہوں ، جو کبھی میں نے اپنے ذہن میں محفوظ کیا تھا ۔
واعظ کہنے لگے :صاف صاف کہو کہ تم ایک دنیا دار آدمی ہو۔ جب سب کو بھگتا چکتے ہو توبرائے بیت خدا کو بھی یاد کر لیتے ہو ۔ اس طرح کے ٹوٹے پھوٹے اعمال سے خدا نہیں ملتا ۔ان میں سے ایک نے طنزیہ انداز میں کہا : آج کل تو جوتے گانٹھنے والا بھی کہتا ہے ، میں دین کی خدمت کر رہا ہوں ۔ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور رخصت ہوئے ۔
اس نے کہا :میں سوچتا رہا ۔احساسِ گناہ نے گھیر لیا کہ خدا کی راہ میں چِلے لگانے کی تجھ میں طاقت نہیں ۔ میرے ٹوٹے پھوٹے اعمال اگرخدا نے مسترد کر دیے تو میں کیا کروں گا ؟ خدا کی راہ میں چلنے کی خواہش تو ہے ، طاقت نہیں ۔
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی
اس روز خدا کے حضور میں روتا رہا۔دنیا داری میں زندگی گزر رہی ہے ۔ کئی دن میں بے قرار رہا ۔ دفتر سے گھر واپسی پر دیکھا ،ایک لڑکا موتیے کے ہار بیچ رہا ہے ۔ سوچا ، ماں کے لیے لیتا چلوں ۔کبھی کبھی لے جاتا ہوں کہ اسے پسند ہیں ۔ گھر کے قریب پہنچا تو کسی کا فون آگیا۔ فون پہ بات کرتے ہوئے بے خیالی میں گاڑی سے اترا اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ بچے بھاگ کر لپٹ گئے ۔ کچھ یاد ہی نہ رہا ۔
اگلی صبح ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا توششدہ رہ گیا۔ ڈیش بورڈ پہ موتیے کے دو ہار پڑے تھے ۔ مرجھائے ہوئے ہار ، جو اپنا جوبن لٹا چکے تھے ۔ایک کلی زیرِ لب بولی : ہماری جاں گئی، تمہیں کیا خبر۔ میں نے سوچا: ان کا اب میں کیا کروں ؟ پھینک دوں ؟
اچانک جی میں پتہ نہیں کیا آئی ۔ خوشبو کا یہ جنازہ اٹھا کر میں اپنی ماں کے پاس لے گیا ۔ شرمسار اور پشیمان، ماں سے میں نے یہ کہا: رات آپ کیلئے خریدے تھے، گاڑی میں بھول گیا ۔ میری ماں اٹھ کر میرے پاس آئی ۔ یکایک ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا اور اس نے میرا ہاتھ چوم لیا۔ اس نے کہا : ہائے میرا بھلکڑ بیٹا ۔ اس نے کہا: میری ماں نے ان پھولوں کی ایسی پذیرائی کی ، جیسے وہ پوری طرح تروتازہ ہوں ، جب کہ وہ مرجھا کر ٹوٹ رہے تھےاور ان کی خوشبو ختم ہو رہی تھی ۔
یہاں سے عقدہ کھلا۔ میں نے حساب لگایا : ماں کو جو معلوم ہے ، میں بھلکڑ ہوں ، کیا خدا کو میری کمزوریاں معلوم نہیں ۔وہ تو خالق ہے اور رگِ جاں سے زیادہ قریب ۔ مرجھائے ہوئے پھول اگر ماں نے قبول کر لیے تو ٹوٹے پھوٹے اعمال بھی خدا قبول کر لے گا ۔ اس نے کہا: رسالت مآب ﷺنے فرمایا : "اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے ۔صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کواٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔"
اس نے کہا : ماں باپ کی محبت دراصل خالق ہی کی محبت کا ایک جزو ہے ۔رسالت مآبﷺ نے فرمایا" بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ۔ پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو ۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔صحیح بخاری 39۔
اس نے کہا :جو ٹوٹی پھوٹی عبادت کی ہے ، حشر کے دن خوشبو کے جنازے کی طرح خدا کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے !