• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی دل کا دورہ بڑھتی عمر کے ساتھ جڑی ہوئی بیماری سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل ایسے واقعات مشاہدے میں آ رہے ہیں کہ بظاہر صحت مند، چلتے پھرتے اور اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف افراد اچانک دل کے دورے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ کسی گھر کا جوان بیٹا، کسی ماں کا سہارا، کسی بچے کا باپ یا کسی خاندان کا ہنستا مسکراتا فرد اچانک موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ہماری آنکھوں کے سامنے نوجوان نسل تیزی سے اس بیماری کا شکار ہو رہی ہے۔ہمیں اس پر ضرور بات کرنی چاہئے۔دل کے امراض کی وجوہات میں غیر صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، تمباکو نوشی، موٹاپا، بلند فشار خون، ذیابیطس اور خون میں غیر معمولی کولیسٹرول جیسے عوامل نمایاں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اس مسئلے کا ایک انتہائی اہم پہلو ناقص اور غیر معیاری گھی و کوکنگ آئل بھی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب خوردنی تیل اور گھی کے معیار کے بارے میں آئے روز شکایات اور رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔میڈیا میں سامنے والی بعض معتبر رپورٹس کے مطابق میں مارکیٹ کے تقریباً 60فیصد خوردنی تیل کو ناقص قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق صنعتی ٹرانس فیٹس دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ بازار میں ناقص معیار کے تیل کا استعمال، فاسٹ فوڈ اور بیکری مصنوعات کی زیادتی ہمارے خوراکی نظام کا حصہ بنتی جا رہی ہےجو ہمیںتیزی سے موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔

نوجوان نسل کے کھانے پینے کی عادات میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ برگر، پیزا، فرائز، شوارما، سموسے، پکوڑے، تلی ہوئی مرغی، بسکٹ، کیک، پیسٹری اور مختلف پیکٹ فوڈز اب کبھی کبھار کھائی جانے والی اشیا نہیں رہیں بلکہ بہت سے نوجوانوں کی روزمرہ خوراک بن چکی ہیں۔ مسئلہ کسی ایک چیز کو کبھی کبھار کھانے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب چکنائی، نمک، چینی اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک مستقل معمول بن جائے۔ صحت مند خوراک کے لیے پھل، سبزیاں، دالیں، سالم اناج اور مناسب مقدار میں صحت مند چکنائیوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔دوسری بڑی وجہ ہماری غیر متحرک زندگی ہے۔ ایک زمانہ میں نوجوان کھیل کے میدانوں میں نظر آتے تھے، پیدل چلتے تھے، سائیکل چلاتے تھے اور جسمانی محنت زندگی کا حصہ تھی۔ اب موبائل فون، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، آن لائن گیمز اور گاڑیوں نے جسمانی سرگرمی کو بہت محدود کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ سگریٹ نوشی، شیشہ اور تمباکو کی دوسری مصنوعات بھی نوجوانوں کے دل کے لیے خطرناک ہیں۔ بعض نوجوان ورزش اور جم کو صحت کی علامت سمجھتے ہیں مگر ساتھ ہی سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ جسم کو چند گھنٹے ورزش کرانے کے بعد تمباکو کے دھوئیں کے حوالے کر دینا صحت مند طرز زندگی نہیں۔ذہنی دباؤ بھی موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ روزگار کی فکر، کاروباری مشکلات، معاشی دباؤ، خاندانی مسائل، مستقبل کی بے یقینی اور ہر وقت دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ نے نوجوانوں کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ اس کیساتھ رات گئے تک موبائل فون کا استعمال اور نیند پوری نہ کرنا ایک الگ مسئلہ ہے۔ نوجوان راتوں کو جاگتے ہیں، صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر دن بھر چائے، کافی، کولڈ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ پر گزارا کرتے ہیں۔ایک اور خطرناک حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول جیسے مسائل خاموشی سے جسم کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان کی عمر کم ہے اور وہ بظاہر صحت مند دکھائی دیتے ہیں، اسلئے انہیں کسی طبی معائنے کی ضرورت نہیں۔ یہی سوچ بعض اوقات مہنگی پڑ سکتی ہے۔خاندان میں دل کے امراض کی تاریخ رکھنے والے افراد کو بالخصوص اپنی صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہئے۔اب سوال یہ ہے کہ اس خطرناک رجحان کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ سب سے پہلے ہمیں اپنے کھانے کے دستر خوان کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ناقص اور غیر معیاری گھی و تیل کے بجاے سرسوں کے تیل یا قابل اعتماد برانڈ اور معیاری مصنوعات کا انتخاب کرنا ہوگا.دوسرا قدم روزانہ جسمانی سرگرمی کو زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ تیسرا قدم سگریٹ، شیشہ اور تمباکو کی تمام مصنوعات سے مکمل اجتناب ہے۔ چوتھا قدم خوراک میں سبزیوں، پھلوں، دالوں اور سالم اناج کو جگہ دینا اور نمک، چینی، تلی ہوئی اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک کو کم کرنا ہے۔پانچواں اور انتہائی اہم قدم باقاعدہ طبی معائنہ ہے۔ بلڈ پریشر، خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کا وقتاً جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ خوردنی تیل اور گھی کے معیار کی مؤثر نگرانی، باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ، مارکیٹ میں سیمپلنگ، ٹرانس فیٹ کی نگرانی، مصنوعات پر واضح لیبلنگ اور ناقص خوراک فروخت کرنے والوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ فوڈ اتھارٹی جیسے اداروں کو محض جرمانوں کے ذریعے ٹارگٹ پورا کرنے کے بجائے عوام میں آگاہی اور دکانداروں پر قانون کا یکساں موثر نفاذ یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دل کا دورہ اب صرف بڑھاپے کی بیماری نہیں رہا۔ جدید طرز زندگی نے دل کے خطرات کو نوجوانوں کے قریب پہنچا دیا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خوراک، اپنی عادات، اپنی نیند، اپنی جسمانی سرگرمی اور اپنی ذہنی صحت پر توجہ نہ دی تو آنیوالے برسوں میں دل کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے لئے ایک بہت بڑا قومی چیلنج بن سکتی ہے۔آخری بات یہ ہے کہ ذہنی دباؤ،دماغی مسائل سے چھٹکارے کیلئے مصنوعی ادویات کا سہارہ لینے کے بجائے اللہ سے رجوع کرنے کی عادت کو پختہ کرنا ہوگا۔یاد رکھیں جو ذہنی سکون ذکر الٰہی میں ہے وہ کسی دوا میں نہیں اور جو اطمینان اللہ کے نبی پر درود شریف پڑھنے میں ہے وہ کسی اور سرگرمی میں نہیں۔

تازہ ترین