جواصل بات ہے وہ جناب نے مطلع میں ہی کہہ دی۔ آزادی کی تحریک کے پیچھے کوئی مذہبی ایجنڈا نہیں تھا۔معاملہ یہ تھا کہ کچھ لوگ ثانوی حیثیت میں رہنا نہیں چاہتے تھے۔یہ لوگ مسلمان تھے۔لوگ اپنے اپنے پس منظر کے ساتھ آزادی کی تحریک سے جڑ رہے تھے۔جن کا پس منظر مذہبی تھا، انہوں نے مذہبی بیانیے تخلیق کیے۔یہ ضمنی بیانیے تھے۔تحریک کو متحد رکھنے کیلئے ضمنی بیانیوں کو گوارا کیا جاتا ہے۔
تحریک آزادی کا بنیادی خاکہ وہی ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا تھا۔یہ خاکہ کسی بھی قسم کی ضمنی آلودگی سے پاک تھا۔اس خاکے کے پیچھے دراصل یہ احساس تھا کہ ہم ثانوی حیثیت کا دکھ سمجھتے ہیں۔ہم کسی اور کو یہ دکھ نہیں دیں گے۔ہماری مملکت کسی کی شہری حیثیت پر اسکے عقیدے کی وجہ سے سوال نہیں اٹھائیگی۔ہم نے قائد کے اس خاکے کو ایک طرف رکھ دیا۔اسکے برعکس ہم نے ایک بیانیہ تشکیل دیدیا۔یہ کام ہمارے لیے اتنا ضروری تھا کہ ہم نے آئین کی تشکیل کو بھی التوا میں ڈال دیا۔یعنی ہمارے آس پڑوس میں جس سال آئین تشکیل دیا جارہا تھا ہم اسی سال بیانیہ ترتیب دے رہے تھے۔
قائد اکثریت اور اقلیت کی لکیر کو مٹانا چاہتے تھے۔بیانیے میں ہم نےاکثریت اور اقلیت کی اس لکیر کو ہی بنیادی طور پر واضح کر دیا۔قائد ایسی مملکت کی بات کر رہے تھے جس میں جمہوریت ہو، پیشوائیت نہ ہو۔بیانیے میں پیشوائیت کو بنیادی عنصر کے طور پر لے لیا گیا۔عقیدے کو کوالیفکیشن مان لیا گیا۔اس صورت حال سے غیر مسلم اقلیت پہلے دن ہی گھبرا گئی۔انکے نمائندوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کچھ تجاویز بھی دیں مگر انہیں مسترد کردیا گیا۔اب یہ بات تو بہت خوبصورت ہے کہ تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے کے باوجود سید ابوالاعلی مودودی کو پاکستان ہی آنا پڑا، مگر یہ بات کتنی عجیب ہے کہ پاکستان کی پرزور حمایت کرنے کے باوجود پہلے وزیر قانون جوگیندر ناتھ منڈل کو واپس بھارت جانا پڑا۔یہ بات بھی خوب ہے کہ پاکستان میں ہر مسلم شہری کسی بھی منصب کا اہل ہے، مگریہ بات کتنی عجیب ہے کہ غیرمسلم شہری اہم مناصب کیلئے ایمانداری اور اہلیت کے باجود بھی اہل نہیں ہیں۔
فیض جسے سحر کہتے تھے وہ قائد کی بات ہے جو ملاوٹ سے پاک ہے۔جسے شب گزیدہ سحر کہتے ہیں وہ بیانیے کا کمبل ہے، جس کے نیچے بات چھپادی گئی۔ہم ہمیشہ بات چھپاتے ہیں اور نتائج بھگتتے ہیں۔جیسے ہم نے اسی کی دہائی میں یہ بات چھپائی کہ افغانستان محض میدان جنگ ہے۔لڑائی کفر و اسلام کی نہیں ہے بلکہ سوویت یونین اور امریکا کی ہے۔اس چھپن چھپائی کا نتیجہ یہ کہ آج دہشت گردی کی اتنی پرتیں اور قسمیں بن چکی ہیں کہ معاملہ تجزیے سے باہر ہوگیا ہے۔نوجوانوں کی فکری ڈور اتنی الجھ گئی ہے کہ سلجھاؤ کے لیے کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا۔سیاسی جماعتوں اور مذہبی دھڑوں کا فرق مٹ رہا ہے۔تازہ ترین منظرنامہ یہ ہے کہ سیاسی افراتفری اور فرقہ ورانہ دہشت گردی کندھے سے کندھا ملاکر چل رہی ہیں۔
