• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرورِ عالم، امام اُلانبیاء حضرت محمد مصطفی ٰﷺ ( قسط نمبر3)

چچا ابوطالب اور رفیق ِسفر حضرت خدیجہؓ کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ پر گویا غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اب مشرکین کو نہ کسی کا ڈر تھا اور نہ خوف ۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور ایذارسانی تمام حدیں پار کر گئی۔ ابولہب حضورﷺ کا چچا بھی تھا، پڑوسی بھی تھا اور سخت ترین دشمن بھی۔

حضورﷺ کی بعثت سے پہلے ابولہب نے اپنے دو بیٹوں کا نکاح رسول اللہﷺ کی دو بیٹیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت اُمِّ کلثومؓ سے کردیا تھا، لیکن نبوت کے اعلان کے بعد اس نے دونوں بیٹوں سے ان معصوم بچیوں کو طلاق دلوادی۔ ابولہب اور رسول اللہﷺ کے گھر کے درمیان صرف ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔

حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوچکا تھا، گھر میں تینوں بچّیاں اکیلی رہتی تھیں۔ حضوراکرمﷺ تبیلغِ دین کے سلسلے میں صبح فجر سے رات عشاء تک گھر سے باہر رہتے۔ ایسے میں ابولہب کی بیوی اُمِ جمیل دیوار پر چڑھ کر انہیں ڈراتی۔ گھر میں کوڑا کرکٹ پھینک دیتی، مارنے کی دھمکیاں دیتی۔ بچّیاں سہم جاتیں اور بابا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آنے تک کمرے میں چُھپی رہتیں۔ یہ وہ گمبھیر حالات تھے، جن کی بِنا پر رسول اللہ ﷺ نے شوال 10نبوی کو حضرت سودہؓ بنتِ زمعہ سے نکاح فرمایا۔

مکّی زندگی کا تیسرا دور… مکّے سے باہر دین کی دعوت 

کفارِ مکّہ کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر قفل لگادیے تھے۔ یہ اب دین کی بات سُننے کے لیے تیار نہ تھے، چناں چہ رسول اللہﷺ نے مکّے سے باہر دین کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ شوال10نبوی ؐ کو آپﷺ اپنے آزاد کردہ غلام، حضرت زید بن حارثہؓ کے ساتھ پیدل طائف کے سفرپر روانہ ہوئے۔ یہ مکّے سے تقریباً 90 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔

آپﷺ نے طائف میں دس دن قیام فرمایا۔ اس دوران اہلِ طائف نے آپﷺ کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اوباش لڑکے آپﷺ کے پاؤں اور ایڑیوں پر اس قدر سنگ باری کرتے کہ آپﷺ کے نعلین مبارک خون سے بھر جاتے۔ یہاں تک کہ اللہ کے حُکم سے پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوا اور عرض کیا۔ ’’اے اللہ کے رسولﷺ! اگر آپ ؐ حکم دیں، تو مَیں اہلِ طائف کو ان دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں۔‘‘ حضورﷺ نے فرمایا۔ ’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا، جو ایک اللہ کی عبادت کرےگی اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں  ٹھہرائے گی۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث3231)۔

جنّات کا اسلام لانا

طائف سے واپسی پر آپ ﷺ نے وادئ نخلہ میں چند دن قیام فرمایا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے پاس جنّات کی ایک جماعت بھیجی، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورئہ احقاف اور دوسرے سورئہ جِن میں۔ جِنّات کی آمد اور قبولِ اسلام کا واقعہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک غیبی مدد تھی کہ بڑی تعداد میں جِنّات نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

اسراء و معراج

رسول اللہ ﷺکی مکّی زندگی کے آخری دَور میں اسراء معراج کا واقعہ پیش آیا۔ اسراء سے مراد ہے، رات کے وقت آپ ﷺ کا مسجدِ حرام سے مسجد ِاقصیٰ، یعنی بیت المقدس تک تشریف لے جانا، جیسا کہ قرآنِ مجید کی سورئہ بنی اسرائیل کے اغاز میں بیان ہوا ہے۔ معراج سے مراد آپ ؐ کا بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفرہے۔ سفر کے یہ دونوں واقعات بہ یک وقت پیش آئے۔

ایک ہی رات آپﷺ کو جسم و رُوح کے ساتھ بہ حالت بے داری مسجدِ حرام سے بیت المقدس لےجایا گیا۔ اسی رات آپﷺ عالم ِبالا کی انتہائی بلندیوں سے گزرتے ہوئے بارگاہِ ربّ العزت تک پہنچے اور صبح ہونے سے پہلے واپس مکّہ مکرّمہ تشریف لے آئے۔(سیرت سرورِعالم ؐ2/643)۔

