چین کے بارے میں ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ اس کی سرزمین میں ایک ایسی کشش پنہاں ہے جو محض سیاحت کی کشش نہیں، بلکہ تہذیب، نظم، تاریخ اور اجتماعی شعور کی کشش ہے۔ اس بار چین پہنچا تو یہ میرا چودھواں سفر ہے ۔ مختلف شخصیات سے گفتگو ہو رہی ہے ، دانش ور اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد۔ ان سب کی گفتگو میں ایک مشترک نکتہ نمایاںہے ۔ وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں غیر معمولی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ان کی زبان مختلف ، لیکن مدعا ایک ۔انکا کہنا ہے کہ اگر کوئی طاقت پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانےکیلئے نشانہ بنا رہی ہے تو اس کا سدباب پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خیال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اگر پاکستان تنہا اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کر سکتا تواسے چین کے ساتھ ملکر مشترکہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ کیا کسی آزاد اور خودمختار ریاست کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سیکورٹی کی ذمہ داری کسی دوسرے ملک کے ساتھ بانٹ لے؟ میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہیے۔تاہم سلامتی کا معاملہ اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پاک چین تعلقات کے مستقبل سے وابستہ ایک بنیادی سوال بن چکا ہے۔واضح رہے کہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کی آخری ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ تعلقات اب روایتی سفارت کاری کے دائرے سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔مئی 2026ءکی ملاقات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا کہ دونوں ممالک مستقبل کے سیاسی اور اقتصادی منظرنامے کو مشترکہ تعاون کے ذریعے تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مرکزیت حاصل تھی۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد پاکستان کے توانائی کے بحران کو کم کرنا اور اقتصادی سرگرمیوں کیلئے ضروری سہولتیں فراہم کرنا تھا۔ لیکن اب ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور علاقائی رابطوں کو نئی اہمیت دی جا رہی ہے۔شاہراہِ قراقرم اس پورے تصور کی علامت ہے۔ یہ صرف پتھروں کو کاٹ کر تعمیر کی جانے والی ایک شاہراہ نہیں بلکہ دو تہذیبوں کے درمیان رابطے کی ایک زندہ علامت ہے۔ حالیہ عرصے میں اس شاہراہ کے ایک اہم حصے کی تعمیر کے لیے چینی مالی معاونت کے حوالے سے بعض تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان اب بعض حصوں کی تعمیر اپنے وسائل سے مکمل کرنے پر غور کر رہا ہے۔اسی طرح گوادر بندرگاہ کا معاملہ بھی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ گوادرپورٹ مستقبل میں خطے کی سب سے اہم بندرگاہوں میں شمار ہوگی، لیکن آج بھی یہ بندرگاہ اپنی مکمل اقتصادی صلاحیت حاصل نہیں کر سکی۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گوادر کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والے بنیادی منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔ ایم-8 کی تکمیل ناگزیر ہے۔ ریلوے رابطے کی عدم موجودگی ایک اور بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوادر کی اقتصادی سرگرمیاں اب بھی بڑی حد تک کراچی پر انحصار کرتی ہیں۔دوسری طرف سینڈک کاپر منصوبہ معدنیات کے شعبے میں پاک چین تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس منصوبے کے مختلف پہلو 2026 میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں بھی زیرِ بحث آئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معدنی وسائل مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے باب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ قرضوں کی ری شیڈولنگ کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی چینی کمپنیوں سے متعلق معاملات اس سلسلے میں ایک بنیادی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کو اپنی اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے اور چین اپنے مالی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایسے قابلِ عمل راستے کی تلاش کریں جو باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کر سکے۔دفاعی تعاون بھی اس تعلق کا ایک ناقابلِ انکار ستون ہے۔ جے-35طیاروں کے حصول سے متعلق مذاکرات اس بات کا اظہار ہیں کہ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو صرف اقتصادی میدان تک محدود رکھنے کیلئے تیار نہیں۔