کراچی کا گورنر ہاؤس اپنی طویل تاریخ میں نہ جانے کتنے گورنر، کتنی حکومتیں اور کتنے سیاسی موسم دیکھ چکا ہے، مگر ان دنوں اس تاریخی عمارت میں ایک ایسا شخص مقیم ہے جسے یہاں تک پہنچنے میں چند ماہ یا چند سال نہیں، تقریباً چالیس برس لگے ہیں۔ اس سفر کا آغاز اُس کراچی سے ہوا جہاں ایک زمانے میں ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا، شہر کی سیاست پر اس کی غیر معمولی گرفت تھی اور ایسے ماحول میں کسی دوسری سیاسی جماعت، خصوصاً مسلم لیگ (ن) کا پرچم اٹھانا اور نواز شریف کے حق میں آواز بلند کرنا آسان سیاسی انتخاب نہیں تھا۔نہال ہاشمی نے یہ انتخاب اُس وقت کیا تھا۔
آج گورنر ہاؤس میں انہیں دیکھتے ہوئے نئی نسل شاید اندازہ نہ کرسکے کہ یہی شخص کبھی کراچی کی گلیوں، سیاسی اجتماعات اور کارکنوں کے درمیان کھڑے ہوکر نواز شریف کا نام اُس وقت لیتا تھا جب اس نام کے ساتھ کھڑا ہونا مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف ہوسکتا تھا۔ کسی سیاست دان کو پرکھنے کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے قائد کے ساتھ صرف بہار میں کھڑا رہا یا خزاں میں بھی۔ نہال ہاشمی کے حصے میں دونوں موسم آئے۔
وہ بنیادی طور پر وکیل ہیں، دلیل اور گفتگو کا سلیقہ جانتے ہیں، مگر ان کی شخصیت کا ایک رخ تعلق بنانے سے زیادہ تعلق نبھانا ہے۔ ان کی اسی سیاسی رفاقت کا ایک واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے، یہ واقعہ مجھے مرحوم مشاہد اللہ خان نے خود سنایا تھا۔یہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا ابتدائی دور تھا۔ نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا جاچکا تھا اور وہ کراچی میں قید تھے۔ اقتدار جاچکا تھا، مستقبل غیر یقینی تھا اور پرانے ساتھیوں کے لیے اپنے قائد تک پہنچنا بھی آسان نہ تھا۔مشاہد اللہ خان مرحوم جو اس زمانے میں خود بھی قید میں تھے نے راقم کو بتایا تھا کہ وہ نواز شریف سے ملنا چاہتے تھے، مگر ملاقات تقریباً ناممکن تھی۔ یہاں نہال ہاشمی کا کردار سامنے آیا۔ وہ وکیل کی حیثیت سے قانونی رسائی رکھتے تھے اور انہوں نے کسی طرح مشاہد اللہ خان کی نواز شریف سے ملاقات ممکن بنادی۔مشاہد اللہ خان کے بقول جب وہ نواز شریف کے سامنے پہنچے تو نواز شریف نے اپنے پرانے ساتھی کو دیکھا اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیے۔ چند روز پہلے تک ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص آج قید میں ہے۔ باہر سیاسی وفاداریوں کا امتحان شروع ہوچکا ہے اور اچانک کراچی کا ایک پرانا ساتھی اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ شاید وہ آنسو صرف مشاہد اللہ خان کو دیکھنے کے نہیں تھے، اس احساس کے بھی تھے کہ مشکل وقت میں ابھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے راستہ نہیں بدلا۔اور اس ملاقات کے پس منظر میں نہال ہاشمی کھڑے تھے۔
میرے نزدیک نہال ہاشمی کی نواز شریف سے چالیس سالہ وابستگی بیان کرنے کے لیے یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ اقتدار کے دنوں میں قائد تک لوگوں کو پہنچانے والے بہت ہوتے ہیں، اصل امتحان تب ہوتا ہے جب قائد خود قید میں ہو اور اس تک پہنچنے کے راستے بند ہوں۔شاید یہی وجہ ہے کہ نہال ہاشمی نواز شریف کا ذکر محض سیاسی قائد کے طور پر نہیں کرتے۔ چار دہائیوں کی رفاقت کے بعد ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف زمین سے جڑے ہوئے انسان ہیں، پرانے دوستوں اور کارکنوں کو یاد رکھتے ہیں اور زبان دے دیں تو نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہال ہاشمی کے مطابق انہوں نے نواز شریف کو کبھی کسی کی برائی کرتے نہیں دیکھا، بلکہ وہ اپنے سامنے کسی کی برائی سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ وہ انہیں ذاتی معاملات میں دیانت دار اور تعلقات میں وضع دار انسان سمجھتے ہیں۔