بیعت عُقبہ

نبوت کے گیار ہویں سال موسمِ حج میں یثرب کے چھے افراد نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اگلے سال موسمِ حج میں بارہ افراد آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اُن میں سات نئے تھے اور پانچ پچھلے سال آچکے تھے، یہ ’’بیعتِ عقبہ اُولیٰ‘‘ کہلائی۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو معلّم بناکر یثرب بھیجا، جن کی کوششوں سے چالیس افراد مسلمان ہوگئے۔ رسول اللہﷺ نے یثرب میں نمازِ جمعہ باجماعت پڑھانے کا حکم دیا۔

حضرت اسعد بن زرارہؓ نے نمازِ جمعہ کی امامت کی۔ اگلے سال 13نبوی ؐ کو حج کے موقعے پر73مرد اور2خواتین نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کیا۔ آنحضرت ﷺ نے ہر قبیلے کے سردار پر مشتمل12نقیب مقرر فرمائے، جو اپنے قبیلے کے جملہ معاملات کے کفیل تھے۔ اس موقعے پر ہونے والی بیعت، ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘ کہلائی۔

ریاستِ مدینہ.....کرئہ ارض پر پہلی اسلامی ریاست

اللہ ربّ العزت نے مکّہ مکرّمہ کے شمال مشرق میں 450کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قدیم شہر، یثرب کو کفر و جہالت کے لق و دق صحرا میں پہلی اسلامی ریاست کے عظیم منصب پر سرفراز فرمانے کا فیصلہ کیا اور حضور نبی کریمﷺ کو خواب میں زیارت بھی کروادی کہ آپؐ پتھریلی چٹانوں کے درمیان ایک ایسی بستی کی جانب ہجرت فرما رہے ہیں کہ جہاں کھجوروں کے باغات ہیں۔آپ ؐ سمجھ گئے کہ ہجرت کا مقام ’’یثرب‘‘ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 3905)۔

دوسری بیعت عقبہ کی تکمیل کے بعد یثرب میں اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اہلِ یثرب کا اصرار تھا کہ رسول اللہﷺ اپنے رفقاء کے ساتھ یثرب میں تشریف لے آئیں۔ شہرِ مکّہ میں کفّار و مشرکین بدترین دشمن بن چکے تھے۔ ایسے میں یثرب سے آنے والی مشک بُو ہواؤں کے جھونکوں نے کفر و الہاد کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں اُمیدوں کے چراغ روشن کردیئے۔

یثرب سے توحید کی فصلِ بہار نے اہلِ ایمان کو محبتوں کے سندیسے بھیجے اور اپنے شہر، اپنے گھر اور اپنی بانہیں ان کے لیے وا کردیں… کفارِ قریش کے جبر و استبداد نے جاں نثارانِ مصطفیؐ کو اجنبی راہوں پر ہجرت پر مجبور کردیا اور پھر اہلِ فلک نے وہ دل گداز مناظر بھی دیکھے کہ جب اہلِ ایمان راتوں کی تاریکی میں دشمنوں سے چُھپ کر، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے پیاروں کو تڑپتا اور بچّوں کو بلکتا چھوڑ کر بے سرو سامانی کی حالت میں خالی ہاتھوں، پُرنم آنکھوں اور اُداس دل کے ساتھ اَن جان راہوں کی جانب چل دیے کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کا یہی حُکم تھا۔

رسول اللہﷺ کے پھوپی زاد بھائی، حضرت ابو سلمہؓ سب سے پہلے مہاجر تھے، جو اپنی اہلیہ اور بچّے کے ساتھ ہجرت کے لیے نکلے۔ کفار قریش نے اُن کی بیوی اور بچّے کو اُن سے چھین لیا اور وہ اکیلے یثرب پہنچے۔ بعدازاں، رسول اللہؐ نے ہجرت کا عام اعلان فرمادیا۔

لہٰذا بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کے لیے نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ مکّہ کے کئی قبیلے اور بہت سے گھر بے آباد و ویران ہوگئے، جو مسلمان ہجرت کرسکتے تھے، اُن سب نے ہجرت کرلی، سوائے اُن کے جو معذور یا مجبور تھے۔ رسول اللہﷺ، سیّدنا ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علی مرتضیٰؓ نے ابھی تک ہجرت نہیں کی تھی اور حکمِ الٰہی کے منتظر تھے۔

