• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے گاؤں کے بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ وطن وہ جگہ نہیں جہاں آدمی صرف پیدا ہوتا ہے، وطن وہ جگہ ہے جو آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ پھر آدمی دنیا کے جس شہر میں جا بسے، اس کے اندر ایک چھوٹا سا گاؤں، ایک گلی، ایک درخت، ایک مسجد، ایک دریا اور ایک پرچم ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ شاید اسی لیے مانچسٹر میں رہنے والا پاکستانی جب چودہ اگست کو سبز ہلالی پرچم دیکھتا ہے تو اس کے اندر پورا پاکستان جاگ اٹھتا ہے۔ مانچسٹر میں چودہ اگست محض جھنڈیاں لگانے یا ترانے سننے کا دن نہیں ۔ طاہر چوہدری اور صابر رضا نےآٹھویں ’’استحکامِ پاکستان کانفرنس‘‘ کا اہتمام کر رکھاہے۔ چراغ ایک رات جلانا آسان ہےمگر اسے ہر سال اسی جگہ روشن کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ایک دانا نے کہا تھا کہ درخت کو اپنی جڑوں کا پتا نہ ہو تو ہوا اسے سب سے پہلے گراتی ہے۔ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کیلئے ایسی محفلیں شاید اپنی جڑوں کو چھونے کا بہانہ ہیں۔ان کی کوشش ہے کہ برطانیہ کی گلیوں میں جو نسلیں بڑی ہو رہی ہیں۔ان کیلئے پاکستان ایک پرانی یاد نہیں ،زندہ وطن ہو۔پاکستان سے سہیل وڑائچ آ رہے ہیں۔ صحافت کا آدمی جب سفر کرتا ہے تو اپنے سوٹ کیس میں کپڑوں سے زیادہ سوال لے کر چلتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے ساتھ ماہ رخ نوید، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر نثار ترابی، ڈاکٹر نذر عابد، افتخار افی اور علی احمد عثمانی بھی اس سفر میں شریک ہیں۔ یہ سب ایک جیسے لوگ نہیں، اور یہی اچھی بات ہے۔ میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ جس مجلس میں سب کے خیالات ایک جیسے ہوں، وہاں یا تو ایک ہی آدمی سوچ رہا ہوتا ہے یا کوئی بھی نہیں سوچ رہا ہوتا۔ قومیں اختلاف سے کمزور نہیں ہوتیں، اختلاف برداشت نہ کرنے سے کمزور ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی قومی کانفرنس کی خوبصورتی یہ نہیں کہ وہاں سب ایک ہی بات کہیں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف باتیں کہنے والے ایک ہی میز کے گرد بیٹھ سکیں۔

لندن سے المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد بھی خصوصی طور پر مانچسٹر پہنچیں گے اور معروف سماجی شخصیت احسان شاہد بھی اس اجتماع میں شریک ہوں گے۔ خدمت کرنے والے لوگ مجھے ہمیشہ درختوں جیسے لگتے ہیں۔ درخت تقریر نہیں کرتا، سایہ دیتا ہے۔ وہ اپنی شاخ پر اپنا نام نہیں لکھتا، پھل دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو شاید تقریر کرنے والوں کی نسبت ایسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے جو خاموشی سے کسی یتیم، کسی بیمار، کسی ضرورت مند یا کسی بے سہارا انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کر دیں۔ اگر پاکستان کی محبت صرف لفظ ہے تو وہ نعرہ ہے، اگر وہ کسی انسان کے کام آ جائے تو وہ خدمت ہے۔ اور وطن نعرے سے کم، خدمت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔اس تقریب کی صدارت پیر سید لخت حسنین کریں گے۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ مجلس کے بڑے کو اس چراغ کی طرح ہونا چاہیے جو خود اونچا دکھائی دینے کی کوشش نہ کرے بلکہ اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں کے چہرے روشن کر دے۔یقیناََ یہ صدارت ایسی ہی ہے۔

طاہر چوہدری اور صابر رضا کئی برسوں سے چودہ اگست پر یہی چراغ روشن کر رہے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ایک کانفرنس سے کیا بدلتا ہے؟ شاید فوری طور پر کچھ بھی نہیں۔ مگر بیج بھی جس دن زمین میں ڈالا جاتا ہے، اسی دن درخت نہیں بنتا۔ ایک اچھی بات کسی نوجوان کے ذہن میں رہ جاتی ہے، ایک سوال کسی صحافی کے ساتھ واپس پاکستان چلا جاتا ہے، ایک شعر کسی بوڑھے تارکِ وطن کی آنکھ نم کر دیتا ہے، ایک ملاقات دو لوگوں کے درمیان کسی نئے کام کا آغاز بن جاتی ہے۔ تبدیلی ہمیشہ ڈھول بجا کر نہیں آتی، کبھی وہ ایک جملے کی صورت میں آتی ہے اور برسوں بعد کسی فیصلے میں ظاہر ہوتی ہے۔ہماری نئی نسل کو بھی ایسی محفلوں میں لانا چاہیے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو صرف یہ کہیں گے کہ پاکستان سے محبت کرو، تو وہ پوچھیں گے کیوں؟ ہمیں ان کے سوال سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں بتانا چاہیے کہ وطن محبت کا حکم نہیں، تعلق کا تجربہ ہے۔ انہیں اردو کے شعر سنائیں، اپنے گاؤں کے قصے بتائیں، تقسیم کے سفر کی کہانیاں سنائیں، اپنے بزرگوں کی جدوجہد بتائیں، پاکستان کی خوبیاں بھی اور غلطیاں بھی۔ جس محبت کو سچ کا سامنا کرنے کی طاقت نہ ہو وہ محبت نہیں، کمزوری ہوتی ہے۔ اپنے وطن سے محبت کا مطلب اس کی خامیوں کو چھپانا نہیں، انہیں درست کرنے کی خواہش رکھنا ہے۔

اور پھر مشاعرہ ہوگا۔ شاعر کھڑے ہوں گے، شعر پڑھیں گے۔ شاید کوئی وطن پر نظم پڑھے، کوئی ہجرت پر، کوئی ماں پر، کوئی دریا پر، کوئی اس شہر پر جہاں وہ پیدا ہوا تھا اور جہاں اب شاید اس کا گھر بھی نہیں رہا۔ پردیس کے مشاعروں میں وطن کے شعر کچھ مختلف لگتے ہیں۔ لاہور میں بیٹھ کر لاہور کا نام سننا ایک بات ہے، مانچسٹر کی شام میں لاہور کا نام سننا دوسری۔ فاصلے بعض لفظوں کو زیادہ گہرا کر دیتے ہیں۔ ماں، گھر اور وطن ایسے ہی لفظ ہیں۔میرے گاؤں کے ایک بزرگ نے ایک بار کہا تھا:’’بیٹا، وطن تمہارے باپ کی زمین نہیں کہ صرف وراثت میں مل جائے، وطن تمہارے بچوں کی امانت بھی ہے۔‘‘ میں آج بھی اس جملے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ ہمیں پاکستان اپنے بڑوں سے ملا ہے، مگر یہ ہمیشہ ہمارا نہیں رہے گا۔ ایک دن ہمیں اسے اگلی نسل کے حوالے کرنا ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ ہمیں کیسا پاکستان ملا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا پاکستان دے کر جائیں گے۔

تازہ ترین