• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ حکومت کا میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ

سندھ حکومت نے مرحوم میر رضا علی خان کے قتل کیس کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق سندھ حکومت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کرے گی۔ کمیشن پولیس، میڈیکو لیگل افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے کردار کا جائزہ لے گا۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اہلخانہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ خط حکومت کو موصول ہوا، جس میں کیس سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، سندھ حکومت نے اہلخانہ کے خدشات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔

ترجمان کے مطابق کمیشن تحقیقات میں کسی بھی خامی، اہم پہلو یا مزید تفتیش طلب شواہد کا جائزہ لے سکے گا جبکہ غفلت، فرائض سے کوتاہی، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا شواہد میں رد و بدل ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کی سفارش بھی کی جاسکے گی۔

ترجمان کے مطابق کمیشن کو گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیانات قلمبند کرنے اور متعلقہ دستاویزات و ریکارڈ طلب کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ مزید تحقیقات اور فرانزک تجزیے کی سفارش بھی کی جاسکے گی۔

جوڈیشل کمیشن قیام کے 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات سندھ حکومت کو پیش کرے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کی جاسکے گی، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سرکاری محکموں، اداروں اور افسران کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت مرحوم میر رضا علی خان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور شفاف جوڈیشل انکوائری سے ان کے جائز خدشات کا ازالہ اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ نے میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دے دی ہے، فیصلے کی منظوری سرکیولیشن کے ذریعے سندھ کابینہ اراکین سے کروائی گئی۔

دوسری جانب میر رضا کے موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق میررضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے جیونیوز کو بتایا کہ کل صبح سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کررہے ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے خلاف عدالت میں درخواست جمع کرائیں گے، تحقیقات پر تحفظات سے متعلق وزیراعلی سندھ کو خط لکھا تھا، جبران ناصر کا کہنا تھا کہ واقعہ سے متعلق جے آئی ٹی بنائے جائے۔

قومی خبریں سے مزید