والدہ کے ساتھ یثرب کے سفر پر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عُمرِ مبارک چھے سال تھی، جب آپﷺ کی والدہ حضرت آمنہ نے اپنے مرحوم شوہر کی قبر کی زیات کا عزم کیا۔ یتیم صاحب زادے اور حضرت عبداللہ کی کنیز، اُمِّ ایمنؓ کو ساتھ لے کر یثرب کے سفر پر نکلیں، جو مکّے سے چار سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ حضورﷺ کے والد کے ننھیال اور ددھیال کا تعلق یثرب کے قبیلے بنی عدی بن النجار سے تھا۔ حضرت آمنہ نے وہاں ایک ماہ قیام کیا۔
آنحضرتﷺ کو سفرِ یثرب کی بہت سی باتیں ذہن نشیں تھیں۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد ایک دفعہ جب آپ ﷺ بنی عدی بن النجار کی منازل سے گزرے، تو فرمایا کہ ’’یہ وہ مکان ہے، جہاں مَیں اپنی والدہ کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ اور اس گھر میں میرے والد عبداللہ مدفون ہیں۔ یہ وہ حوض ہے، جس میں مَیں نے بنی عدی کے لڑکوں کے ساتھ تیراکی سیکھی اور یہ وہ جگہ ہے، جہاں مَیں انصار کی ایک لڑکی انیسہ کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔‘‘ (سیرت النبی ؐ 1/120)۔
یثرب میں ایک ماہ قیام کے بعد حضرت آمنہ نے واپسی کا قصد کیا۔ ابھی شہر یثرب سے80کلو میٹر کے فاصلے پر ’’ابواء‘‘ کے مقام پر پہنچی تھیں کہ موت کا فرشتہ آموجو دہوا اور اُمّ رسول اللہﷺ اپنے ربّ کے حضور پیش ہوگئیں۔ پردیس اور مسافرت میں ماں کا شفقت بھرا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا، یتیم تو پہلے سے تھے اب ’’دُرِّ یتیم‘‘ ہوگئے۔ مکّہ مکرّمہ کے سنگلاخ آگ برساتے سیاہ پہاڑوں کے درمیان پُر پیچ راستے میں لبِ سڑک، شاہِ کون و مکاں، تاج دارِ مدینہ نبی آخرالزماں، حضرت محمدﷺ اپنے کم زور اور معصوم وجود کے ساتھ والدہ کے بےجان جسم سے لپٹے ہیں، آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔
کنیز اُم ایمنؓ بدحواسی کے عالم میں کبھی بی بی آمنہ اور اُن سے لپٹے محمدﷺ کو دیکھتیں، تو کبھی چاروں جانب نظریں دوڑاتیں کہ کہیں کوئی ذی رُوح نظر آجائے۔ ایک قیامت خیز منظر ہے۔ اُمِّ ایمنؓ کی اپنی عُمر بھی صرف17برس ہے۔ اس باہمّت کنیز نے کس طرح قریبی بستی سے لوگوں کو بلاکر تدفین کے مراحل طے کیے ہوں گے۔ یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، لیکن اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت اور پیغام ہوتا ہے۔ یہ صبر و ضبط اور ہمّت و استقلال کا عظیم درس ہے، دنیا بھر کے اُن بچّوں کے لیے، جن کے والدین کا سایہ اُن کے سَروں سے اُٹھ چکا ہو۔
والدہ کو سپردِ خاک کردیا گیا۔ قبر کے سرہانے بیٹھے محمدﷺ نے ننّھے ننّھے ہاتھوں سے ماں کی قبر پر مٹّی ڈالی اور آنکھوں سے مسلسل بہتے اشک، نہایت خاموشی سے لحد کی مٹّی میں جذب ہوتے رہے۔ جب کافی وقت گزر گیا، تو اُمِ ایمن ؓ نےدرِّیتیم، حضرت محمدﷺکی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کو پونچھا اور ملتجی نظروں سے چلنے کو کہا۔ یہ والدہ سے جدائی کے قیامت خیز لمحات تھے۔ آپﷺ نے اشکوں سے لب ریز آنکھوں سے اُم ایمنؓ کی جانب دیکھا اور یوں لگا کہ جیسے آنکھیں شکوہ کررہی ہوں کہ ’’اے اُمِّ ایمن! اپنی ماں کے بغیر میں آگے کیسے چلا جاؤں.....؟‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ماں کی تڑپ میں پیارے محمدﷺ کافی دُور تک پیچھے مُڑمُڑ کر دیکھتے رہے اور اشکوں کا سیلاب جاری رہا۔ ابنِ سعد نے لکھا کہ عمرہ حدیبیہ کے لیےحضور اکرم ﷺ جب مقام ِابو اء پہنچے۔ تو اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے۔ قبر کی خاک اور سنگ ریزوں کو ہم وار کر کے اپنے ہاتھوں سے درست فرمایا اور پھر بے اختیار آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
صحابہؓ ساتھ تھے، وہ بھی آب دیدہ ہوگئے۔ سیّدنا عمر فاروقؓ نے ذرا ہمّت کی اور پوچھا۔ ’’یارسول اللہ ﷺ !میرے ماں، باپ آپ پر فدا ہوں، رونے کی وجہ کیا ہے؟‘‘ فرمایا۔ ’’یہ میری والدہ کی قبر ہے۔ مَیں نے اللہ تعالیٰ سے زیارت کی درخواست کی، تو مجھے اجازت مل گئی۔ مجھے اپنی ماں کے ساتھ آخری سفر یاد آگیا، تو مجھ پر اُن کی شفقت و محبت چھاگئی۔‘‘ (طبقاتِ ابن سعد 1/122) سیرت کی کتب میں ایک اور واقعہ بھی تحریر ہے۔’’ حجۃ الوداع سے واپسی پر حضورﷺ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے۔ صحابہؓ ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے قبر کو درست کیا۔
اس موقعے پر آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’کاش! میری ماں زندہ ہوتیں، مَیں مصلّے پر کھڑا نماز پڑھ رہا ہوتا کہ اچانک میری والدہ مجھے آواز دیتیں۔’’محمد‘‘ تو مَیں اُن کی آواز سنتے ہی نماز توڑ دیتا اور جلدی سے کہتا۔ ’’لبیک یا امّاں جان!‘‘ (سیرت رحمۃ لّلعالمین، صفحہ 88) ۔حضرت اُم ایمنؓ نے کم سِن یتیم، محمدﷺ کو سنبھالا اور صحرا عبور کر کے مکہ مکرمہ پہنچ کر غم زدہ محمدﷺ کو دادا عبدالمطلب کے سپرد کر دیا، جنہوں نے انتہائی شفقت سے اپنے اس یتیم پوتے کو گود میں لے لیا۔
بچپن سے جوانی تک
جنابِ عبدالمطّلب نے جب اُمِّ ایمنؓ سے سفر کا احوال سُنا تو تڑپ اُٹھے۔ یتیم پوتے کو والہانہ انداز میں گلے لگاتے ہوئے گویا ہوئے۔ ’’اے ابنِ عبداللہ! تیری کشادہ پیشانی اس بات کی گواہ ہے کہ تُو اللہ کی نظر میں بڑی شان والا ہے، فکر نہ کر تیرا دادا ابھی زندہ ہے۔‘‘ ابھی حضورﷺ کی عُمرِ مبارک آٹھ سال دو ماہ تھی کہ دادا کے سایۂ شفقت سے بھی محروم ہوگئے۔ جناب عبدالمطّلب کی وصیت کے مطابق اب عبداللہ کے بیٹے کی کفالت و حفاظت کی ذمّے داری چچا، حضرت ابو طالب کے سپرد تھی۔
حضرت ابو طالب نے اپنی اولاد سے زیادہ اپنے بھتیجے کی تربیت، کفالت اور حفاظت کی۔ کسی میں ہمّت نہ تھی کہ ابو طالب کے بھتیجے کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ لے۔جب آپ ﷺ کی عُمرِ مبارک 12سال تھی، تو آپ کے چچا، حضرت ابوطالب آپ کو اپنے ساتھ تجارت کی غرض سے ملکِ شام لے کر گئے۔
جب یہ قافلہ بصرہ شہر پہنچا، تو انہوں نے ایک عیسائی راہب (جرجیس) کے گرجے کے قریب پڑاؤ ڈالا، جو ’’بحیرا‘‘ کے لقب سے مشہور تھا۔ راہب بحیرا نے آپ ﷺ کے چہرے اور جسمِ مبارک پر آخری نبی ﷺ کی نشانیاں اور آپ ﷺ کی پیٹھ پر مُہرِنبوت دیکھی، توابوطالب سے کہا۔ ’’یہ اس اُمّت کے آخری نبی ہیں۔ اگر یہودی اور شامی عیسائیوں کو اُن کی حقیقت کا علم ہوگیا، تو وہ انہیں نقصان پہنچائیں گے، اس لیے آپ انہیں واپس مکّہ لے جائیں۔‘‘