رسول اللہﷺ کی ہجرت

قریش کے سرداروں کو اس بات کا خوف تھا کہ اگر حضرت محمدﷺہجرت کرکے یثرب چلے گئے اور یثرب ایک اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آگیا، تو اوس و خزرج کے جنگ جُو اور اصحابِ رسول ؐ بہت جلد مکّہ بھی فتح کرلیں گے۔ چناں چہ آنے والے سیلابِ عظیم کو روکنے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے وہ سب مکّہ کی پارلیمنٹ ’’دارالندوہ‘‘ میں جمع ہوئے، جہاں مختلف تجاویز زیرِ غور تھیں۔ اُن سرداروں میں شیخ نجد نام کا ایک شاطر بوڑھا بھی تھا، جو دراصل ابلیس تھا۔

کافی دیر کے بحث مباحثے کے بعد ابلیس نے کہا۔ ’’تمہارے اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ محمدؐ کو(نعوذباللہ) قتل کردیا جائے، لیکن اس تجویز پر عمل درآمد سے یہ خدشہ تھاکہ جس نے یہ کام کیا، بنو ہاشم اُسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ چناں چہ ابلیس نے دوسری تجویز پیش کی کہ ’’ہر قبیلے کے سردار پر مشتمل ایک دستہ تیار کرو، سب رات کی تاریکی میں ایک ساتھ وار کریں گے، خون تمام قبائل میں تقسیم ہوجائے گا، اس طرح بنو عبد مناف سارے قبائل سے بدلہ نہیں لے سکیں گے، اور یہ کام آج رات ہی کرلیا جائے۔‘‘ اس تجویز کو سب نے قبول کرلیا۔

اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعےحضور اکرمﷺ کو ہجرت کا حُکم دیا اور مشرکین کی سازش سے مطلع فرماتے ہوئے حُکم دیا کہ آج رات بستر پر قیام نہ کریں۔ چناں چہ آپؐ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر اپنی سبز یمنی چادر اوڑھا کر لٹا دیا اور ہدایت فرمائی کہ مشرکین کی امانتیں اُن کے حوالے کرکے ہجرت کر جائیں۔

حضوراکرمﷺ کے گھر کو مشرک سرداروں نے گھیرا ہوا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کی بینائی سلب کردی تھی۔ حضور اکرمﷺ رات کی تاریکی میں سورئہ یٰسین کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرماتے ہوئے گھر سے باہر نکلے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر تشریف لے گئے، وہاں سے آپ دونوں غارِثور کی جانب روانہ ہوگئے۔ جب اندر داخل ہوئے تو مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تان لیا۔ اللہ نے دو جنگلی کبوتروں کو حکم دیا کہ غار کے منہ پر بیٹھ جائیں۔

جب صبح ہوئی اور مشرکین نے حضرت علیؓ کو بستر پر دیکھا تو چراغ پا ہوگئے، دریافت کیا۔’’ محمد(ﷺ) کہاں ہیں؟‘‘ حضرت علیؓ نے جواب دیا۔ ’’مجھے نہیں معلوم، میرے پاس تم لوگوں کی امانتیں ہیں، وہ تم لوگوں تک پہنچانی ہیں۔‘‘ سردارانِ قریش غم و غصّے سے پاگل ہوگئے۔ انھوں نے قریش کے تمام نوجوانوں کو حکم دیا کہ ہر حالت میں محمد(ﷺ) کو تلاش کرو۔ حکم سنتے ہی قریش کے نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں، کچھ نوجوان غارِ ثور پر بھی آئے، لیکن جب غار کے منہ پر مکڑی کا جالا اور وحشی کبوتر بیٹھے دیکھے، تو مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے۔

ابن سعد نے لکھا ہے کہ ’’نبی کریمﷺ نے ان کبوتروں کو دُعا دی اور اُن کی جزا مقرر کردی، وہ حرم الٰہی میں منتقل ہوگئے۔‘‘ (طبقات ِابنِ سعد، اردو 194/1)۔آپؐ نے غار ِثور میں تین راتیں چُھپ کر گزاریں اور پھر راستوں سے واقف ایک شخص ابنِ اریقط کی رہبری میں مدینہ روانہ ہوگئے۔ راستے میں اُمِّ معبد کے خیمے میں قیام فرمایا۔ وہاں ایک سوکھی اور لاغر بکری پر نظر پڑی۔ آپﷺ نے اللہ کا نام لے کر اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا، جو دودھ سے بھرگئے، تو سب نے خُوب سیر ہوکر دودھ پیا۔

