• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد جموں و کشمیر میں اس مرتبہ ہونیوالے انتخابات اپنی مثال آپ ہیں ۔قومی محاذ آرائی، راستوں کی بندش، جانوں کے ضیاع، لڑائی جھگڑوں ، گالم گلوچ ، دھاندلی کے الزامات ،کم ٹرن آؤٹ اور تین مرحلوں میں کرائے جانیوالے انتخابات ابھی تک نامکمل ہیں آزاد کشمیرمیں بالعموم وہی جماعت فتح یاب ہوتی ہے جسے پاکستان کی وفاقی اور پنجاب کی اشیرباد حاصل ہو۔ مسلم لیگ ن، آزاد کشمیر کو اتفاق سے یہ سبقت حاصل ہے اور توقع کے عین مطابق اب تک کے نتائج اس کے حق میں ہیں پونچھ ڈویژن کے دو اضلاع میں جہاں کالعدم ایکشن کمیٹی مورچہ زن ہے ابھی پولنگ ہونا ہے باقی علاقوں میں انتخابی نتائج کا ا علان کیا جاچکا ہے اور مسلم لیگ ن تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کرکے حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آچکی ہے ۔ پیپلز پارٹی پاکستان میں مسلم لیگی حکومت کی شراکت دار ہے مگر اگلے ملکی انتخابات میں کامیابی کیلئے اپنا تشخص بھی قائم رکھنا چاہتی ہے اسلئے مسلم لیگ کی حریف بھی ہے ۔ آزاد کشمیر میں بے شک اس کا صدر بھی اپنا اور وزیر اعظم بھی اپنا تھا مگر اپنی حکومت ہونے کے باوجود اسے آزاد کشمیر اسمبلی میں اب تک مسلم لیگ کی 25 کے مقابلے میں صرف 12،نشستیں ملی ہیں پونچھ ڈویژن کی سات نشستوں پر انتخابات ہونا ہیں مگر کالعدم ایکشن کمیٹی راستے میں حائل ہے اسے قابو میں کرکے پولنگ کا اہتمام ہوا بھی تو پیپلز پارٹی کو شاید مایوسی کے سوا کچھ نہ ملے۔

اس بار آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کی خاص بات تحریک آزادی کی بانی جماعت مسلم کانفرنس کا پارلیمانی صفایا ہے ۔ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کی نشست اب تک انہی کے خاندان میں رہی ، اس نشست پر اس وقت ان کے فرزند سر دار عتیق احمد خان اسمبلی کے رکن تھے ۔ مسلم کانفرنس کی یہ واحد نشست تھی جو آزاد خطے کی اسمبلی میں تحریک آزادی کی علم بردار پارٹی کی علامت تھی ۔ مسلم کانفرنس وہ پارٹی ہے جسکے برصغیر کی تقسیم کے وقت شیخ محمد عبداللہ صدر اور قائد ملت چوہدری غلام عباس سیکریٹری جنرل تھے ۔ مجاہدین آزادی جب سری نگر کے قریب پہنچ گئے اور کشمیر کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے ہی والے تھے تو بھارت نے اقتدار کا لالچ دے کر شیخ محمد عبداللہ سے بھارت سے الحاق کا اعلان کراکے پانسہ پلٹ دیا ۔ مسلم کانفرنس بھی اس وقت تک خود مختار کشمیر کی حامی تھی لیکن شیخ عبداللہ کی قلابازی کے بعد سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کے گھر میں اس کا اجلاس ہوا جس میں اس نے کھل کر پاکستان سے الحاق کی قرار داد منظور کی یوں مسلمانان کشمیر کا واضح نصب العین سامنے آگیا ۔ کشمیر کے جن علاقوں کو آزاد کرالیا گیا تھا انہیں آزادی کا بیس کیمپ بنا کر یہاں آزاد حکومت قائم کی گئی تو ایک عرصہ تک اس کا نظم و نسق مسلم کانفرنس کے پاس رہا ۔ جموں و کشمیر لبریشن لیگ نے اسی کے بطن سے جنم لیا پھر ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے مسلم کانفرنس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی قائم کرکے پاکستان کی دوسری پارٹیوں کو بھی اپنی جماعتیںقائم کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب اقتدار کی کشش نے ذات برادری کی بنیاد پر منتخب ہونے کے اہل امیدواروں کو مسلم کانفرنس سے کنارہ کشی اور پیپلز پارٹی یامسلم لیگ ن میں شمولیت کا راستہ دکھایا ۔ آخر میں سردار عتیق احمد خان کے ساتھ چند ہی نظریاتی لوگ رہ گئے ۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں وہ مسلم کانفرنس کے واحد رکن تھے اس مرتبہ وہ بھی ہار گئے ۔ لیکن ان کا ظرف ہے کہ انہوں نے نہ صرف کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کی بلکہ جیتنے والے کو مبارکباد بھی پیش کی اگرچہ آزاد کشمیر کی تمام جماعتیں الحاق پاکستان ہی کی علمبردار ہیں مگر چند مخصوص پارٹیاں جنکی عوام میں زیادہ پذیرائی نہیں خود مختار کشمیر کی حامی ہیں۔ ایکشن کمیٹی ابتدا میں عوامی مسائل کے منشور کو لے کر سامنے آئی تھی لیکن جلد ہی خود مختار کشمیر کے لوگ نہ صرف اس میں شامل ہوئے بلکہ غلبہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح کمیٹی کو سیاسی بنادیاگیا اور مسلح جدوجہد کے لئے ہتھیار بھی حاصل کرلئے گئے یہ دعویٰ شاید درست نہ ہو کہ اسے پاکستان دشمن غیر ملکی قوتوں کی عملی مدد حاصل ہے مگر جس طرح اس کے تربیت یافتہ لوگ جدید ہتھیار وں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کررہے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ دعوے اتنےغلط بھی نہیں ہیں۔ راولا کوٹ کو انہوں نے اپنا ہیڈکوارٹر بنا کر پورے آزاد کشمیر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ آزاد حکومت کالعدم ایکشن کمیٹی سے افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنےکےلئے تیار ہے اور اس کے 38 میں سے36 مطالبات مان بھی لئے گئے ہیں مگر خود مختاری فلسفے کے لوگ شاید امن کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ راولا کوٹ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کا موثر مرکز رہا ہے یہاں کے حریت پسندوں نے حق گوئی اور جدوجہد کے ذریعے پورے جموں و کشمیر میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ایسے وقت میں جب بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ قرار دے کر آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکیاں دے رہا ہےکنٹرول لائن کے اس طرف ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دی جائے جس سے دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے۔

مری میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر کے منتخب نمائندوں نے بھی شرکت کی اجلاس میں آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کیلئے حکمت عملی اور اہم مسائل پر غور کیا گیا ۔ توقع کی جارہی ہے کہ آزاد کشمیر مسلم لیگ کے صدر شاہ غلام قادر کو جو ایک دیدہ ور اور تجربہ کار سیاسی لیڈر ہیں کئی بار آزاد حکومت کے وزیر بھی رہ چکے ہیں آزاد کشمیر کا نیا وزیر اعظم منتخب کرلیا جائیگا ۔ انہیں راجہ فاروق حیدر جیسے تجربہ کار ساتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ انہیں چاہئے کہ آزاد کشمیر کے عوامی مسائل کے حل کیساتھ کالعدم ایکشن کمیٹی کا قضیہ نمٹانے میں دانشمندانہ کردار ادا کریں۔

تازہ ترین