تحریر۔۔۔ طارق حفیظ
پاکستان کی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہدے سے زیادہ اپنی سرگرمی، فیصلوں کی رفتار اور مختلف حلقوں تک رسائی کی وجہ سے نمایاں ہوتی ہیں۔ محسن نقوی بھی آج انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر روایتی انداز سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ وہ کم وقت میں کئی اہم ذمہ داریوں کا حصہ بنے اور ہر نئے کردار کے ساتھ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا۔
کامیابی کی ایک علامت یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ آپ مسلسل زیرِ بحث رہیں۔ کسی بھی شخصیت کے بارے میں ہر شخص کی رائے ایک جیسی نہیں ہو سکتی کیونکہ سوچ کے زاویے مختلف ہوتے ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تنقید اور تعریف کے درمیان انسان اپنی سمت اور مقصد پر کتنا قائم رہتا ہے۔ محسن نقوی کے سیاسی سفر کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
میڈیا سے وابستگی ان کے سفر کا پہلا اہم باب تھا۔ صحافت کی دنیا میں انہوں نے روایتی انداز کے بجائے اپنے منفرد طریقۂ کار کے ساتھ جگہ بنانے کی کوشش کی۔ ابتدا میں ان کے انداز پر سوالات اور تنقید بھی ہوئی، لیکن انہوں نے کام جاری رکھا اور وقت کے ساتھ میڈیا میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے۔
پھر نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن کر سامنے آئی۔ مختصر مدت میں کئی ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کر دیا۔ لاہور میں والٹن روڈ، کیولری گراؤنڈ انڈر پاس، کیولری گراؤنڈ اوور ہیڈ برج، والٹن روڈ اور خیابانِ اقبال اوور ہیڈ برج سمیت مختلف منصوبے ان کے دور کے نمایاں اقدامات میں شمار کیے گئے۔
والٹن روڈ کے اطراف رہنے والوں کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی تھی۔ کئی برسوں سے زیرِ بحث مسائل، خصوصاً گندے نالے اور ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے اور علاقے کے انفراسٹرکچر کو نئی شکل دینے کی کوشش ہوئی چونکہ یہ علاقہ کنٹونمنٹ کی حدود سے متعلق پیچیدہ انتظامی معاملات رکھتا تھا، اس لیے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھانا بھی ایک چیلنج سمجھا جاتا تھا۔صرف سڑکوں اور پلوں تک معاملہ محدود نہیں رہا۔ پنجاب کے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، پولیس اسٹیشنز کی بہتری اور دیگر انتظامی اقدامات نے بھی ان کے دور کو نمایاں کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب محسن نقوی کو ایک ایسے منتظم کے طور پر دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا جو مختصر وقت میں منصوبوں کو عملی شکل دینے پر زور دیتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ بننے کے بعد ان کے سامنے چیلنجز کی نوعیت ہی بدل گئی۔ اب ذمہ داری صرف انتظامی یا ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں تھی بلکہ داخلی سلامتی، سیاسی رابطہ کاری، مختلف ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور حساس قومی معاملات بھی ان کے دائرۂ کار کا حصہ بن گئے۔
محسن نقوی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی رابطہ کاری ہے۔ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں اور اہم سیاسی حلقوں سے ان کے روابط انہیں ایک ایسے کردار میں لے آئے ہیں جہاں وہ مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور مذہبی سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں سے رابطوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
اسی پہلو کی وجہ سے بعض لوگ ان کے سیاسی کردار کو نوابزادہ نصراللہ خان کی روایت سے بھی جوڑتے ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی سب سے بڑی سیاسی خوبی مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان رابطہ کاری تھی۔ فرق یہ ہے کہ محسن نقوی کا دائرۂ کار صرف اندرونِ ملک سیاست تک محدود نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح کے رابطے بھی ان کی ذمہ داریوں کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایران کے ساتھ حساس معاملات میں رابطہ کاری ہو یا سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ کے اہم حلقوں سے روابط، محسن نقوی کئی سطحوں پر متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات اور رابطے کے عمل میں برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی ایسے مقام تک نہ پہنچیں جہاں واپسی مشکل ہو جائے۔
پاکستان کرکٹ کے معاملات میں بھی محسن نقوی کا کردار محض انتظامی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہا۔ ان کے دور میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے، پی ایس ایل کے انعقاد کو جاری رکھنے اور لیگ میں تین نئی فرنچائزز متعارف کرانے جیسے اہم اقدامات سامنے آئے۔
بھارت کی کرکٹ میں بالادستی کے مقابلے میں پاکستان کا مؤقف بھی زیادہ واضح اور جارحانہ انداز میں سامنے آیا۔ محسن نقوی نے کئی مواقع پر پاکستان کرکٹ کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا اور کرکٹ کے میدان میں بھارتی اثر و رسوخ کے مقابلے میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔
مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی ایک اہم چیلنج تھا۔ ساتھ ہی کرکٹ بورڈ کے مالی معاملات کو بہتر بنانے اور آمدن میں اضافے کی کوششیں بھی ان کے دور کے اہم پہلوؤں میں شامل ہیں۔ اب وہ پاکستان کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے میں مزید بہتری کے لیے ایک نئے نظام کی بات کر رہے ہیں۔
لیکن اس نئے نظام کے مکمل خدوخال ابھی سامنے نہیں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ سے وابستہ حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے کہ آخر وہ نیا نظام کیا ہوگا، اس میں کیا تبدیلیاں آئیں گی اور اس کا عملی اثر پاکستان کرکٹ پر کس حد تک پڑے گا۔
محسن نقوی کے بارے میں رائے بہرحال یکساں نہیں۔ جہاں ان کے حامی ان کی محنت، رفتارِ کار اور رابطہ کاری کو ان کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہیں، وہیں ناقدین ان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔ لیکن شاید کسی بھی فعال شخصیت کے لیے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اس کا کردار مسلسل زیرِ بحث رہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔
آج محسن نقوی بیک وقت کئی محاذوں پر نظر آتے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کی ذمہ داریاں، سیاسی رابطہ کاری، حساس قومی معاملات، عالمی سطح کے روابط اور پاکستان کرکٹ کے انتظامی اموربھی یہ سب ایسے شعبے ہیں جن میں بیک وقت متحرک رہنا آسان نہیں۔
یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا کہ محسن نقوی کا سیاسی سفر انہیں کہاں لے جاتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ میڈیا سے سیاست اور صوبائی انتظامیہ سے وفاقی حکومت تک، انہوں نے نسبتاً مختصر عرصے میں اپنی ایک الگ شناخت ضرور قائم کی ہے۔
ایک شخص کئی ذمہ داریاں کئی رابطے اور کئی محاذ شاید یہی محسن نقوی کے موجودہ کردار کی سب سے مختصر مگر جامع تعریف ہے۔