حضرت اسماء بنتِ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتی ہیں۔’’ ہمیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہﷺ نے کدھر کا رُخ فرمایا ہے۔ یہاں تک کہ ایک جِن زیریں مکّہ سے چند اشعار پڑھتا ہوا گزرا تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپؐ کا رُخِ انور مدینے کی جانب ہے۔‘‘ یہ واقعہ غارِ ثور سے روانگی کے دوسرے دن پیش آیا۔ابو جہل نے رسول اللہﷺ کی گرفتاری پر100سُرخ اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

قبیلہ بنو مدلج کا سرداراورجنگ جُو سراقہ بن مالک بھی دیگر لوگوں کی طرح آپؐ کی تلاش میں نکلا اور اپنا گھوڑا سرپٹ دوڑاتا ہوا رسول اللہﷺ کے نزدیک پہنچ گیا، ابھی وہ حملے کے لیے اُن پر جھپٹا ہی تھا کہ اچانک اس کے گھوڑے کے اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ اس نے زمین سے اُٹھ کر آپؐ پر حملے کی کوشش کی، لیکن ممکن نہ ہوسکا۔ کئی بار کی کوششوں کے باوجود بھی جب ناکام رہا تو خدمتِ اقدس میں حاضر ہوگیا اور معافی طلب کی۔

آپؐ نے اُسے معاف فرما دیا۔ سراقہ نے کہا۔’’یارسول اللہﷺ! اب میں اس طرف کسی کو بھی نہیں آنے دوں گا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’اے سراقہ! اُس وقت تیری کیا شان ہوگی، جب تُو کسریٰ کے کنگن پہنے گا۔‘‘ حضوراکرمﷺ کا یہ فرمان اُس وقت پورا ہوا، جب حضرت عُمرؓ کے دورِ خلافت میں ایران فتح ہوا۔ کسریٰ کے کنگن اور تاج امیر المومنینؓ کو پیش کیے گئے۔

آپ ؓ نے حضرت سراقہؓ کو بلاکر کنگن اور تاج انھیں پہنا دیے۔ (سیرت سرورِ عالم ؐ 732/2)۔8 ربیع الاوّل 14 نبوی بمطابق23 ستمبر 622 عیسوی، پیر کی دوپہر آپ ؐ وادئ قباء پہنچے۔ یہ مدینہ سے4کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں آپؐ نے بنو عمرو بن عوف کے رئیس (سردار) حضرت کلثوم بن ہدمؓ کے مکان پر قیام فرمایا۔ اس دوران آپؐ نے اسلام کی پہلی مسجد کی بنیاد رکھی، جو آج بھی ’’مسجدِ قباء‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ یہاں دو نفل پڑھنے کا ثواب ایک عُمرے کے برابر ہے۔ وادئ قباء میں آپؐ نے چار دن قیام فرمایا۔

امام الانبیاءﷺ کی مدینہ منورہ آمد پر پُرتپاک استقبال

12 ربیع الاول، بروز جمعہ آپ ؐ اپنے ننھیالی رشتے داروں یعنی بنو النجار کے جنگجو جوانوں کی تلواروں کے حصار میں مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔ (صحیح بخاری 3832)۔ پورا مدینہ آپؐ کے استقبال کے لیے اُمڈ آیا۔ انصار کی بچیاں دَف بجاتے ہوئے خوشی کے نغمے گا رہی تھیں۔ حضوراکرمﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر قیام فرمایا۔

مدینہ آنے کے فوری بعد یثرب کا نام تبدیل کرکے مدینتہ المنورہ رکھا۔ مسجد ِنبوی ؐ کی بنیاد رکھی، ازواج ِمطہراتؓ کے حجرے اور ’’صفہ‘‘ کا چبوترا بنوایا۔ انصارؓ اور مہاجرینؓ کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا۔ مدینے کے یہود سمیت قُرب و جوار کے قبائل سے معاہدئہ امن کروایا۔ شوال یکم ہجری کو سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کی رخصتی ہوئی اور وہ کاشانہ حرمِ نبوتؐ میں رونق افروز ہوئیں۔

حضوراکرمﷺ سے آپؓ کا نکاح مکّہ مکرّمہ میں ہوگیا تھا۔15شعبان 2 ہجری، بروز منگل نماز ظہر کے دوران تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا اور حضوراکرمﷺ سمیت صحابہ کرامؓ نے اپنا رُخ مسجدِ اقصیٰ سے مسجد ِحرام کی جانب کرلیا۔ قبیلہ بنو سلمہ کی جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا، وہ ’’مسجد قبلتین‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ (جاری ہے)