گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں نظامِ حکومت پر بحث چل رہی ہے جسکا آغاز وزیر داخلہ نے یہ کہہ کر کیا کہ موجودہ نظام فیل ہو چکا ہے۔ اسکے بعد نئے صوبوں کی بحث شروع ہوئی، پھر بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانیکی بات کی گئی۔ آخر کار انتظامی یونٹ کا ذکر چھڑ گیا۔ سیاست دانوں اور دانش وروں نے اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا۔ اسی اثناء میں دی یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف نے ملکی حالات کی سنگینی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کروایا جس کا عنوان تھا ’’گورننس لیکن نظام کیا ہو‘‘۔ کانفرنس میں ہر مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی جن میں خاص طور پر سیاست دان، سینئر صحافی، سینئر وکلاء، دانش ور، تعلیمی اداروں سے وابستہ لوگ اور ریٹائرڈ فوجی و سول افسران شامل تھے۔ اتفاقِ رائے یہ تھا کہ ملک میں بہتر نظامِ حکومت کی ضرورت ہے اور اس کیلئے اختیارات اور وسائل نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہئیں۔ آئیے جائزہ لیں کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔
پاکستان کا آئینی ڈھانچہ ایک وفاقی نظام پر مبنی ہے جس میں وفاق اور چار صوبے شامل ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت سے صوبوں کو خاطر خواہ اختیارات منتقل کیے گئے، اس توقع کے ساتھ کہ طرزِ حکمرانی شہریوں کیلئے زیادہ جواب دہ ہو جائیگی۔ اگرچہ صوبائی خودمختاری نے وفاق کو مضبوط کیا ہے، لیکن مرکزیت کے خاتمے کے ثمرات عوام تک مکمل طور پر نہیں پہنچے کیونکہ فیصلہ سازی اب بھی صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز ہے۔ آج صوبے اتنی بڑی آبادی اور رقبے کا انتظام کر رہے ہیں جو کئی آزاد ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ صرف پنجاب کی آبادی 13کروڑ سے زائد ہے، جبکہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو بھی بڑھتے ہوئے انتظامی اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبائی دارالحکومتوں سے دور رہنے والے شہریوں کو اکثر سرکاری خدمات میں تاخیر، غیر متوازن ترقی اور فیصلہ سازوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
اصلاحاتِ حکمرانی کے اگلے مرحلے میں صوبوں کے اندر اختیارات کو مزید نچلی سطح پر منتقل کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے تاکہ ایک مؤثر، جواب دہ اور شہری مرکوز انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔پاکستان کو ایسے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے جو حکومت کو عوام کے قریب لائے، بغیر اس کے کہ انتظامی اخراجات میں غیر ضروری اضافہ ہو یا ادارہ جاتی تقسیم پیدا ہو۔ اس ضمن میں دو آپشنز موجود ہیں۔ایک آپشن تو یہ ہے کہ ضلعی سطح پر اختیارات منتقل کیے جائیں اس طرح ضلعی سطح کا ماڈل بنیادی سطح پر اختیارات فراہم کرے گا اور مقامی شرکت کو فروغ دے گا۔ تاہم پاکستان میں 170 سے زائد اضلاع ہیں، جن میں سے ہر ایک کی انتظامی صلاحیت اور مالی وسائل مختلف ہیں۔ مکمل خودمختار ضلعی حکومتوں کے قیام کے لیے محکموں میں خاطر خواہ بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری اور بھاری اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ بہت سے اضلاع کے پاس معیاری عوامی خدمات آزادانہ طور پر فراہم کرنے کے لیے ضروری تکنیکی مہارت اور مالی وسائل کا فقدان ہو سکتا ہے۔دوسرا ٓپشن ڈویژنل طرزِ حکمرانی ہے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ڈویژنوں کو علاقائی طرزِ حکمرانی کی بنیادی سطح کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔ پاکستان میں فی الوقت تقریباً چالیس انتظامی ڈویژن موجود ہیں جن میں سے ہر ایک پہلے ہی صوبائی حکومتوں اور اضلاع کے درمیان رابطہ کار اکائی کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ڈویژنوں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر نئے اداروں کے قیام کے بجائے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر استوار ہوگا۔