• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ تصوّر کیا جائے گا‘‘ پاکستان، سعودی عرب اور تُرکیہ کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے کی یہی وہ شِق ہے، جس پر پوری دنیا، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا فوکس ہے اور اِسی پر بحث جاری ہے کہ اِس شق کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو مسلم دنیا کو جتنے نقصانات اور ہلاکتوں کا سامنا آپس کے تنازعات سے ہوا، اُتنا غیر مسلموں کے ساتھ جنگوں سے بھی نہیں ہوا۔

جیسے فلسطین میں حماس اور پی ایل او کے باہمی اختلافات، عراق، ایران جنگ، یمن کی سِول وار، سوڈان، شام، لبنان، لیبیا کی خانہ جنگیاں، ایران۔ عرب تنازعات اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی۔ بلاشبہ، غیر ممالک اِس صُورتِ حال سے فائدہ اُٹھاتے رہے، لیکن قصور تو اپنے نفاق کا ہے۔ اگر ہم اُمّہ اُمّہ اور مسلم اتحاد کے نعرے لگاتے ہیں اور آپس میں جنگیں بھی کرتے رہتے ہیں، تو پھر دنیا سے کیا شکوہ۔ پہلے اپنے گھر ہی کو درست کرنا چاہیے۔

مکّۃ المکرّمہ میں ہونے والے اِس معاہدے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمّد بن سلمان اور تُرکیہ کے صدر طیّب اردوان نے دست خط کیے۔ اِس معاہدے کا واضح پیغام یہ ہے کہ یہ مسلم دنیا کے لیے مستقبل میں اہم ترین ہوگا۔ مختلف سطح پر کی گئی وضاحتوں میں دو، تین امور سامنے آئے۔ ایک تو یہ کہ معاہدہ کسی بھی مُلک کے خلاف نہیں۔ دوم، ہر وہ مُلک، جو خطّے میں امن چاہتا ہے، اِس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

یہ معاہدہ سال بَھر جاری رہنے والی پس منظر کی کوششوں کے بعد ہوا، حالاں کہ اِن تینوں ممالک میں اپنے اپنے طور پر دفاعی تعاون ایک عرصے سے جاری تھا۔ ویسے کوئی بھی وضاحت پیش کی جائے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکا، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اِس معاہدے کی فوری ضرورت بنی۔ عالمی آبی راستے کُھلے رکھنے اور توانائی کی سپلائی جاری رکھنا بھی معاہدے کا ایک اہم محرّک ہے کہ بجائے یہ کام کوئی اور کرے، کیوں نہ مسلم ممالک خُود ہی کرلیں۔

اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ ایک اچھی مثال ہوگی۔ آبنائے ملاکا انڈونیشیا اور ملائشیا کے درمیان آبی گزرگاہ ہے، جس سے چین، امریکا، جاپان، شمالی کوریا کے غیر معمولی تجارتی مفادات وابستہ ہیں، جب کہ اِن ممالک کے درمیان مختلف تنازعات بھی ہیں، مگر اس کے باوجود یہ آبی گزرگاہ کبھی بھی بحرِہند اور بحرالکاہل کے درمیان رکاوٹ نہیں بنی، چاہے خطّے میں کیسا ہی تناؤ کیوں نہ ہو۔ آبنائے ہرمز کی بندش بہت سے مسائل اور سوالات جنم دیتی ہے، جس کا جواب مشرقِ وسطیٰ ہی سے آئے گا۔ یہ دفاعی معاہدہ اِسی سمت کی ایک کڑی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا شمار دنیا کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ توانائی ہی نہیں، اس کی جغرافیائی اہمیت بھی ہمیشہ سے اہم رہی ہے۔ یہ قدیم زمانے سے تقریباً تمام مذاہب کے لیے اہم ہے۔ اس کا ذکر الہامی کتب میں بھی بڑی تفصیل سے موجود ہے۔ مختلف مذاہب کے مقدّس مقامات یہاں ہیں۔ پھر شاید ہی ماضی یا حال کی کوئی بڑی طاقت ایسی ہو، جو اِس علاقے پر حملہ آور نہ ہوئی ہو۔

یہ خطّہ عظیم تہذیبوں کا گھر رہا، جب کہ اسلامی دنیا کے لیے تو مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اِسی لیے غزہ، شام کی سِول وار، عراق، ایران کی جنگیں، لبنان کا بحران، لیبیا کی تباہی، غرض سب ہی مسلم دنیا کے سانحات تسلیم کیے گئے۔ مسلم دنیا یہیں سے اُٹھ کر سُپر پاور بنی۔ اِسی لیے مکّہ معاہدہ دنیا بَھر کی چھوٹی، بڑی طاقتوں کی توجّہ کا مرکز ہے۔ اِس معاہدے کی ایک خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ تُرکیہ اور عرب دنیا پہلی جنگِ عظیم کی تلخیاں بُھلا کر پھر سے ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوگئے، جس کا کریڈٹ بہرحال پاکستان ہی کو جاتا ہے۔

