صدر ٹرمپ دنیا کیلئےامن کا پیغام لیکر برسراقتدار آئے تھے، مگر اقتدار ملتے ہی طاقت کے زعم میں انہوں نے ایک ایسی عالمی جنگ کی بنیاد رکھ دی جس کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، طاقتور میزائل اور ڈرون حملوں کا ایرانی قوم نے نہایت پامردی سے مقابلہ کیا، جس کی وجہ سے امریکہ وہ مقاصد حاصل نہ کرسکا جن کا خواب اس نے دیکھا تھا۔ الٹا اسے ناقابل تلافی جنگی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑے۔ ٹرمپ نوبل انعام حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر ناروے کی نوبل انعام کمیٹی اندھی نہیں تھی۔ اس نے یہ انعام نہ دے کر ٹرمپ کو دکھی کردیا، پھر ایران میں امریکہ کو جو ہزیمت اٹھانا پڑی اس سے دنیا بھر میں اس کی رسوائی ہوئی، اس جنگ کیخلاف پوری دنیا میں مظاہرے ہورہے ہیں، خود امریکہ میں ٹرمپ کی مقبولیت32 فیصد سے بھی نیچے گرگئی ہے۔ ٹرمپ نے عسکری فتوحات میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد اب ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کیا ہے اور دنیا کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران سے تجارتی لین دین کرے گا اسے سخت ترین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران پر ایسی سخت معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی جن کے بعد فوجی کارروائی کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔ یہ ایک معاشی جنگ کا آغاز ہے، جسے سب سے پہلے چین نے مسترد کیا ہے۔ چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی تباہی کا امریکی منصوبہ تنازعے کا حل نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تنازعے کے حل کے لیے فریقین کو مذاکرات کی طرف جانا ہوگا۔ کینیڈا ایک اور بڑا ملک ہے جسے ٹرمپ امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے کینیڈا کو زیر کرنے کیلئے معاشی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جنہیں کینیڈا کے وزیراعظم نے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ جو بھی پابندی لگائے گا اسی طرح کی پابندی ہم امریکہ پر لگائیں گے۔ مشرق وسطی کے ممالک نے جہاں امریکہ نے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ کے نتائج دیکھ کر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو اپنے اڈے ختم کردے، مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جارہا ہے۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ ایران کے خلاف جنگ کے اصل معمار ہیں، انہوں نے امریکی سینیٹ میں بیان کیا ہے کہ امریکہ کو ایران سے جنگ کے دوران 37.5ٹ ریلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور انتظامیہ مزید 1.5 ٹریلین ڈالر مانگ رہی ہے، جن میں سے 70بلین جنگ پر خرچ ہونگے، ان جنگی اخراجات کے خلاف امریکہ میں مظاہرے ہورہے ہیں اور مظاہرین کا مشترکہ نعرہ ہے ’’ہیگستھ کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں‘‘۔ امریکی اخبارات کے مطابق ٹرمپ کی معاشی جنگ کا پہلا شکار ایران نہیں خود امریکی منڈیاں ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ تین ہفتوں سے شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی بندش کے نتیجے میں تیل کی مالیاتی منڈیاں بے چینی کا شکار ہیں۔ امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے۔ امریکہ پر مجموعی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ جنگ سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام ٹرمپ کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ کینیڈا پر امریکہ نے 50فیصد ٹیرف بڑھا دیا ہے۔ کینیڈا نے اس کے جواب میں امریکی مصنوعات پر اتنا ہی ٹیرف لگا کر حساب برابر کردیا ہے۔ امریکہ کے جنگی اور معاشی اقدامات کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جارہے ہیں۔ پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی معاشی مسائل کا شکار تھا۔ ایران پر امریکی حملے اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں سے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، اس پر واجب الادا قرضوں کا حجم دسمبر 2025ء تک 81 ہزار 374 ارب روپے تک پہنچ گیا، حکومت نے قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے بانڈز کے ذریعے قرضوں کی ادائیگی اور اخراجات پورے کرنے کا پلان بنایا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ وفاقی حکومت کے ابتدائی 25ماہ کے دوران قرضوں میں 18832 ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق قرضوں میں اوسطاً روزانہ 22 ارب 40کروڑ روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امریکہ کی معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران نے بھی اپنا پلان مرتب کرلیا ہے، ایرانی قیادت نے اعلان کیا ہے جس طرح امریکہ کی فوجی مہم جوئی کا مقابلہ کیا گیا، اسی طرح معاشی پابندیوں کا بھی دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ جاری رہے لیکن امریکہ اور یورپی ممالک پر خاص طور پر سخت معاشی دبائو ہے۔ دوسرے ممالک بھی امریکی صدر کے فیصلوں کو عقل سے عاری قرار دے رہے ہیں۔ کوئی ملک ایران کے خلاف معاشی جنگ میں امریکہ کی مدد کیلئے شاید ہی آمادہ ہو، عالمی برادری کو اس صورت حال میں دوراندیشانہ سوچ اپنانا ہوگی اور امریکہ کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی، جس سے عالم انسانیت کو نقصان پہنچے۔