• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ معاہدے کی سب سے بڑی طاقت تینوں ممالک کی مختلف صلاحیتوں کا امتزاج ہے، پاکستان کے پاس ایک تجربہ کار اور بڑی فوج، جوہری ڈیٹرنس، میزائل صلاحیت اور کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربہ ہے۔ ترکیہ جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر، بحری اور فضائی صلاحیتوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل، توانائی کی طاقت، جغرافیائی اہمیت اور مسلم دنیا میں غیر معمولی سیاسی و مذہبی اثر و رسوخ موجود ہے۔اگر یہ تینوں صلاحیتیں حقیقی معنوں میں مربوط ہوجاتی ہیں تو ایک ایسا دفاعی نیٹ ورک تشکیل پاسکتا ہے جو صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، مشترکہ مشقوں اور جدید جنگی نظام تک پھیل سکتا ہے۔ ترکیہ کے مطابق معاہدے کے تحت زمین، سمندر، فضا اور سائبر شعبوں میں مشترکہ فوجی مشقوں، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق و پیداوار کے امکانات بھی شامل ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کی اقتصادی سوچ بھی اہم ہوجاتی ہے۔پاکستان کو صرف دفاعی معاہدے سے مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دفاعی تعاون کے ساتھ سعودی سرمایہ کاری، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی و صنعتی صلاحیت کو ایک مشترکہ اقتصادی فریم ورک میں تبدیل کیا جائےگا۔ سعودی عرب پہلے ہی پاکستان کے ساتھ توانائی، صنعت، معدنیات، آئی ٹی، زراعت، سیاحت اور فوڈ سکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کیلئے فریم ورک قائم کرچکا ہے۔ مکہ کا معاہدہ پاکستان کیلئےصرف سکیورٹی چھتری نہیں بلکہ معاشی مواقع کا دروازہ بھی بن سکتا ہے،لیکن یہاں خوشی کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ اس دفاعی تعاون کو پاکستان کی معاشی سفارتکاری کے ساتھ جوڑیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ اس شراکت داری کو ایسی دفاعی طاقت میں تبدیل کریں جو جنگ شروع کرنے کے بجائے جنگ روکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔دنیا میں اصل طاقت وہ نہیں جو ہر وقت جنگ کی بات کرے۔اصل طاقت وہ ہے جسکی موجودگی مخالف کو جنگ شروع کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنے پر مجبور کردے،پاکستان کیلئے یہ معاہدہ اسی ’’ڈیٹرنس‘‘ کی سمت ایک قدم ہے۔مکہ کا معاہدہ اسی بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک اہمیت کا اعتراف بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے اب اصل امتحان یہ ہے کہ وہ مکہ معاہدے کو ایک تاریخی تصویر، ایک سیاسی بیان یا وقتی سفارتی کامیابی بننے سے بچائیں اور اسے ایک قابلِ عمل ریاستی منصوبے میں تبدیل کریں۔سعودی عرب سرمایہ لا سکتا ہے، ترکیہ ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں شراکت دے سکتا ہےجبکہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت، عسکری تجربے، انسانی وسائل اور دفاعی صلاحیت کو اس شراکت داری کی بنیاد بنا سکتا ہے۔اگر تینوں ممالک نے اپنی اپنی طاقت کو ایک دوسرے کی کمزوری پوری کرنےکیلئے استعمال کیا تو مکہ معاہدہ صرف تین ممالک کے دفاع کا معاہدہ نہیں رہے گا، یہ ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے،اور شاید یہی اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ صرف بحرانوں کا تماشائی نہیں، بلکہ خطے کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،تاہم عوام کے لئےاصل کامیابی تب ہوگی جب ان تمام کامیابیوں کا عکس معیشت ، روزگار، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافے کی شکل میں نظر آئے۔

تازہ ترین