پاکستان، تُرکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ تین اہم عناصر کی نمایندگی کرتا ہے۔ تُرکیہ کی فوجی قوّت، پاکستان کا واحد ایٹمی اسلامی مُلک ہونا، سعودی عرب کی بے پناہ دولت اور اس کا مسلم دنیا کے مقدّس ترین مقامات کا متولّی ہونا۔ یہ معاہدہ مسلم دنیا کے اہم ممالک کے درمیان تو ہے، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کوئی مذہبی نہیں، بلکہ تین نیشن اسٹیٹس کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے۔ ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں اور کسی کے لیے بھی اپنے عوام اور سرزمین کی اہمیت نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

تُرکیہ فوجی لحاظ سے نیٹو کا دوسرا سب سے طاقت وَر مُلک ہے، جو روس کے خلاف اس کا’’شمالی قلعہ‘‘ کہلاتا ہے۔ پھر یہ کہ وہ امریکا اور یورپ کا اہم اتحادی بھی ہے اور رواں برس نیٹو سمٹ تُرکیہ ہی میں ہوئی۔ پاکستان گزشتہ سال بھارت سے جنگ لڑ چُکا ہے، جب کہ ایران اور سعودی عرب کے بھارت سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب تیل اور دوسرے منصوبوں میں بھارت میں43 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے پاک، چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور بحرِہند سے گہری ہے، مگر بھارت، چین کے شنگھائی فورم اور برکس بینک کا اہم رُکن ہے(پاکستان کو ابھی تک ممبرشپ نہیں ملی)، جب کہ چین اور بھارت کی باہمی تجارت ایک سو ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔ ایران، پاکستان کا پڑوسی مُلک ہے۔ پاکستان نے حالیہ جنگ میں جتنا اُس کا ساتھ دیا، کسی نے بھی نہیں دیا، لیکن بھارت نے ایران کا چابہار پورٹ بنانے کے ساتھ، افغانستان تک رسائی کے لیے وہاں سے کابل تک شاہ راہ تعمیر کی۔ اگر یہ حقائق علم میں ہوں، تو جذبات اور توقّعات قابو میں رہتے ہیں، اپنے خیرخواہ، برادر اور دوست ممالک کی حدود کا بھی پتا چل جاتا ہے۔

بہت سے ناقدین اور تجزیہ کاروں کے نزدیک مکّہ معاہدے کا فوری محرّک امریکا کی عرب دنیا کو وہ سیکیوریٹی فراہم کرنے میں ناکامی ہے، جس کی اُنہیں توقّع تھی۔ ایسا بالکل ممکن ہے۔ توقّعات تو کچھ بھی ہوسکتی ہیں، لیکن اگر ایران اور امریکا کی گزشہ جنگیں دیکھی جائیں، جن میں اسرائیل، امریکا کا فوجی حلیف ہے، تو ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے بیانات توبہت دیے، عرب دنیا میں امریکی مفادات ٹارگٹ بھی کیے، لیکن اُس نے جنگ کو علاقے سے باہر نہیں نکلنے دیا اور نہ ہی عرب دنیا کے کسی مُلک کو ایسا نقصان پہنچایا، جس سے دشمنی اِتنی بڑھ جائے کہ سارے دروازے ہی بند ہوجائیں۔

دبئی، ریاض، کویت، بحرین، اومان سب میں نہ صرف زندگی رواں دواں ہے، بلکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے آمدنی میں بہت اضافہ بھی ہوا۔ گویا، آبنائے ہرمز کی بندش سے اُنھیں نقصان کی بجائے فائدہ ہوا۔ سعودی کمپنی آرامکو ہی کا اِس سال کا منافع دیکھ لیں، جس میں خاصا اضافہ ہوا۔ ایران نے کسی بھی عرب مُلک سے سفارتی تعلقات نہیں توڑے، بلکہ صدر پزشکیان تو حملوں پر معذرت بھی کرتے رہے۔ اِسی لیے ایران نے مکّہ معاہدے پر اپنے پہلے ردّ ِعمل میں کہا کہ یہ علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی سیکیوریٹی سے مطمئن نہیں۔ یہ بات کسی حد تک صحیح ہوسکتی ہے، لیکن اس کے کئی اور بھی محرّکات ہیں۔

