کراچی (اسٹاف رپورٹر) این ای ڈی یونیورسٹی میں کروڑوں کی کرپشن بے نقاب، چار مہنگی مشینیں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوسری جانب جامعہ این ای ڈی کے رجسٹرار ڈاکٹر غضنفر کا کہنا ہے کہ ایک مشین بننے گئی ہے، دوسری خریدی ہی نہیں گئی تھی جبکہ تیسری مشین واپس کردی گئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ فوڈ انجینئرنگ میں 5 کروڑ 71 لاکھ 73 ہزار 640 روپے مالیت کی 4 اہم مشینیں فزیکل ویری فکیشن کے دوران موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پی پی سی مشین کا ریکارڈ بھی برقرار نہیں رکھا گیا۔ مالی سال 2024-25ء کی لوکل آڈٹ رپورٹ میں سنگین انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے متعدد آڈٹ اعتراضات پر بھی تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ لوکل آڈٹ رپورٹ کے مطابق فزیکل ویری فکیشن کے موقع پر 2 کروڑ 18 لاکھ 24 ہزار 80 روپے مالیت کا کمپیوٹر کنٹرول ہائیڈروجینیشن یونٹ، ایک کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار 560 روپے مالیت کا کمپیوٹر کنٹرول ڈیوڈرائزنگ یونٹ، ایک کروڑ 9 لاکھ 90 ہزار روپے مالیت کا کنٹینیوس سائیکل آئل پروڈکشن پلانٹ اور 69 لاکھ روپے مالیت کا ایف ٹی آئی آر اسپیکٹرومیٹر شعبہ فوڈ انجینئرنگ میں دستیاب نہیں تھا۔ ان چاروں مشینوں کی مجموعی مالیت 5 کروڑ 71 لاکھ 73 ہزار 640 روپے بنتی ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ میں نہ تو مشینوں کی عدم دستیابی کی وجوہ بیان کی گئی ہیں اور نہ ہی اس کی ذمہ داری کسی افسر یا اہلکار پر عائد کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال کے بعد مشینری کی موجودگی، منتقلی یا گمشدگی کا تعین کرنے کیلئے باقاعدہ تحقیقات ضروری ہوگئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف اشیاء کی ٹیکسوں سمیت مجموعی لاگت درست طور پر ریکارڈ نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اس آڈٹ اعتراض کو بھی حل نہیں کیا گیا جس میں مین اسٹور کے قابلِ استعمال اشیاء کے اسٹاک رجسٹر میں مختلف کیمیکلز کی مقدار غلط درج ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ فیرک کلورائیڈ ہیکسا ہائیڈریٹ، امونیم ڈائی ہائیڈروجن فاسفیٹ اور سوڈیم سلفیٹ کی موصولہ مقدار ایک کلوگرام تھی، تاہم اسٹاک رجسٹر میں اسے صرف ایک گرام ظاہر کیا گیا۔ اس سنگین فرق کی تصحیح اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق بھی کوئی کارروائی سامنے نہیں آسکی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انرجی اسٹوریج ریسرچ لیبارٹری کے قابلِ استعمال اشیاء کے اسٹاک رجسٹر سے متعلق مالی سال 2022-23ء اور 2023-24ء کی آڈٹ آبزرویشنز پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اسی طرح کمپیوٹر لیبارٹری کے حوالے سے گزشتہ آڈٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ پیجنگ سرٹیفکیٹ پر لیبارٹری انچارج اور چیئرمین کے دستخط موجود نہیں تھے، لیکن یہ اعتراض بھی بدستور حل طلب ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی پی سی مشین کا ریکارڈ برقرار نہیں رکھا گیا۔ متعلقہ حکام کو مشین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرکے آڈٹ کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈیڈ اسٹاک کی ہر شے پر حوالہ نمبر یا ٹیگ لگانے اور مالی سال 2024-25ء کی اسٹاک ویری فکیشن رپورٹ تیار کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چیئرمین آفس میں موجود لکڑی کی 6 مطالعاتی کرسیاں بھی ڈیڈ اسٹاک رجسٹر میں درج نہیں کی گئیں، حالانکہ یہ کرسیاں 21 نومبر 2024ء کو مین اسٹور کے ڈیڈ اسٹاک رجسٹر سے جاری کی گئی تھیں۔ آڈٹ رپورٹ میں متعدد شعبوں کے ریکارڈ کو مناسب طور پر مرتب اور محفوظ رکھنے کی تصدیق بھی کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سامنے آنے والی بے ضابطگیاں عمومی انتظامی خامیوں کے بجائے مخصوص معاملات سے متعلق ہیں۔ اس لیے مشینری کی عدم دستیابی، ریکارڈ میں تضادات اور سابق آڈٹ اعتراضات پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری کا تعین ناگزیر ہوگیا ہے۔ جامعہ این ای ڈی کے رجسٹرار ڈاکٹر غضنفر نے کہا ہے کہ آڈٹ اعتراضات کے بعد فزیکل ویری فیکشن کرالی گئی ہے جسکے مطابق ایک مشین بننے گئی ہوئی ہے جبکہ دوسری مشین خریدی ہی نہیں گئی تھی جبکہ تیسری مشین واپس کردی گئی تھی۔