• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکالمے سے زندگی بامعنی لگتی ہےمگر ایسا بامعنی مکالمہ ہماری زندگیاں سے رخصت ہو چکا ہے جو کھلے دل سے کیا جائے اور سامع بات سننے کا ظرف اورسلیقہ رکھتا ہو ، اس طرح کہ گفتگو کے درمیان لیے گئے وقفوں کی خاموشی کے معنی کو بھی سمجھ سکے۔ہم صرف بولنے کو گفتگو سمجھتے ہیں جبکہ گفتگو صرف شور نہیں۔ خاموشی بھی گفتگو کا بامعنی حصہ ہوتی ہے۔ اور پھر بولنا اور بولتے چلے جانا ہی مکالمہ نہیں مکالمے کا دوسرا اہم حصہ سماعت ہے ۔

جبکہ ہمارے ہاں پورا زور گفتگو (کمیونیکیشن) پر دیا جاتا ہے، مکالمہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کو اسی فریکونسی پر سنا نہ جائے جس فریکونسی پر بات کہی گئی ہے، سننا ایک اعلیٰ سطح کا ہنر ہے ۔

Art of listening باقاعدہ ایک سائنس ہے، ایک مضمون ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ آپ نے کسی کی بات کو سننا کس طرح سے ہے۔ آپ اچھے سامع کیسے بن سکتے ہیں، اچھا سامع صرف الفاظ ہی پر اپنی سماعت نہیں رکھتا بلکہ الفاظ کے درمیان خاموشی کے وقفے اور گفتگو کرنے والے کی بدن بولی( باڈی لینگویج) پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو لفظوں میں نہیں شاید خاموشی کے وقفوں میں کہی جاتی ہیں، خاموشی کے وقفوں میں کیوں کہی جاتی ہیں شاید کچھ خدشے ،کچھ وہم ،کچھ خوف ان کو زبان تک آنےسے روک دیتے ہیں۔

یہ موضوع کالم کے دائرے میں یوں آیا کہ بلوچستان کے الجھے سیاسی وسماجی دھاگوں کو گرینڈ ڈائیلاگ سے سلجھانےکی بات ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ گرینڈ ڈائیلاگ ہوگا۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو اس سے پہلے بھی ڈائیلاگ ہوئے، بات چیت ہوئی لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے جس سے یہاں کا منظر نامہ تبدیل ہو جاتا۔ یہاں کے سیاسی مسائل کی گتھیاں سلجھتیں اور سماجی تانے بانے میں موجود تعصب اور نفرت کے کانٹے کم ہوتے ،معاشرتی اور سماجی طور پر بلوچستان کے شہروں ،دیہاتوں، قصبوںمیں تعصب و نفرت کے زہر کی بجائے ایک توازن بھری فضا قائم ہوتی ۔

بلوچستان کے مسائل پر ہونے والے ایسے سیاسی مکالموں میں جن اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جاتا ہے ان میں مقامی اور عمومی سطح کی سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں۔گرینڈ ڈائیلاگ میں بلوچستان کے طالب علموں کو بھی شامل کیا جائے ان طالب علموں کو جو اس خوف کے ماحول میں اپنے تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اس ڈائیلاگ میں ان ٹیچرز کو بھی شامل کیا جائے جو اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے روزانہ گھر سے نکلتے ہیں، ان ماؤں کو بھی شامل کریں جو بلوچستان کے دہشت اور خوف کے ماحول میں بچوں کی سلامتی کیلئےدعا گو رہتی ہیں،جو اس دھرتی سے جڑی ہوئی ہیں ۔ بلوچستان بے شک معدنیات اور زیر زمین جواہرات سے بھری ہوئی قیمتی سرزمین ہے، لیکن جناب والا ،بلوچستان کے اصل زر و جواہر یہاں کے باشندے ہیں، یہاں کے نوجوان ہیں جو اس ماحول میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، بلوچستان کے اصل زر و جواہر یہاں کے کسان ہیں، یہاں کے وہ باغبان ہیں جو یہاںمہکنے والے سیبوں اور خوبانیوں کے باغوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور وہ کان کن جو اپنی جان پر کھیل کر سنگلاخ چٹانوں کی تہ سے قیمتی معدنیات نکالتے ہیں۔ بلوچستان کے اصل زر و جواہر یہاں کے استاد ہیں،یہاں کی مائیں ہیں اور یہاں کے وہ ریڑھی بان ہیں جو معاشی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

بلوچستان پر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہے تو بلوچستان میں بسنے والے ہر طبقے سے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے۔یہاں کے استادوں کو ،ادیبوں ،شاعروں، انجینئروں، ڈاکٹروں ، چھوٹے بڑے کاروباری طبقے کو اس گرینڈ ڈائیلاگ کا حصہ بنایا جائےتاکہ یہ دھرتی سے جڑا زندہ سانس لیتا مکالمہ ہو محض فائلیں بھرنے والی بے روح، بے نتیجہ سرگرمی نہ ہو۔ان نوجوانوں سے بھی ڈائیلاگ ہو جو دشمن کا آلہ کار بن جاتے ہیں، ان کے معاشی اور سماجی حالات کی کیس اسٹڈی کی جائےمعاملہ صرف گفتگو یا بات چیت تک محدود نہ ہو بلکہ ایک پوری حکمت عملی طے کی جائے،بلوچستان کے ذہن اور دل میں جھانکنے کی کوشش کی جائے اور سب سے ضروری بات،مکالمہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب سننے والا اپنے دل کو بڑا کر کے تمام سیاسی و سماجی تعصبات کےجالے صاف کرکے خلوص اور احساس سے بات سنے،ہر مکالمے میں ایک فریق کمزور اور دوسرا طاقتور ہوتا ہے، طاقت اور اختیار رکھنے والے فریق میںیہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ سننے کا ظرف رکھے، وہ اپنے تعصبات سے نکل کربات سنے ،پہلے سے قائم کردہ نظریات کا اسیر ہو کر کسی نئے نتیجے پر یا بہتر نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔

بلوچستان پر ہونے والے اس سیاسی ڈائیلاگ میں ظاہر ہے۔طاقت مقتدرہ کے ایوانوں کے پاس ہے ،جب ان کے نمائندے بلوچستان کے کسانوں سے، سیاست دانوں سے، نوجوانوں سے، بچوں سے، ریڑھی بانوں سےگفتگو کریں گے تو حالات کی تصویر مکمل ہوگی۔برسوں کے بنائے ہوئے پیٹرن کو توڑ کر نئے راستے بنا کر مسائل کو حل کرنے کا حوصلہ درکار ہے۔شکایات، خدشات، الزامات ...کی گرد میں سب کا اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ۔ اگر یہ حوصلہ موجود ہے توگفتگونتیجہ خیز ہوگی ورنہ سوائے فائلیں بھرنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ ڈائیلاگ دو چار نشستوں میں ختم نہیں ہوگا یہ ایک مستقل سرگرمی رہنی چاہیے۔، اس مکالمے کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پھیلا دیں، بات سنیں بات کریں۔

تم کو گر مجھ سے گلہ تھا کوئی

بات کرنے میں قباحت کیا تھی

بات چیت کے راستےکھولیں۔ ان راستوں پر پڑے کانٹوں اور خاردار تاروں کو ہٹا دیں۔جب بھی معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی بات ہو مجھے اپنے سماج کی نفسیات سے خوف آتا ہے جہاںادھوری بات کہنےاور اسے نہ سمجھنے کا چلن عام ہے۔اسی المیہ کی طرف جون ایلیا نے اشارہ کیا۔

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی!!

تازہ ترین