• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مانچسٹر کی بارش لاہور سے مختلف ہے۔ وہاں بوندیں شور میں اترتی ہیں، یہاں خاموشی میں۔ انہی بھیگی شاموں اور خشک یادوں کے درمیان مظہر برلاس اور میں دو دن ساتھ رہے۔ وقت ہمارے سامنے چائے کی پیالی کی طرح رکھا تھا۔ ہم اس میں ماضی کی تلخی، حال کی شیرینی اور مستقبل کی بے یقینی گھولتے رہے۔ کچھ یادیں زندہ تھیں، کچھ مردہ۔ ہم نے انہیں چھوا تو قبریں بولنے لگیں اور لمحے خاموش ہو گئے۔

میں نے مظہر سے کہا، ’’پاکستان کی سیاست عجیب سرائے ہے۔ یہاں آنے والا خود کو مستقل سمجھتا ہے مگر جانے والا اچانک عارضی ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ مسکرائے۔ ان کی نرم مسکراہٹ میں تیز طنز تھا۔ بولے، ’’ہمارے حکمران کرسی پر بیٹھتے کم ہیں، کرسی کو اپنے اندر زیادہ بٹھا لیتے ہیں۔ پھر اقتدار باہر نکلتا ہے تو خلا رہ جاتا ہے۔‘‘ بات نواز شریف کے ادوارِ حکومت تک پہنچی۔ انہوں نے اقتدار کی روشنی بھی دیکھی اور زوال کی تاریکی بھی۔ قربت کے موسم بھی دیکھے اور فاصلے کی سردیاں بھی۔ آرمی چیفس کے ساتھ ان کے تعلقات زیرِ بحث آئے تو اعتماد اور بدگمانی ایک ہی میز پر آ بیٹھے۔ میں نے کہا، ’’نواز شریف نے اقتدار کے آئینے میں روشن چہرے اورتاریک عکس تقریباً برابر دیکھے ہیں۔ منتخب غیر منتخب طاقت ایک ہی تخت پر کتنی دیر بیٹھ سکتی ہے؟‘‘ مظہر بولے، ’’تخت ایک ہے مگر ہمیشہ دعوے دار دواور ہر مستقل شخص دوسرے کو عارضی سمجھتا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا، ’’اگر شہباز شریف کے بجائے نواز شریف وزیراعظم ہوتے تو آج منظرنامہ کیا ہوتا؟‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر بولے، ’’نواز شریف زیادہ سیاسی ہوتے، مگر شاید کم مطیع۔ شہباز شریف زیادہ انتظامی ہیں، مگر شاید کم مزاحم۔ شہباز دیوار دیکھیں تو دروازہ تلاش کرتے ہیں۔ نواز دروازہ دیکھیں تو کبھی دیوار سے بھی پوچھ لیتے ہیں کہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو۔‘‘ میں نے کہا، ’’ایک بھائی اقتدار بچانےکیلئے جھکنے میں حکمت دیکھتا ہے، دوسرا اقتدار کھو کر بھی کھڑے رہنے میں سیاست۔‘‘ یہی ہماری سیاست کا حسن بھی ہے اور المیہ بھی۔

پھر شہباز شریف حکومت کے جانے کی بات ہوئی۔ پاکستان میں حکومت قائم ہوتے ہی اسکے خاتمے کی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جیسے پیدائش کے ساتھ موت کی تاریخ بھی کسی خفیہ کاغذ پر لکھی جا رہی ہو۔ کبھی اتحادی قریب ہو کر دور دکھائی دیتے ہیں، کبھی مخالف دور رہ کر قریب آ جاتے ہیں۔ حکومت مضبوط نظر آتی ہے مگر اندر سے کمزور، اور کبھی کمزور دکھائی دیتی ہے مگر طاقتور سہاروں پر قائم رہتی ہے۔ مظہر نے کہا، ’’حکومتیں صرف مخالفوں کی طاقت سے نہیں گرتیں، اپنی کمزوریوں کے بوجھ سے بھی جھک جاتی ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’ان کی سب سے بڑی غلطی؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’سیاسی سوال کو انتظامی جواب دینا۔ مقبولیت کی کمی کو طاقت کی زیادتی سے بھرنا اور یہ سمجھنا کہ آج کی خاموشی کل کی رضا مندی بن جائے گی۔ وقت سوالوں کو مارتا نہیں، انہیں بالغ کرتا ہے۔‘‘ بے شک وقت بڑا عجیب مالی ہے۔ جس سوال کو ہم مٹی میں دبا دیتے ہیں، وہ درخت بن کر دروازے پر کھڑا ہو تا ہے۔

