جس نے حکومت میں رہ کر ایک بیان سےاس کی چولیں ہلا دی تھیں، اسی وفاقی وزیر نے نواز شریف کے شہباز شریف کو خاموش رہنے کے ’’صائب مشورے‘‘ کی روشنی میں حکمران جماعت کی رکتی ہوئی سانس کو اگرچہ بحال کردیا ہے لیکن وفاقی اکائیوں کو بہرحال تبدیل ہونا ہے اور چار صوبوں کو کئی درجن اکائیوں کے قالب میں ڈھالنا ضرور ہے۔ اس کام کو جلد یا بدیر ہونا ہی ہے کیونکہ سسٹم کی ناکامی اندھوں کو بھی نظر آرہی ہے۔ جنہوں نے نئے صوبوں کا نیک کام کر گزرنا ہے وہ تمام تر تفصیلات اور جزئیات تک تیار کیے بیٹھے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سسٹم کے ڈیلیور نہ کرنے اور اس کی ناکامی کے موقف سے جاری بحث کے تناظر میں گزشتہ دنوں کہا کہ حکومت آئینی مدت پوری کرے گی۔ ان کا وزیراعظم کو مشورہ تھا کہ وہ وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ محسن نقوی کے مطابق ’’میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے، اگر وہ چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے، حکومت کو بالکل چارج شیٹ نہیں کیا، میں تو خود حکومت کا حصہ ہوں، لوگوں کی خواہش ہے میرے وزیراعظم سے تعلقات خراب ہو جائیں، چیزیں بہتر ہو جائیں، نتائج ہزار گنا بہتر ہو جائیں، کابینہ میں میری حاضری ستر فیصد کے قریب ہے، جن لوگوں نے کہا کہ میں نے تیس سال کا سفر تین سال میں طے کیا، ان کا شکریہ‘‘ اپنے بیانیہ اور موقف کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کی جانچ تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) سے کروائیں اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں اس تیسرے فریق کی جانچ سے پتا لگے گا کہ کون سی وزارت کتنا کام کررہی ہے، تاہم انہوں نے فی الوقت یہ نہیں بتایا کہ تھرڈ پارٹی کون ہوگی جو وزرا کی کارکردگی کی جانچ کرے گی ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پھر اس امر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے، اگر وہ چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔‘‘ محسن نقوی نے کہا لوگوں کی خواہش ہے کہ میرے اوروزیراعظم کے تعلقات خراب ہوجائیں، ساتھ ہی واضح کیا کہ حکومت مدت پوری کرے گی اور شہبازشریف پانچ سال وزیراعظم رہیں گے۔
نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے ماضی میں تحریک پاکستان کے نام ور رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم شدومد سے مطالبہ کرتے رہے تھے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم کا مؤقف یہ تھا کہ ’’پاکستان کے انتظامی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے نئے انتظامی صوبوں کا قیام ضروری ہے۔‘‘ وہ اس مطالبے کو لسانی یا نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیاد پر پیش کرتے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ’’بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صرف چار صوبوں کا نظام عوام کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔‘‘
نئے صوبوں سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر سرکاری سہولتیں ان کے قریب میسر آئیں گی۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی تیز ہوگی۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے وفاق مضبوط ہوگا، کمزور نہیں۔ نئے صوبے آئین کے مطابق قومی اتفاقِ رائے سے بننے چاہئیں نہ کہ لسانی یا تعصبانہ بنیادوں پر۔ دیکھا جائے تو اسی سیٹ اپ نے نئے مجوزہ صوبوں کے قیام کی راہ بھی ہموار کرنی ہے اور آئینی ترامیم بھی کرنی ہیں ایک ایسے کثیر الصوبائی نظام کا احیاکرنا ہے جو اختیارات اور طاقت کو عوام کے حق میں تقسیم کرے اور ہر صوبہ اپنے وسائل کو خود صوبے کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کرے ۔ نئے صوبوں سے نیا دور شروع ہوگا عوام خوش حال ہونگے ان کی محرومیاں ختم ہوں گی۔
ہزاروں روپے خرچ کرکے صوبائی دارالحکومت جانے والوں کو مایوسی ہی ملتی ہے اور کام نہیں ہوتے۔ مجاز حکام کے اسلام آباد کے ’’پھیرے‘‘ ہی ختم نہیں ہوتے، افسران کی فوج وزرائے اعلیٰ کے ساتھ صوبائی دارالحکومتوں سے ہفتوں دور رہتی ہے، ایسے میں لوگوں کا وقت برباد ہوتا ہے۔ ہر شخص کا مسئلہ اس کے گلی محلے، تحصیل، ٹائون یا شہر کے اندر ہی حل ہونا چاہیے۔ بے جاظالمانہ ٹیکسوں، بجلی، گیس، پانی، صفائی کے ٹیکس ہوں یا بے لگام تعلیمی اداروں کا بوسیدہ نظام کسی بھی شعبے کو دیکھ لیں موجودہ نظام بوسیدہ، آلودہ، بدعنوان اور استحصال زدہ ہے۔
دنیا بھر میں ایساناکارہ سسٹم نہیں جو پاکستان میں ستر کی دہائی کے بعد سے چلا آرہا ہے، یہ نظام چند خاندانوں کی اجارہ داری پر مبنی ہے، چند کاروباری خاندانوں کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے جسے جمہوریت کا نام دے کر مسلط کیا گیا ہے۔ عوام پانچ سال بعد ایک دن ووٹ کی پرچی دے کے پورے پانچ سال اس گناہ کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔ نظام ہی نہیں اجارہ دار خاندانوں کا نئے نظام میں راستہ روکنا ہوگا ملک کو گنے چنے خاندانوں کی موروثیت کی جاگیر نہیں بننے دینا چاہیے۔