رسول اللہﷺ جب نوجوانی کی عُمرکو پہنچے، تو چچا ابو طالب نے آپﷺ کا نکاح مکّے کی ایک انتہائی باوقار اور مال دار خاتون حضرت خدیجہؓ سے کردیا، جو طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ شادی کے وقت حضرت خدیجہؓ کی عُمر چالیس سال اور آپؐ کی عُمر پچیس سال تھی۔ حضرت ابراہیمؓ کے علاوہ حضورﷺ کی تمام اولاد حضرت خدیجہؓ کے بطن ہی سے ہوئی۔ (حضرت ابراہیمؓ کی والدہ کا نام ماریہ قبطیہؓ تھا) پہلےحضرت قاسمؓ پیدا ہوئے۔ ان ہی کے نام پر آپ ﷺ کی کنیت ابو القاسم پڑی۔ پھرحضرت زینبؓ،حضرت رقیہؓ، حضرت امِّ کلثومؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت عبداللہؓ پیدا ہوئے۔ حضرت عبداللہؓ کا لقب طیّب اور طاہر تھا۔
آپﷺ کے تینوں صاحب زادے بچپن ہی میں انتقال کرگئے تھے، جب کہ چاروں صاحب زادیوں نے اسلام پایا، مسلمان ہوئیں اور مدینہ ہجرت کی۔ حضرت فاطمہؓ کے علاوہ سب کا انتقال آپ ؐ کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ حضرت فاطمہؓ کا انتقال آپ ؐ کی رحلت کےچھے ماہ بعد ہوا۔ (رحیق المختوم، صفحہ 91)۔آپ ﷺ،اپنی صداقت، سچائی اور امانت داری کی وجہ سے پورے مکّے میں ’’صادق‘‘ (سچ بولنے والے) اور’’امین‘‘ (امانت میں خیانت نہ کرنے والے) کے لقب سے مشہور تھے۔
مکّہ مکرّمہ کے لوگ آپﷺ کی ان عظیم صفات پر اتنا اعتماد کرتے تھے کہ اپنی قیمتی اشیاء آپ ؐ کے پاس بطور امانت رکھواتے،یہ القاب نبوت سے قبل بھی آپ کی سیرت کا نمایاں ترین حصّہ تھے، یہاں تک کہ آپ ؐ کے بدترین دشمن بھی آپؐ کی امانت اور سچائی کا اعتراف کرتے تھے۔ قریش کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعمیرِ نو کے وقت حجرِاسود کی تنصیب کے موقعے پر قبیلوں کےدرمیان خوف ناک تنازع آپؐ کے بصیرت آموز فیصلے کی بنیاد پر حل ہوا اور قریش کے قبائل ایک خطرناک طویل جنگ سے محفوظ رہے۔
غارِ حرا میں خلوت نشینی اور منصبِ رسالت ؐ سے سرفرازی
آنحضرتﷺ کی عُمر مبارک37سال ہوچکی تھی۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ آپﷺ کی مجموعی حالت میں ایک غیر معمولی تغیّر پیدا ہوتا جارہا تھا۔ طبیعت کی بے چینی کسی تنہا اور پُر سکون جگہ کی متلاشی تھی، یہ تلاش آپﷺ کو مکّے سے تین میل دُور شمال میں نور کے ایک غار ’’غارِ حرا‘‘ تک لے گئی۔ چار گز لمبے اور پونے دو گزچوڑائی کے اس مختصر سے غار میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے زندگی کو اسی جگہ کی تلاش تھی۔
اب حضور ﷺ کا یہ معمول بن گیا کہ ستّو اور پانی لے کر اس جگہ آجاتے، وفا شعار اہلیہ حضرت خدیجہ ؓ بھی خدمت کے خیال سے پورا وقت قرب و جوار ہی میں رہتیں۔ تین سال کا یہ عرصہ خلوت نشینی کے دوران توجہّ الیٰ اللہ، غور و خوض اور فکر و جستجو میں گزر گیا۔ اسی اثناء خوابوں کا سلسلہ شروع ہوا، یعنی جو کچھ آپ ﷺ خواب میں دیکھتے وہی پیش آجاتا۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3)حضرت عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث 138)