ڈویژنل حکمرانی کا ماڈل صوبائی نگرانی اور مقامی جواب دہی کے درمیان ایک مؤثر توازن فراہم کرتا ہے۔ یہ انتظامی صلاحیت، معاشی افادیت اور پیشہ ورانہ انتظام فراہم کرتا ہے جبکہ موجودہ صوبائی نظام کے مقابلے میں فیصلہ سازی کو شہریوں کے کہیں زیادہ قریب لاتا ہے۔یہ ڈھانچہ ایک سہ جہتی نظام قائم کریگا۔وفاقی حکومت،صوبائی حکومتیں اوربااختیار ڈویژنل حکومتیں۔ضلعی انتظامیہ ڈویژنل حکومتوں کی حکمتِ عملی کی ہدایت کے تحت انتظامی اور عملدرآمد کی اکائیوں کے طور پر کام کرتی رہے گی جبکہ تحصیل اور یونین کونسلیں مقامی برادری کی خدمات اور شہری شمولیت کی ذمہ دار رہیں گی۔ڈویژنل حکومتوں کو علاقائی منصوبہ بندی، تعلیم، صحت، زراعت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بلدیاتی رابطہ کاری، آفات سے نمٹنے، ماحولیاتی تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی نقل و حمل جیسی ذمہ داریاں سونپی جانی چاہئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس نظام کا نفاذ کیسے ہو۔ میری رائے کے مطابق ڈویژنل حکومتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عمل درآمد مرحلہ وار ہونا چاہیے۔آئینی اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لینا،موجودہ ڈویژنل انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا،صوبائی حکومتوں سے بتدریج انتظامی اور مالی اختیارات کی منتقلی،وسائل کی تقسیم کے لیے ایک منصفانہ مالیاتی فریم ورک تیار کرنا،واضح طور پر متعین انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ منتخب ڈویژنل کونسلوں کا قیام۔کسی بھی طرزِ حکمرانی کی اصلاح میں ایک اہم غور طلب پہلو یہ ہے کہ آیا وہ مالی طور پر قابلِ عمل ہے۔ اگرچہ ضلعی سطح کی نچلی منتقلی مقامی طرزِ حکمرانی کے نقطہ نظر سے پرکشش نظر آ سکتی ہے، لیکن 170سے زائد اضلاع میں مکمل بااختیار حکومتوں کے قیام کے لیے انتظامی بنیادی ڈھانچے، سرکاری دفاتر، عملے، رہائش، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام، اور معاون خدمات پر خاطر خواہ اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ ایسی نقل صوبائی بجٹ پر ایک بھاری تکراری بوجھ ڈالے گی، بغیر اس کے کہ خدمات کی فراہمی میں لازمی طور پر بہتری آئے۔
تجویز کردہ ڈویژنل طرزِ حکمرانی کا ماڈل ایک زیادہ کفایتی متبادل فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے تقریباً چالیس ڈویژنز پہلے ہی کمشنروں کی سربراہی میں انتظامی ڈھانچے اور اکثر صوبائی محکموں کے علاقائی دفاتر رکھتے ہیں۔ مکمل طور پر نئی حکومتیں بنانے کے بجائے ان موجودہ اداروں کو اپ گریڈ کرنے سے اصلاحات کی منتقلی کے اخراجات کم سے کم ہوں گے اور بیوروکریسی کی غیر ضروری توسیع سے بچا جا سکے گا۔موجودہ انتظامی بنیادی ڈھانچے سے استفادہ کرتے ہوئے، ڈویژنل طرزِ حکمرانی کا ماڈل ضلعی نظام کے مقابلے میں نسبتاً کم انتظامی اخراجات کے ساتھ خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ نقل کی کمی اور بہتر رابطہ کاری سے حاصل ہونے والی بچت کو اس کے بجائے اسکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں، پانی کی فراہمی، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی، اور علاقائی اقتصادی ترقی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا مقصد حکومت کے حجم میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کو شہریوں کے قریب لا کر، مالی نظم و ضبط اور جواب دہی کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی اخراجات کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔یہ مرحلہ وار طریقہ کار خلل کو کم سے کم کرے گا جبکہ صوبوں کو وقت کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اگرچہ ضلعی سطح کی خودمختاری کے کچھ فوائد ہیں، ڈویژنل ماڈل پاکستان کے لیے ایک زیادہ عملی، مالی طور پر پائیدار، اور انتظامی طور پر مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔ڈویژنل حکومتوں کو بااختیار بنانا حکومت کو عوام کے قریب لائے گا، صوبائی انتظامیہ کو مضبوط کرے گا، متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دے گا اور ایک زیادہ جواب دہ اور مؤثر وفاقی نظام میں اپنا حصہ ڈالے گا۔