عثمانی سلطنت کی شکست، یروشلم کا گیارہ سو سال بعد مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا، اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بے گھری، مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ بنی۔ عالمی جنگوں کے بعد نیا مشرقِ وسطیٰ سامنے آیا۔ اِن ریاستوں میں اُکھاڑ پچھاڑ اور انقلابات جاری رہے۔ صرف یہی نہیں، سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین اور امریکی کشمکش بھی یہاں نمایاں رہی۔ یاسر عرفات اور اُن کے محاذِ آزادیٔ فلسطین کو سوویت یونین کی سپورٹ حاصل رہی۔ مصر، شام، عراق اور دوسرے سوشلسٹ عرب ممالک بھی اُنھیں سپورٹ کرتے رہے، جب کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک امریکا اور مغربی چھتری کے نیچے آگئے، جن میں ایران بھی شامل تھا۔

چار عرب، اسرائیل جنگیں ہوئیں، جن میں اسرائیل، عربوں کو شکست دینے میں کام یاب رہا۔ فلسطینیوں کی بے گھری اور دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہونا اِن ممالک کے سماجی ڈھانچے کے لیے چیلنج بننے لگا، جس کے اثرات اردن اور لبنان میں شدّت سے دیکھے گئے۔ یاسر عرفات، امریکا اور بڑی طاقتوں نے مل کر اِس مسئلے کا عارضی حل فلسطینی اسٹیٹ کے قیام کی شکل میں نکالا، جس کے پہلے صدر یاسر عرفات تھے۔ بعدازاں، ایسے واقعات ہوئے، جنہوں نے دنیا ہی بدل ڈالی۔ سوویت یونین کے بکھرتے ہی اُس کے عرب سوشلسٹ ممالک پر اثرات ختم ہوگئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور مغرب کا توتی بولنے لگا، اِسی لیے لبنان کی خانہ جنگی کے دوران یاسر عرفات اور دیگر فلسطینی قیادت امریکی جہاز میں بیٹھ کر وہاں سے نکلی۔ فلسطینی اسٹیٹ امریکا کی زیرِ سرپرستی قائم ہوئی۔ پھر ایران کے انقلاب نے خطّے کی صُورتِ حال بدل دی۔ ایران، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے مضبوط اور قابلِ اعتماد حلیف تھا، انقلاب کے بعد اُس کا دشمن ہوگیا۔ ایرانی انقلاب کی اساس’’مرگ بر امریکا، مرگ بر اسرائیل‘‘، یعنی اِن کے خاتمے کے نعروں پر رکھی گئی۔

ایران نے اپنی خارجہ پالیسی شروع ہی سے جارحانہ رکھی اور وہ عرب ممالک سے ٹکرا گیا۔ جنرل سلیمانی نے جو حکمتِ عملی اپنائی، اُس کا محور امریکا، اسرائیل یا عرب ممالک سے براہِ راست ٹکراؤ کی بجائے، طاقت وَر ملیشیاز کا قیام تھا۔ اِس ضمن میں ایران نے بھرپور طور پر تیل کی دولت استعمال کی۔ اِسی لیے ایرانی قیادت کہتی ہے کہ وہ گزشتہ چالیس سال سے جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ لبنان میں حسن نصراللہ اِس پالیسی کا سب سے طاقت وَر حصّہ تھے اور اُنہی کے ذریعے ایران دوسرے ممالک میں اپنی حمایتی ملیشیاز کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا رہا۔

لبنان میں حزب اللہ نے سِول حکومت کو بے بس کردیا۔ سعد حریری اور اُن کے بیٹے بس نام کے وزیرِ اعظم رہ گئے۔ اِسی طرح صدام کے بعد عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاز کا راج قائم ہوا۔ جنرل سیلمانی نے جان لیا تھا کہ فلسطین کاز اپنانے سے ایران، مسلم دنیا میں عرب مقبولیت کو پچھاڑ دے گا، اِسی لیے حماس کی مدد کی گئی۔ فلسطینی اسٹیٹ یا اتھارٹی دو حصّوں میں بٹ گئی۔ مغربی کنارے پر پی ایل او، جب کہ غزہ پر حماس کا اقتدار رہا۔ ایران کو ایک طویل جنگ شام میں لڑنی پڑی، جہاں اُس نے بشار الاسد کی اقلیتی حکومت کی، جسے محض دس فی صد عوام کی حمایت حاصل تھی، مدد کی۔

ایرانی ملیشیاز نے وہاں اپوزیشن کو ناکام بناکر اسد حکومت مضبوط کی۔ روس نے ایران کے ساتھ مل کر شام پر دوسال تک بم باری کی، جس میں اقوامِ متحدہ کے مطابق پانچ لاکھ شہری ہلاک ہوئے، جب کہ دو کروڑ شامی آبادی میں سے ایک کروڑ افراد بے گھر کردیے گئے، یہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے خوف ناک اور دردناک بحران تھا۔ عرب ممالک اور تُرکیہ نے شامی اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ اِس خانہ جنگی میں عراق، ایران کا فوجی آپریشن بیس بنا۔

ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کام یاب نظر آئی اور امریکا سمیت سب فریق پسپا ہوتے گئے۔ ایرانی ملیشیاز طاقت وَر ہوتی گئیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اہم کردار ادا کرنے لگیں، لیکن پھر امریکا نے ٹرمپ کے پہلے دَور میں جنرل سلیمانی کو ڈرون حملے میں ہلاک کر کے ایرانی پالیسی پر فیصلہ کُن ضرب لگائی، جس کے اثرات بعد میں ظاہر ہوئے۔ شام میں بھی اسد کا سورج غروب ہوگیا اور وہ فرار ہو کر روس میں پناہ گزین ہوا، اِس طرح ایران، شام سے بھی پسپا ہوگیا۔

7 اکتوبر کے حماس حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کا پورا منظر نامہ بدل ڈالا۔ اسرائیل اور اس کے سرپرستوں نے ایرانی ملیشیاز کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ حماس، حزب اللہ اور حوثی باغیوں کی لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسی صُورت میں ایران کے پاس حملوں کے سِوا کوئی چارہ نہیں رہا اور اُس نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلز سے حملہ کر دیا۔ یہ ایران کا چالیس سال میں اسرائیل سے پہلا براہِ راست ٹکراؤ تھا۔ امریکا نے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔

دوسری جنگ میں، جو رواں سال فروری میں شروع ہوئی، ایرانی قیادت ختم کردی گئی۔ خامنہ ای بہت سمجھ دار تھے اور اُنہوں نے آبنائے ہرمز کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ اس سے عرب ممالک کو، جو ان کے چاروں اطراف ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان پُل بھی بنتے رہے، نقصان پہنچے گا۔ لیکن اُن کے جانے کے بعد ایرانی پالیسی کی سمت بدل گئی اور اقتدار پر پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر عناصر کی گرفت مضبوط ہوگئی۔ پاکستان نے ایران کی اپنی استطاعت سے بڑھ کر مدد کی۔

امریکا اور اُس کے درمیان سیز فائر کروایا، مذاکرات کی داغ بیل ڈالی اور ساتھ ہی عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کو جوابی کارروائی سے روکتے ہوئے تحمّل کا مشورہ دیا۔ اِس ضمن میں تُرکیہ کا بھی اہم کردار رہا۔ اِسی لیے ایران نے مکّہ معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ اُسے یقین ہے کہ یہ معاہدہ اُس کے خلاف نہیں جائے گا اور یہ ممالک چاہیں گے کہ کسی طریقے سے ایران اور امریکا کے درمیان معاملات طے پا جائیں۔ ان کی یہ بھی کو شش ہوگی کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے، لیکن اِس معاہدے سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اب شاید مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی ملیشیاز کا دَور گزر چُکا۔

اب فوجیں اور حکومتیں براہِ راست دفاعی معاہدوں اور تعاون کے ذریعے اپنی معاشی طاقت مضبوط بنائیں گی۔ اگر امریکا یہاں سے چلا گیا، تو اسرائیل کے لیے یہ دفاعی تعاون چیلنج بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کا پیس بوڑد اِسی لیے قائم کیا گیا کہ فلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے۔ ایران کی جارحانہ پالیسی نے کئی عرب ممالک کو اسرائیل کے قریب کردیا، جنہیں مکّہ معاہدہ متبادل فراہم کرے گا۔ البتہ یو اے ای، بحرین، تُرکیہ، مصر، اردن تو اسرائیل کو تسلیم کرچُکے ہیں، جب کہ شام بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے اور لبنان بھی اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے۔

اگر فلسطینیوں کو اپنا حق مل جاتا ہے، تو پھر خطّے کا بنیادی تنازع حل ہوجائے گا۔ اِس ضمن میں یہ معاہدہ فوری تو نہیں، لیکن مستبل میں ضرور اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ٹرمپ پیس بورڈ میں پاکستان، تُرکیہ، سعودی عرب، مصر، یو اے ای، قطر، کویت سب ہی شامل ہیں۔ یہی وہ متوقّع ممالک ہیں، جو مکّہ معاہدے کا حصّہ بن سکتے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ آگے چل کر اہم معاملات طے کروا دیتا ہے، تو اُمّہ کے بڑے مسائل حل ہونے لگیں گے۔

امن آئے گا، تو ترقّی کی راہیں کُھلیں گی۔ نیٹو، جو دفاعی معاہدوں کے لیے ایک مثال مانا جاتا ہے، درحقیقت صرف جنگ یا دفاع ہی نہیں کرتا، بلکہ رُکن ممالک کے مفادات آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شنگھائی فورم چین کا اتحاد ہے، جو ترقّی کا محافظ مانا جاتا ہے۔ اگر مکّہ معاہدہ بھی مسلم دنیا میں اِسی طرح کا کردار ادا کرتا ہے، تو اس سے مسلم دنیا کی بحالی میں بہت مدد ملے گی۔