میرپورخاص(رپورٹ: سید محمد خالد) میرپور خاص کے محکمہ تعلیم میں گریڈ16 کی جعلی بھرتیوں کا انکشاف سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر محکمانہ انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ جبکہ صوبائی وزیر تعلیم نے بھی معاملے کا نوٹس لے کر چار رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ میرپورخاص کے مختلف علاقوں میں چھ سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی جعلی بھرتیاں سامنے آنے کے بعد افسران میں ہلچل مچ گئی۔ یہ جعلی اساتذہ محکمہ تعلیم کے سینئر افسران کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کررہے تھے۔ لیکن افسران کو پتا نہیں چل سکا۔ جعلی بھرتیوں کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر کو مذکورہ ٹیچرز کی تنخواہیں فوری روکنے اور آئی ٹی ڈیٹا سینٹر کراچی کو بھی ان جعلی ٹیچرز کا بائیومیٹرک رکارڈ منسوخ کرنے کا خط لکھ دیا ہے۔ اس معاملے پر ڈائریکٹر تعلیم، ڈی ای او اور دو تعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کردی گئی۔ ادھر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر میر فضل تالپر کا موقف ہے کہ جعلی بھرتیوں میں ان سمیت افسران کے جعلی دستخط اور مہریں استعمال کی گئیں۔