اس طویل رفاقت نے اقتدار کے روشن ایوان بھی دیکھے اور مشکل وقت کی تاریک راہداریاں بھی۔ نہال ہاشمی سینیٹر بنے، پھر ایک تقریر ان کی زندگی کا ایسا موڑ بنی کہ معاملہ عدالت تک پہنچا، سزا ہوئی، سیاسی نقصان اٹھایا اور جیل بھی دیکھنا پڑی۔ ایسے مراحل پر سیاست میں راستے اور وفاداریاں بدلتے دیر نہیں لگتی، مگر نہال ہاشمی کا سیاسی پتہ تبدیل نہیں ہوا۔
وقت نے ایک بار پھر کروٹ لی اور وہی نہال ہاشمی آج گورنر سندھ کی کرسی پر براجمان ہیں، چند روز پہلے اسی گورنر ہاؤس میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میرے لیے ان کی سیاسی زندگی سے زیادہ ان کی شخصیت بیان کردی۔ گورنر ہاؤس میں عصر کی نماز کی امامت نہال ہاشمی نے خود کی جبکہ مغرب کی نماز انھوں نے گورنر ہاؤس کی مسجد میں ادا کی،نماز مکمل ہوئی، امام صاحب نے سلام پھیرا اور ابھی نمازی پوری طرح اپنی جگہوں سے اٹھے بھی نہ تھے کہ چار سے چھ سال کی عمر کے کئی بچے نہال ہاشمی کے گرد جمع ہوگئے۔کوئی ساتھ میں کرکٹ کھیلنے کی فرمائش کررہا تھا، کوئی اپنی بات بتارہا تھا اور نہال ہاشمی ہر بچے کی بات توجہ سے سن رہے تھے۔میں کچھ فاصلے پر کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔چالیس برس کی سیاست اور وفاداری انہیں گورنر ہاؤس تک لے آئی، لیکن یہاں سے ان کا تعارف اس بات سے ہوگا کہ اس عمارت کے دروازے عام آدمی، نوجوانوں، طالب علموں، کاروباری طبقے، اقلیتوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کتنے کھلے رہتے ہیں۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی ان کی سوچ واضح ہے۔ وہ سمجھتے ہیں وفاق میں وزیر اعظم شہباز شریف بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ایسے وقت میں پاکستان کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ منتخب حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ معاشی، انتظامی اور ترقیاتی پالیسیوں میں تسلسل رہے۔ حکومت کامیاب ہو تو عوام دوبارہ منتخب کریں، ناکام ہو تو ووٹ کے ذریعے گھر بھیج دیں، مگر نظام کو چلنے دیا جائے۔
گورنر ہاؤس سے نکلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ سیاست بھی عجیب چیز ہے۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں نواز شریف کے حق میں آواز بلند کرنے والے نہال ہاشمی شاید یہ سوچ بھی نہ سکتے ہوں گے کہ چار دہائیاں بعد اسی شہر کے گورنر ہاؤس کے دروازے ان کے لیے کھلیں گے۔ درمیان میں عہدے آئے، تنازع آیا، عدالت آئی، سزا آئی، مشکل دن آئے اور مشاہد اللہ خان جیسے رفیق یادوں کا حصہ بن گئے، مگر سفر جاری رہا۔اور پھر مجھے مسجد کے وہ بچے یاد آگئے۔
شاید چالیس سالہ سیاسی مسافت کا سب سے خوبصورت حاصل بھی یہی ہے کہ انسان بڑے سے بڑے دروازے کے اندر پہنچ جائے مگر چھوٹے سے چھوٹے انسان کی آواز سننے کی صلاحیت نہ کھوئے۔کیونکہ گورنر بننے کا نوٹیفکیشن تو جاری ہوسکتا ہے، لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا۔ وہ جگہ اپنے کردار اور رویّے سے بنانی پڑتی ہے اور شاید نہال ہاشمی بطور گورنر یہ جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