گفتگو عمران خان کی طرف مڑی تو قید اور آزادی، بیماری اور سیاست، کمزوری اور طاقت ایک ہی منظر میں جمع ہو گئے۔ میں نے کہا، ’’ایک قیدی جسمانی طور پر کمزور مگر سیاسی طور پر طاقتور ہو سکتا ہے۔ ایک آزاد حکومت ظاہری طور پر طاقتور مگر اخلاقی طور پر کمزور۔‘‘ مظہر نے پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا، ’’حکومتیں انسان سے نہیں، استعارے سے ڈرتی ہیں۔ جسم بیمار ہو سکتا ہے مگر علامت صحت مند رہتی ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کے حکم اور عمران خان کے علاج کے معاملے پر حکومتی ردعمل کا ذکر آیاتو میں نے کہا، ’’عدالتی حکم کے بعد اضطراب کم ہونا چاہیے تھا یا زیادہ؟‘‘ وہ بولے، ’’قانون مساوات چاہتا ہے، سیاست ہر مساوات میں عدم مساوات تلاش کر لیتی ہے۔ حکومت اسے قانونی اصول کہتی ہے، تحریک انصاف انسانی حق۔ ایک ہی واقعہ ایک طرف ضابطہ ہے، دوسری طرف علامت۔‘‘ میں نے کہا، ’’سیاست بھی کمال مصور ہے۔ ایک ہی رنگ سے کسی کیلئے سفید امید اور کسی کیلئے سیاہ خوف بنا دیتی ہے۔‘‘

پھر نواز شریف کے اس جملے کا ذکر آیا کہ سیاست دشمنی میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے پوچھا، ’’یہ نرم جملہ کسی سخت اندیشے کا نتیجہ ہے یا مفاہمت کی خواہش؟‘‘ مظہر نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور کہا، ’’تجربہ کار سیاست دان کبھی اونچی آواز میں نرم پیغام دیتے ہیں اور کبھی دھیمی آواز میں سخت تنبیہ۔ ممکن ہے یہ زرداری کیلئے قربت کا اشارہ ہو اور دوسروں کیلئے فاصلے کی حد۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’کیا واقعی مفاہمت ممکن ہے؟‘‘ وہ ہنسے، ’’پاکستان میں امن اکثر اگلی جنگ کا وقفہ ہوتا ہے، اور جنگ کبھی اگلی مفاہمت کا دروازہ بھی کھول دیتی ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’ہمارے اتحادی قریب رہ کر بھی محتاط ہیں، مخالف دور رہ کر بھی ایک دوسرے سے پوری طرح واقف۔‘‘ پارلیمان میں بھائی چارے کے الفاظ سنائی دیتے ہیں، راہداریوں میں دشمنی کے قدم۔ یہی قربت اور دوری ہماری سیاست کی پرانی نئی کہانی ہے۔

میں نے آخر میں پوچھا، ’’اور عمران خان کا سیاسی مستقبل؟ عروج یا زوال، واپسی یا اختتام؟‘‘ مظہر نے کہا، ’’ان کے مخالف انہیں مسئلہ سمجھتے ہیں، حامی انہیں حل۔ حقیقت شاید دونوں کے درمیان کھڑی ہے۔ کسی شخص کو مرکز سے نکالنے کی کوشش اگر اسے مزید مرکز میں لے آئے تو باہر دھکیلنے والا عمل اندر کھینچنے والی طاقت بن جاتا ہے۔‘‘ رات گہری تھی اور مانچسٹر کی روشنیاں تیز، مگر ہماری گفتگو میں اسلام آباد کے روشن ایوانوں کے پیچھے کئی اندھیرے چل رہے تھے۔ فاصلہ عجیب نعمت بھی ہے اور سزا بھی۔ قریب ہو کر آدمی عمارت دیکھتا ہے، دور جا کر پورا نقشہ۔

دو دن میں ہم شہباز شریف کی طاقت میں مجبوری، عمران خان کی قید میں آزادی پر بات کرتے رہے۔ جاتے ہوئے مظہر برلاس نے کہا، ’’پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ تاریخ پرانی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر پرانی غلطی کو نئی حیرت کے ساتھ دہراتے ہیں۔‘‘ میں نے دروازہ کھولا۔ باہر بارش رک چکی تھی، مگر سڑکیں بھیگی ہوئی تھیں۔ شور ختم ہو گیا تھا، خاموشی ابھی بول رہی تھی۔ مجھے لگا مانچسٹر کے آسمان پر بادل کم ہو گئے ہیں، مگر پاکستان کی سیاست میں ابھی روشنی کے اندر اندھیرا اور اندھیرے کے اندر روشنی بہت باقی ہے۔

تازہ ترین