ویسے تو تین نظموں اور چار غزلوں کے علاوہ پورا اقبال ہی ہم نے قوم سے چھپایا ہوا ہے مگر اسے جانے دیتے ہیں۔ویسے بھی جون بھائی کہتے تھے جب میں اپنے جھوٹ کے ساتھ خوش ہوں تو تم کون ہوتے ہو مجھے سچ بتلانے والے۔کوئی تراشے ہوئے اقبال کے ساتھ خوش ہے تو خوش رہے، مگر ہمارے ایک صفحے کا تھوڑا خیال رکھے۔گیارہ اگست کی تقریر کو ہمارے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تھا مگر وہ ریکارڈ کا حصہ بھی نہیں بن سکی۔ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضی سولنگی کو 2012ءمیں یہ تقریر آرکائیو میں نہیں ملی۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ تقریر کسی سازش کے تحت غائب کی گئی، مگر اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ تقریر کبھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ایک طرف رکھے ہوئے غیر ضروری کاغذات اکثر انارکلی بازار اور ریگل چوک کے فٹ پاتھوں سے ملتے ہیں۔جس دستاویز میں دلچسپی ہو وہ ہمہ وقت سامنے رہتی ہے۔گاہے زبانی بھی یاد رہتی ہے۔
انچاس والا بیانیہ ہماری بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔کبھی غائب نہیں ہوا۔اس کا پہلا صفحہ ہم نے کاپی کیا ہوا ہے۔جہاں جگہ نظر آتی ہے وہاں پیسٹ کر دیتے ہیں۔1999ءکے بعد سے ہم تقریباََ ہر پانچ سال بعد ایک نیا بیانیہ تشکیل دیتے چلے آرہے ہیں۔ہر بار یہ بیانیہ عطار کے وہی لونڈے تشکیل دیتے ہیں جنکی دواؤں کے سبب یہ سسٹم بیمار ہے۔جو آخری بیانیہ ہم نے تشکیل دیا اس کا عنوان پیغام پاکستان ہے۔باقی بیانیوں کی طرح یہ بیانیہ بھی امن و امان اور رواداری کی بات کر رہا ہے۔اس کا پہلا صفحہ مگر وہی ہے جو انچاس والے بیانیے کا تھا۔یہ صفحہ امن اور رواداری کے ایجنڈے کو محدود کرتا ہے۔
یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ پاکستان انہی مقاصد کیلئے حاصل کیا گیا ہے جو ہمیں بتانے والوں نے بتائے ہیں۔مگر آج اناسی برس کے بعد کیا ہم جائزہ نہیں لے سکتے کہ ہمیں یہ مقاصد طے کرنے سے کیا حاصل ہوا۔ہر دس سال بعد پیراگراف آگے پیچھے کرکے جو ہم بیانیہ مرتب کرتے ہیں ان کا حاصل وصول کیا ہے۔اگر ہمیں واقعی امن اور رواداری چاہیے اور اسکے لیے کوئی بیانیہ چاہیے تو پھر اس بیانیے سے بہتر ہمارے لیے کیا ہے جو گیارہ اگست کے خطبے میں بیان ہوگیا تھا۔جس خطبے کو 1930 کے خطبہ الہ آباد سے بھی زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا وہ کسی ضلعی رہنما کی احتجاجی تقریر جتنی اہمیت بھی کیوں حاصل نہیں کر پا رہا۔
یہ بات بہت تسلی دیتی ہے کہ سحر کتنی ہی شب گزیدہ ہو، ہے تو سحر ہی۔اور یہ کہ یہ سحر ہماری ہی ہے۔مگر ایک بات تنگ کرتی ہے۔ اہل علم اب تھک رہے ہیں۔انکے تجزیوں کا خلاصہ یہ نکل رہا ہے کہ آئین اور سیاست جیسے عناصر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔اس سے اب جان چھڑانی ہوگی۔تو کیا ہم گیارہ اگست کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیں؟