کیا آپ نے کبھی کسی اجنبی کا جنازہ جاتے دیکھا ہے ۔ بے اختیار سب سے پہلے ذہن میں کیا لفظ آتا ہے ۔ 99فیصد لوگوں کے ذہن میں پہلا لفظ یہ آتا ہے " بے چارہ " ۔ دل میں اس بات پہ خوشی کی ایک لہر بھی اٹھتی ہے کہ میں تو زندہ ہوں ، صحیح سلامت ہوں ، میں بے چارہ نہیں ہوں ۔
جو لوگ حکمت اور دانائی رکھتے ہیں ، وہ بے اختیار اپنی موت کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ میں نے بھی ایک دن مر جانا ہے ۔ مجھےاس دنیا میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔اگر وہ آخرت کی زندگی پہ ایمان رکھتا ہے تو ایسے اعمال سے بچنے کی کوشش کرے گا ، جن پہ اس کی پکڑ ہو سکتی ہے ۔انسانی عقل اگر شارٹ ٹرم میں سوچ رہی ہو تو وہ مرنے والے پہ ترس کھاکر پھر اپنی مستی میں گم ہو جاتی ہے ۔ اگر لانگ ٹرم میں سوچ رہی ہو تواسےمردے میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ انسانی قلب و دماغ پہ خواہشات کے دھارے اس طرح برس رہے ہوتے ہیں کہ اسے کبھی حقیقی طور پر یہ یقین آتا ہی نہیں کہ ایک دن اسے بھی مرنا ہے ۔
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
ایک پانچ سال کی بچی داتا دربار گئی ۔ جب وہ واپس آئی تو اس نے کہا : ہم ایک نیک آدمی کی قبر پر گئے تھے۔ وہ بے چارہ مر گیا تھا ۔ میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ ہم سب کو مرنا ہے ۔ وہ نیک آدمی تھے،جنہوں نے اپنی زندگی خدا ئی احکامات کے مطابق بسر کی ۔ بیچارے وہ نہیں ، ہم ہیں ، جنکی زندگیاں دنیا داری میں بسر ہو رہی ہیں لیکن وہ کسی طرح بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھی کہ جو مرگیا، وہ بے چارہ کیسے نہیں اور ہم جو زندہ ہیں ، ہم بے چارے کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہے انسانی عقل کا حال ۔
پانچ سال کا بچہ کھلونے پہ لڑتا ہے ۔ بڑی عمر کے لوگ اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کھلونا ایک بے کار چیز ہوتی ہے۔ بچہ یہ بات نہیں سمجھ سکتا ۔ بڑی عمر کے لوگ ڈونلڈٹرمپ ، نیتن یاہو اور پیوٹن کی طرح مال و دولت، زمین اور معدنی ذخائر پہ لڑتے ہیں ۔ پیغمبرانِ عظامؑ یہی بتانے آئے کہ یہ مال و دولت بے کار ہے ۔ تمہارے نصیب میں جو کچھ لکھا ہوا ہے ، وہ ضرور تمہارے بدن کو نصیب ہوگا اور اگر نصیب میں نہیں لکھا تو تم ساری مال و دولت کے باوجود بھی ڈپریسڈ اور بیمار رہو گے ۔ خوراک سامنے پڑی ہوگی، تمہاری طمع مر جائے گی ۔ جسم قبول ہی نہیں کرے گا۔
جس انسان کو حکمت ودانائی نصیب ہوتی ہے ، ایمان نصیب ہوتا ہے ، وہ اچھی اور بری تقدیر کو قبول کر لیتاہے۔ جو زخم آپ کے نصیب میں لکھا ہے ، وہ آپ کو لگ کر رہے گا۔تقدیر میں اگر نہ لکھا ہوگا تو ساری زندگی جنگیں لڑنے والے سپہ سالار کا انتقال بستر پر ہوگا۔ جب تک آپ، موت ، تقدیر اور نصیب کو نہیں سمجھیں گے ، آپ کو کبھی سمجھ نہیں آ سکے گی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے مقتل میں اتنے پرسکون کیوں تھے ۔
ٹرمپ کیا ہے ؟ ٹرمپ ایک بچہ ہے ۔ شارٹ ٹرم عقل کا زندہ نمونہ ۔ ٹرمپ اس قدر شارٹ ٹرم میں سوچتاہے کہ وہ کھلے عام سفید جھوٹ بولتا چلا جاتاہے ۔ شارٹ ٹرم عقل نے اسے بتایا ہے کہ تُو اپنے فائدے اور اپنی بڑائی کیلئے جو کچھ مرضی بول، تُو امریکی صدر ہے ، تجھے کون ٹوک سکتاہے ۔ رہی یہ بات کہ جھوٹ ثابت ہونے پر اسکی بے عزتی ہوگی توشارٹ ٹرم عقل کے نزدیک عزت ایک بے معنی چیز ہے ۔ 80سالہ ٹرمپ کی ٹانگیں قبر میں ہیں ۔ وہ میٹنگز میں سو جاتا ہے ۔ بار بار اس کی جسمانی و ذہنی صحت کے بارے میں سوال ہوتاہے لیکن بے لگام آرزوئوں اور وحشتوں کے جلو میں مرتے دم تک وہ اپنی روش پہ قائم رہے گا۔
صرف امریکہ یا اسرائیل کی بات نہیں ، پوری دنیا کا حال یہی ہے ۔ اس وقت جو کھیل پاکستان میں جا ری ہے ، ویسا ہی کھیل ابھی بنگلہ دیش میں کھیلاگیا ہے ، جس کے اختتام پر خونخوار حسینہ واجد فرار ہو کر بھارت پہنچی۔17سال حسینہ واجد نے کون کون سا خونیں کھیل نہیں کھیلا ۔ ہم سبق حاصل کرنیوالے ہوتے تو حسینہ واجد کے حال سے عبرت حاصل کرتے ۔ جس خالدہ ضیا کے ساتھ حسینہ واجد نے عشروں اقتدا رکی جنگ لڑی ، وہ بے بسی کے عالم میں ہسپتال کے بستر پہ مری ۔ شیخ مجیب الرحمٰن قتل ہوا ۔ بھٹو کو پھانسی لگایا گیا ۔ ضیاء الحق کا طیارہ پھٹ گیا ۔ مکے لہرانے والا پرویز مشرف اس حال کو پہنچا کہ بیوی کے سوا کوئی شخص پاس آنے کو تیار نہیں تھا ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ عبرت حکمرانوں سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک عبرت کا نشان ہے ۔ ہمارے پاس دولت، طاقت اور عہدہ آتا ہے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی جگہ"حاکم" ثابت ہوتا ہے ۔ کیا ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کے گھروں میں کم سن ملازمائیں تشدد کر کے ماری نہیں گئیں ؟
قرآن کہتاہے کہ جو لوگ گزر گئے، ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو ۔ آج انسان کے پاس عاد و ثمود تو کیا، ہومواریکٹس اور نینڈرتھل مین تک کا ڈیٹا موجود ہے ۔ ان سے مگر ہم کیا عبرت حاصل کریں ، ہم تو حال ہی میں بے بسی کی موت مرنے والے حکمرانوں سے عبرت حاصل نہیں کر سکے ۔
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دِیں