بین الاقوامی سیاست میں تعلقات اکثر مفادات کے تابع ہوتے ہیں، بدلتے حالات کیساتھ بدل جاتے ہیں مگر پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ اس اصول سے ماورا ہے۔ یہ سفارتکاری نہیں، محبت ہے۔ یہ معاہدہ نہیں، وعدہ ہے۔ اور جو دل ایک صدی پہلےترکیہ کی جنگِ استقلال کیلئے دھڑکے تھے، وہ آج بھی انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان اُسی گرم جوشی سے دھڑک رہے ہیں۔پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر انقرہ کے پاکستان ہاؤس میں منعقدہ تقریب اسی لازوال رشتے کی ایک اور روشن تصویر بن کر سامنے آئی۔ یہ رسمی تقریب نہیں تھی،یہ دو قوموں کے دلوں کے ملاپ کا منظر تھا۔ ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت، اور ان کے ساتھ ترک سیاسی، دفاعی اور عسکری قیادت کی بھاری تعداد میں موجودگی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان انقرہ کو کتنا عزیز ہے۔صدر رجب طیب ایردوان اور ترک قوم کی جانب سے پاکستانی عوام کو دی گئی مبارک باد میں نائب صدر جودت یلمازکے الفاظ کسی سفارتی بیان سے کہیں بڑھ کر تھے۔ انہوں نے پاک ترک تعلقات کو برادرانہ قرار دے کر دراصل اس سچائی کو زبان دی جو دونوں قوموں کے دلوں میں صدیوں سے موجود ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے جب ترک بھائیوں کیلئے تحریکِ خلافت میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا، اُسی وقت اِس رشتے کی بنیاد پتھروں نہیں، دلوں پر رکھی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آج، سو سال بعد بھی، جب ترکیہ کسی مشکل میں ہوتا ہے تو پاکستانی دعاؤں میں بےچین ہو جاتے ہیں، اور جب پاکستان پر آفت آتی ہے تو ترک عوام کے آنسو بہتے ہیں۔ 2023ء کے المناک زلزلے میں جب ترکیہ کی زمین لرزی تھی، تو پاکستان کے کونے کونے سے امداد کے قافلے، دعائیں اور آنسو اسی محبت کی زندہ گواہی بنے تھے۔یہی وہ محبت ہے جو نہ کسی معاہدے میں لکھی جاتی ہے، نہ کسی دستاویز میں سموئی جا سکتی ہے ، یہ صرف محسوس کی جاتی ہے، اور نسل در نسل سینوں میں امانت کے طور پر منتقل ہوتی رہتی ہے۔
انقرہ کی اس تقریب میں محبت کے یہ جذبات محض الفاظ تک محدود نہ رہے۔ جودت یلماز نے دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، اور ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سہ فریقی تعاون کا حوالہ دے کر اس رشتے کے وسیع تر خوابوں کی جھلک دکھائی۔ یہ دوستی اب پورے خطے کے امن اور استحکام کی امین بننا چاہتی ہے۔آج جب دنیا کشیدگیوں، نئی صف بندیوں اور غیر یقینی کے بھنور میں گھری ہوئی ہے، ایسے میں پاکستان اور ترکیہ کا یہ اعتماد بے مثال اور نایاب ہے ۔ یہ وہ بھروسہ اور اعتقاد ہے جو خریدا نہیں جا سکتا، صرف کمایا جاتا ہے ، نسلوں کی قربانیوں سے، تاریخ کی وفاداری سے، اور دلوں کی سچائی سے۔
اس محبت بھری داستان میں ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کا کردار بھی بڑانمایاں رہا۔ ایک سفیر صرف سرکاری خط و کتابت کا نگہبان نہیں ہوتا، وہ دو دلوں کے درمیان پُل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جنید نے اپنے استقبالیہ خطاب میں قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت اور تحریکِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور قومی اتحاد و استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے الفاظ میں وہی گرمجوشی تھی جو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی روح ہے،تاریخ، اعتماد اور عوامی محبت کا سنگم۔
تقریب کا سب سے دل کو چھو لینے والا منظر پاکستانی طلبہ و طالبات کی جانب سے پیش کیے گئے ملی نغمے تھے۔پاکستان کے بارے میں دکھائی گئی دستاویزی فلم نے ملک کے حسن، تہذیب اور ممکنات کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جبکہ قائداعظم کی 150ویں سالگرہ کے حوالے سے تصویری نمائش کا افتتاح خود ترک نائب صدر کے ہاتھوں ہونا اس بات کی گواہی تھی کہ پاکستان کے بانی، ترکیہ کے لوگوں کےدل میں بھی اتنی ہی عزت رکھتے ہیں جتنی پاکستانیوں کے دل میں۔مگر اس پوری شام کا سب سے بڑا پیغام کسی تقریر یا نمائش میں نہیں تھا ،وہ خود اس پاکستان ہاؤس کی فضا میں تھا۔ جب ایک ملک کے قومی دن پر دوسرے ملک کی اعلیٰ ترین قیادت اتنی محبت اور تپاک سے جمع ہو جائے، تو یہ صرف سفارتکاری نہیں رہتی، یہ اعلانِ محبت بن جاتی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ رشتے اگر تاریخ، قربانی اور خلوص کی بنیاد پر استوار ہوں، تو وقت کی آندھیاں انہیں بکھیر نہیں سکتیں۔ سیاسی مفادات بدل سکتے ہیں، حکومتیں آتی،جاتی رہتی ہیں ، مگر جو محبت برصغیر کے مسلمانوں نے ترک بھائیوں کے لیے دکھائی، اورجس خلوص کا ترک قوم نے ہمیشہ پاکستان کے لیے اظہار کیا، وہ ہر دور میں زندہ رہے گی۔ یہ محبت کسی سرکاری اعلامیے کی محتاج نہیں، یہ تو ماں کی لوری کی طرح نسل در نسل دلوں میں اترتی ہے، اور بچپن سے بڑھاپے تک ہر پاکستانی اور ہر ترک کے سینے میں ایک ہی دھڑکن بن کر باقی رہتی ہے۔انقرہ کے پاکستان ہاؤس میں یومِ آزادی کی یہ تقریب دراصل پوری دنیا کے لیے ایک پیغام تھی: پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کی پیداوار نہیں، تاریخ کی امانت ہے۔ یہ کسی سیاسی ضرورت کی پیداوار نہیں ، بلکہ نسلوں کے جذبات کا تسلسل ہے۔ یہ دو ریاستوں کا معاہدہ نہیں، دو قوموں کے دلوں کا اتحاد ہے۔جب تک دنیا میں محبت، اعتماد اور قربانی کی قدر باقی رہے گی، پاکستان اور ترکیہ کی یہ دوستی بھی زندہ رہے گی۔ یہ وہ چراغ ہے جو دو برادر قوموں کے دلوں میں روشن ہوا ہے، اور جب تک یہ دل دھڑکتے رہیں گے، یہ چراغ بھی جلتا رہے گا۔ یہی وہ امید ہے جو آنے والی نسلوں کو وراثت میں ملے گی: کہ کہیں دور، انقرہ کی گلیوں میں، اور اسلام آباد کے آسمان تلے، دو قومیں ایک ہی محبت کی زبان بولتی رہیں گی ،ہمیشہ، ہر دور میں، ہر حال میں۔