• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کبھی قوموں کو اپنے سفر کے کسی موڑ پر رک کر پیچھے دیکھنا چاہیے۔ اسلئے نہیں کہ راستے کے زخم گنے جائیں، بلکہ اس لیے کہ یہ دیکھا جائے کہ جن حالات میں سفر شروع کیا تھا، وہاں سے ہم کہاں تک پہنچے ہیں۔14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا پاکستان اپنی آزادی کے اناسی برس مکمل کرکے80 ویں سال میں داخل ہوچکا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، ایک نوزائیدہ ریاست، وسائل محدود، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، صنعت نہ ہونے کے برابر اور مستقبل کے بارے میں بے شمار خدشات۔ پھر اسی پاکستان نے جنگیں دیکھیں، مارشل لا دیکھے، سیاسی بحران جھیلے، دہشت گردی کیخلاف طویل جنگ لڑی، زلزلوں اور سیلابوں کا مقابلہ کیا اور کئی مرتبہ معاشی تباہی کے کنارے تک پہنچا۔مگر پاکستان ہر بار کھڑا ہوگیا۔شاید ہماری سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ دنیا نے کئی مرتبہ ہمارے بارے میں مایوسی کی پیش گوئیاں کیں، مگر پاکستان آج بھی قائم ہے، ایٹمی طاقت ہے، ایک مضبوط دفاع رکھتا ہے اور دنیا کے اہم جغرافیائی و سفارتی خطے میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔

1998ء میں پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ یہ کسی ایک شخص یا ادارے کی نہیں بلکہ پاکستانی سائنس دانوں، انجینئروں، افواج اور پوری قوم کی دہائیوں کی محنت کا ثمر تھا۔ آج پاکستان میزائل ٹیکنالوجی، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور دفاعی پیداوار میں بھی اپنی صلاحیت دنیا کے سامنے منوا رہا ہے۔مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دنیا کی توجہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی طرف مبذول کرائی۔ جنگ کے تمام دعووں اور اعدادوشمار پر دونوں ممالک کا اختلاف اپنی جگہ، لیکن بین الاقوامی سطح پر بھارتی جنگی طیاروں کے نقصانات کی رپورٹس سامنے آئیں اور پاکستانی فضائیہ کی صلاحیت موضوعِ بحث بنی۔

آج اس دفاعی قوت کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی قیادت اور پاکستان کے علاقائی کردار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر سراہ چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ان کی غیر معمولی ملاقات ہوئی اور اپریل 2026ء میں ایران سے مذاکرات کی کوششوں کے دوران صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کوFantastic قرار دیتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی (Reuters) ۔یہ محض کسی شخصیت کی تعریف نہیں، میرے نزدیک یہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی اہمیت کے اعتراف کی ایک علامت بھی ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان معاشی بحران سے استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ چند سال پہلے جس معیشت کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہورہی تھیں، آج اس میں استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ مہنگائی، قرض، روزگار اور توانائی جیسے بڑے مسائل ابھی موجود ہیں، لیکن معیشت کو سنبھالنے، عالمی مالیاتی اداروں سے معاملات بہتر کرنے، سرمایہ کاری لانے، برآمدات بڑھانے اور آئی ٹی کے شعبے کو آگے لے جانے کیلئے شہباز شریف حکومت کی محنت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن اچھے کام کی تعریف بھی ہماری قومی روایت ہونی چاہیے۔پاکستان کی نئی طاقت اس کا نوجوان اور اس کا لیپ ٹاپ بھی ہے۔ آئی ٹی برآمدات اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے اپنے گھروں اور چھوٹے چھوٹے دفاتر سے کام کررہے ہیں۔ کبھی پاکستان کی پہچان کپاس، چاول اور ٹیکسٹائل تھے، آج اس فہرست میں سافٹ ویئر، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز بھی شامل ہو رہی ہیں۔پاکستان کی معاشی کہانی اوورسیز پاکستانیوں کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ کبھی اپنے مشکل حالات میں بہتر مستقبل کی تلاش میں وطن سے نکلے تھے، مگر آج وطن کے مشکل وقت میں یہی لوگ پاکستان کے کام آرہے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں انہوں نے ریکارڈ 38 .3ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ ترسیلات پاکستان کے زرمبادلہ اور بیرونی ادائیگیوں کے استحکام کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ لیکن اوورسیز پاکستانی صرف ڈالر نہیں بھیجتے۔ سعودی عرب کا محنت کش ہو، جاپان کا کاروباری شخص، امریکہ کا ڈاکٹر، برطانیہ کا پروفیشنل یا خلیج میں کام کرنے والا انجینئر، ہر کامیاب پاکستانی دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ ہے۔ یہ پاکستان سے دور رہتے ہیں، پاکستان ان سے دور نہیں رہتا۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تاریخی باہمی دفاعی معاہدہ بھی ہماری بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک اہمیت کی مثال ہے، جسکے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ امریکہ، چین، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بتاتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ایک میدان ایسا ہے جہاں ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے، اور وہ ہے جمہوریت کا استحکام۔پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ منتخب حکومتوں کو پانچ سال کام کرنے دیا جائے۔ حکومت اچھی کارکردگی دکھائے تو عوام دوبارہ منتخب کریں، ناکام ہو تو ووٹ سے گھر بھیج دیں۔ بار بار نظام کو غیر یقینی صورتحال میں ڈالنے سے نہ معیشت چل سکتی ہے، نہ سرمایہ کاری آ سکتی ہے، نہ طویل المدت پالیسیاں نتیجہ دے سکتی ہیں۔ مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے، مگر اسی طرح مضبوط پارلیمان، آزاد عدلیہ، مستحکم جمہوریت اور آئین کی بالادستی بھی مضبوط پاکستان کی ضرورت ہیں۔79برس گزر گئے، 80واں سال شروع ہوگیا۔ہم کامل نہیں ہیں۔ ہمارے مسائل بہت ہیں۔ مگر ہماری کامیابیاں بھی کم نہیں۔ اب ضرورت مایوسی پھیلانے کی نہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ہے۔حکومتیں بدلتی رہیں گی، چہرے بدلتے رہیں گے، نسلیں بدل جائیں گی، لیکن ایک حقیقت ہم سب سے بڑی رہے گی ’’پاکستان‘‘۔ اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے، اس کی جمہوریت بھی، اس کی معیشت بھی اور اس کی عزت بھی۔پاکستان تھا، پاکستان ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہے گا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

تازہ ترین