ایک صبح آپ ﷺ حسبِ معمول غارِ حرا میں عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل امین ؑ پہلی بار وحی لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا۔ ’’پڑھو‘‘ (اقرا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے بازوؤں میں لے کر زور سے بھینچا، پھر کہا، پڑھو۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا۔ ’’مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ تیسری دفعہ پھر زور سے دبایا ور کہا۔ ’’پڑھو‘‘ پھر آپﷺ کو سورۃ العلق پڑھائی۔ اس کے فوراً بعد حضورﷺ گھر تشریف لائے، آپ ﷺ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا۔’’ مجھے چادر اوڑھادو۔‘‘ کچھ دیر بعد جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو اہلیہ محترمہ کو پورا واقعہ سنایا۔ حضرت خدیجہؓنے تسلّی دی اور اپنے چچا زاد بھائی، ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ورقہ عیسائی ہوگئے تھے۔ اور انجیل کے بڑے عالم تھے۔
اس وقت بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا۔’’ یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ ؑ پر نازل کیا تھا۔ پھر حسرت بھرے لہجے میں بولے۔ ’’کاش! مَیں اِس وقت توانا ہوتا، کاش! میں اُس وقت تک زندہ ہوتا، جب آپ ؐ کی قوم آپ ؐ کو نکال دے گی۔‘‘ رسول اللہﷺ نے تعجّب سے فرمایا۔’’اچھا، تو کیا میری قوم کے لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا کہ ’’ہاں، اگر میں اس وقت تک زندہ رہا توآپ ؐ کی ضرور مدد کروں گا، لیکن اس کے بعد ورقہ جلد ہی انتقال کرگئے۔(صحیح بخاری حدیث 03)
مکّی زندگی کے چند واقعات
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکّی زندگی دس سالوں پر محیط ہے۔ جسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1۔ خفیہ تبلیغ (اس کی مدت تین سال ہے) (2)اعلانیہ دعوتِ توحید (3)مکّہ مکرّمہ سے باہر دین کی دعوت۔ رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے اہلِ خانہ اور قریبی دوستوں کو توحید کی دعوت دی ۔ حضرت خدیجہؓ پہلی وحی کے نزول کے بعد ہی مسلمان ہوگئی تھیں اور آپﷺ کے ساتھ فجر اور عصر کی نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ حضرت علیؓ بن ابی طالب اور حضرت زید بن حارثہؓ آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے، وہ پہلے دن ہی مسلمان ہوگئے۔ آپ ﷺ کے جگری دوست سیّدنا ابوبکرؓ صدیق بھی ملنے کے لیے آئے تھے، وہ بھی پہلے دن ہی مسلمان ہوگئے۔
سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کا ایک وسیع حلقۂ احباب تھا، چناں چہ وہ بھی تبلیغِ دین کے اس کارِخیر میں شامل ہوگئے۔ دعوتِ دین کی اس تحریک کو تین سال تک نہایت خفیہ رکھا گیا ۔رسول اللہﷺ نماز کے وقت اپنے صحابہؓ کے ساتھ پہاڑ کی گھاٹیوں میں چلے جاتے اور نماز ادا کرلیتے۔ اس دوران چالیس سے زیادہ اہلِ ایمان کی ایک جماعت تیار ہوگئی۔ اب اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی۔’’اے نبیﷺ ! آپ اپنے نزدیک ترین قرابت داروں کو (عذابِ الٰہی) سے ڈرایئے۔‘‘ (سورۃ الشعراء، 214)
اس حکمِ الٰہی کے بعد حضورﷺ نے خاندان کے تمام افراد کو کھانے پر مدعو کرلیا۔ آپﷺ کے چچا سمیت کُل45افراد شریک ہوئے۔ ابھی رسول اللہ ﷺ نے گفتگو شروع ہی کی تھی کہ چچا ابولہب نے سخت ترین ناراضی کا اظہار کیا۔ پوری محفل میں سنّاٹا چھا گیا۔ ایسے میں پچھلی صفوںسے ایک کم زور و ناتواں سالڑکا اٹھا اور عزم بھرے لہجے میں بولا۔’’اے محمدﷺ! مَیں آپ کے ساتھ ہوں۔ ‘‘ یہ آپﷺ کے چچا زاد بھائی، حضرت علیؓ بن ابی طالب تھے۔ مجمعے پر سکوت طاری تھا کہ اچانک بنو ہاشم کے سردار، خانہ کعبہ کے متولّی آپﷺ کے چچا اور سرپرست، جناب ابو طالب بن عبدالمطلب کی گونج دار آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ ’’اے محمدﷺ! تمہیں جس کام کا حکم ملا ہے، اُسے کرتے رہو! خدا کی قسم، جب تک میری جان میں جان ہے، تمہاری حفاظت کرتا رہوں گا۔‘‘
چچا ابو طالب کی اس حمایت نے حضورﷺ کے حوصلوں کو مزید بلند کردیا۔ یہ دعوت قریش کے مشرک خداؤں کے خلاف اعلانِ جنگ تھی۔ چناں چہ سردارانِ مکّہ نے بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کیا اور پھر تضحیک و تحقیر، استہزا و تکذیب، غنڈہ گردی اور مار پیٹ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیا۔ دنیا کا کوئی ظلم و تشدّد ایسا نہ تھا، جو حضور ﷺ اور آپ ؐ کے جاں نثار رفقاء پر نہ توڑا گیا ہو۔ یہ وہ ناگفتہ بہ حالات تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کا حکم دیا۔
چناں چہ دامادِ رسول ﷺ، حضرت عثمانؓ کی قیادت میں12مرد اور4خواتین پر مشتمل پہلے قافلے نے حبشہ ہجرت کی ۔ دوسرے قافلے میں82مرد اور18 خواتین شامل تھیں۔ اُس وقت تک آپﷺ ’’دارِارقم‘‘ میں مقیم تھے۔ اس سال یعنی 6 نبوی ؐ میں دو اہم واقعات ہوئے۔ پہلے حضورﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطّلب نے اسلام قبول کیا اور ٹھیک تین دن بعد حضرت عُمر بن خطاب بھی مسلمان ہوگئے۔ چناں چہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ اپنے نبیﷺ کی اقتدا میں خانۂ کعبہ کے اندر باجماعت نما زادا کی۔
قریش کے دو بہادر جنگ جُو سپہ سالار حضرت حمزہؓ اورحضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام نے کفارِ مکّہ کو دہلاکر رکھ دیا۔ پھر خانۂ کعبہ کے اندر باجماعت نماز کے عمل نے سرداران قریش کی آتشِ انتقام کو مزید بھڑکا دیا۔ سب سرجوڑ کر بیٹھے اور بنو ہاشم کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔ بنو ہاشم کے سردار، جناب ابو طالب تمام خاندانِ ہاشم کے ساتھ ’’شعب ابی طالب ‘‘ میں پناہ گزین ہوگئے۔ یہ اتنا کٹھن وقت تھا کہ محصورین نے پتّے کھا کر اور چمڑا چباکر اپنا وقت گزارا۔ یہ عرصہ تین سالوں پر محیط تھا۔
شعب ابی طالب کی محصوری نے رسول اللہﷺ کی دو عزیز ترین ہستیوں کی صحت پر بہت بُرے اثرات مرتّب کیے۔ اسیری سے رہائی کے ٹھیک چھے ماہ بعد رجب10نبوی میں حضور ﷺ کے چہیتے چچا اور سرپرست، حضرت ابوطالب 80سال کی عُمر میں انتقال فرماگئے۔ اور پھر چند ماہ بعد ماہ رمضان المبارک میں آپﷺ کی غم گسار اور رفیقۂ حیات حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ بھی خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ اس لیے اس سال کو ’’عام الحزن‘‘ یعنی غم کا سال کہا گیا۔ (جاری ہے)